سردی میں اضافہ، انتظامیہ کو کوئی فکر نہیں 

Updated: December 23, 2021, 11:15 AM IST | Shamsher Aalam | Chapra

صبح اور شام گھنا کہرا چھایا رہتا ہے ،شہری اوردیہی علاقوں میں الائو کا انتظام تک نہیں، عوام برہم، کم سے کم درجۂ حرارت ۱۰؍ ڈگری پہنچ گیا ، شیلٹر ہوم میں بستر وں کے خالی ہونے کے باوجود لوگ سڑک کےکنارے فٹ پاتھ پر رات گزار رہے ہیں

Shelter: Cyclist in the morning fog and other .Picture:Inquilab
چھپرہ: صبح صبح کہرے کے درمیان سائیکل سوار اور دیگر تصویر:انقلاب

 بہار کے ضلع سارن میں گزشتہ اتوار کی شب سے سردی میں  غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے اور اس کا  اثربدھ کو جاری رہا۔ غنیمت  ہے کہ ہر روز دھوپ نکل جا رہی ہے جس سے دن کے وقت سردی سے کچھ راحت ہوتی ہے لیکن سورج  غروب ہونے کے ساتھ ہی سردی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گزشتہ اتوار کی شام سے درجہ حرارت معمول سے ۵؍سے ۷؍ ڈگری کم درج کیا جا رہا ہے۔ اتوار سے قبل ضلع میںکم از کم درجۂ حرارت   ۱۰؍ ڈگری او ر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت ۲۵؍ سے ۲۶؍ ڈگری درج کیا جا رہا تھا لیکن اتوار کی شام سے صبح اور دن کے درجہ حرارت کا فرق معمولی ہو گیا ہے جس سے سردی بڑھ گئی ہے۔  محکمۂ موسمیات کے مطابق بدھ کو کم از کم درجۂ حرارت۱۰ء۲؍ ڈگری او ر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت۲۰؍ ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔  سردی میں مزید اضافہ ہونے کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے سارن ضلع کیلئے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ضلع انتظامیہ کی جانب سے سردی سے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے تیاریاں نہیں کی جارہی ہیں۔ آئندہ  ۲۴؍ دسمبر تک ضلع میں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اب  سردی نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے، اس کے باوجود ضلع میں انتظامیہ کی جانب سے الائو کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے جس سے راہگیروں کے ساتھ ساتھ سڑک کے کنارے قیام کرنے والے غریبوں، بے سہاروںاور رکشہ ٹھیلہ والوں کو  پریشانی ہو رہی ہیں۔  عوام کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات نے  پہلے ہی الرٹ جاری کر دیا تھا کہ اس مرتبہ سخت سردی ہوگی۔ اس کے باوجودا نتظامیہ کی طرف سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ  کاغذوں ہی  پر  الائو کا انتظام ہے۔ ماہرین موسمیات  کے مطابق اس   کا امکان ہے کہ سردی میں مزید اضافہ ہو گا۔ لوگ سڑکوں کے کنارے سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے رات گزار  رہے ہیں، وہیں شیلٹر ہوم میں بستر خالی ہے۔ شہر میں غریبوں کو سہارا دینے کیلئے شیلٹر ہوم کا قیام کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے شیلٹر ہوم میں سہولیات کا فقدان ہے۔ محکمہ شہری ترقیات کی جانب سے صدر اسپتال میں غریبوںکیلئے شیلٹر ہوم تیار کیا گیا  لیکن  حقدار اپنے حق سے محروم ہیں۔ وہ  اسٹیشن، بس اڈے اور  فٹ پاتھ پر بھی  رات گزار ہے ہیں۔
 عوام کا کہنا ہے کہ تشہیر کی کمی کے سبب ایسے افراد صدر اسپتال میں بنائے گئے شیلٹر ہوم میں رہنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ دریں اثناء مزدوروں کا کہنا ہے کہ اگر سہولت ملتی تو سڑک پر رات گزارنے کے بجائے وہ شیلٹر ہوم میں قیام کرتے ۔ریاستی حکومت کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے محکمہ کی طرف سے بھی ضلع میں کمبل خریدنے کی ہدایت سے متعلق مکتوب ایک ہفتہ قبل ضلع انتظامیہ کو بھیجا گیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ نے کمبل نہیں خریدا۔ افسران کا کہنا ہے کہ گوپال گنج میں وزیر اعلیٰ کی آمد اور دیگر پروگرام ہیں، اس کے بعد ہی کوئی کوشش کی جائے گی۔ صدر اسپتال میںبنائے گئے شیلٹر ہوم میں محض ۵۰؍ افراد کے قیام کی  سہولت  ہے۔ کورونا وباء کے دوران باہمی دوری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ۵۰؍افراد کے سونے کا انتظام کرنا بھی مشکل ہے۔ شیلٹر ہوم سے وابستہ افرا د نے بتایا کہ رات میں سونے کے غرض سے کچھ لوگ آتے ہیں ۔ فی الحال شیلٹر ہوم پر لوگوں کی آمد کم ہو رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK