نوی ممبئی :پانی ضائع کرنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی اب خیر نہیں

Updated: November 30, 2022, 2:00 AM IST | Mumbai

شہری انتظامیہ نے ایک ماہ میںپانی کے۸۵۰؍ غیر قانونی کنکشن منقطع کردیئے اور۸۰؍ بوسٹرپمپ بھی ضبط کئے ۔شکایت ملنے پرایسی عمارتوں کاسروے کیاگیا جہاں ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کیا جارہا تھاجس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ ۷۰۰؍ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کومتنبہ بھی کیا گیا

Municipal officials are disconnecting illegal water connections.
میونسپل اہلکارپانی کے غیرقانونی کنکشن منقطع کررہے ہیں۔ (تصویر: انقلاب)

نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن (این ایم ایم سی) نے پانی کےغیرقانونی کنکشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیاہے اور اس ماہ ایسے ۸۵۰؍ کنکشن منقطع کردیئے۔ شہری انتظامیہ ایسی عمارتوں کا سروے کررہی ہے جہاں ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کیا جارہا ہے۔اس نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو پانی ضائع کرنے پر کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
 ایک میونسپل افسر کے مطابق شہر کے کئی علاقوں سے کم دباؤ سے پانی سپلائی کی شکایت مل رہی تھی۔ جب ہمارے افسران نے ان علاقوں کا دورہ کیا توغیرقانونی واٹر کنکشن کا پتہ چلاجس کےبعدان میں سے تقریباً۸۵۰؍کنکشن منقطع کردیئے گئے۔این ایم ایم سی کے سٹی انجینئر سنجے دیسائی نے اس بارے میں بتایا کہ ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیوں پربھی کارروائی ہوگی جہاں پانی کا بے جااستعمال ہوتا ہے۔
 شہری حکام نے۷۰۰؍ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کومتنبہ کیا ہے جوپانی کا مبینہ طورپر بے جایا زائداستعمال کررہی ہیں ۔ میونسپل افسر نے کہا کہ چند جگہوں پرہم نےبوسٹرپمپ پائے اوریہ بھی دیکھا کہ بیشتر سوسائٹیوں میں پینے کے پانی کا استعمال باغیچے میں پانی دینے اورکاروں کو دھونے کیلئے کیا جارہا  ہے۔ ہم نے انہیں متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ پینے کے پانی کو  ضائع کرنا بند نہیں کرتے ہیں تو ہم ان کے پانی کے بلوںمیں اضافہ کردیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں پانی کا پھر سےبے جا استعمال ہوتا پایا گیا ہے ،ہم ان تمام سوسائٹیوں کا دوبارہ دورہ کریں گے۔ اگر وہ اب بھی پانی ضائع کررہے ہیں تو ہم ان کے پانی کے بل کوکافی بڑھادیں گے۔
 نوی ممبئی کے مکینوں کو۴؍ روپے ۳۵؍ پیسے فی ہزار لیٹر کے حساب سے پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔
 نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے افسران اور عملہ نے واشی ، تربھے ، کوپر کھیرانے ، گھنسولی اور ایرولی کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے خاص طورپر گاؤٹھن اور جھوپڑپٹیوں میں غیرقانونی واٹرکنکشن پائے۔اس دوران کارروائی کرتے ہوئے ۸۰؍ بوسٹر پمپ ضبط کئے گئے۔
 شہری انتظامیہ ہر عمارت میں پانی سپلائی کرتا ہے اور ہرفرد کو روزانہ ۱۳۵؍ لیٹر پانی ملتا ہے ۔ یہ مانا گیا ہے کہ ہرگھر میں ۵؍ افرادرہتے ہیں۔ سڈکوکی عمارتوں میں ۳۰؍ ہزار لیٹر پانی ہر ماہ ۵۰؍ روپے کے نرخ سےسپلائی کیا جارہا ہے۔
 ممبئی کے ایک شہری نے اس تعلق سے کہا ہے کہ تمام میونسپل کارپوریشنوں کو چاہئے کہ وہ پانی ضائع کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔جنوبی ممبئی کی چالوں میں ہمیشہ پانی کی قلت رہتی ہے جبکہ ممبئی کے متعدد علاقوں میں پانی ضائع کیا جارہا ہے۔ یہی حالات دیگر شہروں میں بھی ہیں۔ اس لئے تمام شہری حکام کواسی طرح کی کارروائی کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK