اب ایم ایس پی کسانوں کی تحریک کا محور

Updated: November 21, 2021, 7:59 AM IST | new Delhi

آج سنگھو بارڈر پر تمام کسان تنظیموں کی میٹنگ ، احتجاج کی حکمت عملی طے ہوگی ، ۲۶؍ نومبر کو بڑے احتجاج کی تیاری ، مظاہرین سے اپیل

Farmer leaders Darshan Pal and Yogendra Yadav talking to media after meeting of farmers` organizations. (PTI)
کسان لیڈران درشن پال اور یوگیندر یادو کسان تنظیموں کی میٹنگ کےبعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔(پی ٹی آئی )

تینوں متنازع زرعی قوانین واپس لینے کے مرکزی حکومت کے فیصلے   کے بعد  بی جے پی اور اس کے حامیوں کو امید تھی کہ اب کسان رام ہو جائیں گے لیکن کسانوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے دیگر مطالبات منواکر ہی دہلی کی سرحدوں کو خالی کریں گے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کسان تنظیموں نے یہ اپیل جاری کردی ہے کہ ۲۶؍ نومبر کو کسانوں کے احتجاج کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پورے ملک کے کسان مظاہرہ گاہوں پر پہنچیں اور اتحاد کا ثبوت دیں۔ دوسری طرف اس معاملے میں کسانوں کی تنظیموں کی اتوا ر کو سنگھو بارڈر پر اہم میٹنگ ہونے والی ہے جس میں آنے والے دنوں میں احتجاج کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
کسانوں کی میٹنگ 
  زرعی قوانین کی منسوخی کو بہت تاخیر سے اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے کسانوں نے حکومت  سے اب پیداوار کی کم از کم  امدادی قیمت(ایم ایس پی) کو یقینی بنانے کا قانون بنانے اور تحریک میں شامل ہونے والے کسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سنیکت کسان مورچے کی اتور کو سنگھو بارڈر پر میٹنگ ہونے والی ہے جس میں کسانوں کی تقریباً تمام تنظیمیں شامل ہوں گی ۔ اس میٹنگ میں آگے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی اور حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کئے جائیں گے ۔ اس بارے میں کسان لیڈر درشن پال نے کہا کہ مودی حکومت نے بھلے ہی متنازع زرعی قوانین واپس لے لئے ہیں لیکن ان کے پارلیمنٹ میں رد ہونے تک کا ہم انتظار کریں گے ۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا مطالبہ ایم ایس پی کا بھی تھا جس پر وزیر اعظم نے ایک لفظ نہیں کہا ہے ۔ اسی لئے اب ہمارا مطالبہ ایم ایس پی کا قانو ن بنانے کا ہو گا ۔ اس پر حکومت جتنی جلد مان جائے گی اتنی ہی جلدی ہم واپس جائیں گے ۔
۲۶؍ نومبر کو بڑی تعداد میں پہنچنے کی اپیل 
 سنیکت کسان مورچہ نے  یہ اعلان بھی کیا کہ نہ ان کا احتجاج ختم ہوا ہے اور نہ وہ واپس جارہے ہیں بلکہ انہوں نے ملک بھر کے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ۲۶؍ نومبر کو  جب  احتجاج کو ایک سال مکمل ہو جائے تو  وہ بڑی تعدادمیں مظاہرہ گاہوں پر پہنچیں۔ کوشش کی جائے کہ دہلی کی سرحدوں پر پہنچیں تاکہ یہاں پروگرام منعقد کئے جاسکیں اور کسانوں کے اتحاد کا مظاہرہ کیا جاسکے۔ کسان مورچہ نے خاص طور پر شمالی ہند کی ریاستوں کے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ ۲۶؍ نومبر کو پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت دہلی کی تینوں سرحدوں پر پہنچنے کی کوشش کریں کیوں کہ انہوں نے اپنا کوئی بھی پروگرام یا احتجاج منسوخ نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ ۲۲؍ نومبر کو بھی کسانوں نے احتجا ج کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لئے بھی اتوار کو ہونے والی میٹنگ میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے بھلے ہی ان کا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے لیکن وہ اپنے تمام پروگرام مکمل کریں گے ۔
روزانہ ٹریکٹر مارچ نکالا جاسکتا ہے 
 کسانوں نے زرعی قوانین کی منسوخی کے اعلان کے باوجود اپنے پہلے سےطے شدہ پروگراموں کو تبدیل نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے پر روزانہ دہلی کی تینوں سرحدوں سے پارلیمنٹ کیلئے ٹریکٹر مارچ کرنے کا ان کا منصوبہ اب بھی برقرار ہے ۔ وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں بلکہ اس کے لئے کسانوں کی تربیت کررہے ہیں۔ کسان تنظیموں کے مطابق یہ ٹریکٹر مارچ ۱۰۰؍ سے۲۰۰؍ ٹریکٹروں کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ کسی دن ان کی تعداد ۵۰۰؍ کردی جائے گی۔  
پرینکا گاندھی کا وزیر اعظم مودی کو خط 
  کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے ایک طرف مرکزی حکومت کے قوانین واپسی کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا وہیں دوسری طرف وزیر اعظم مودی کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے لکھیم پور کھیری واقعہ کے متاثرین کو انصاف فراہم دلانے کا مطالبہ کیا۔پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم کو ارسال کئے گئے مکتوب کو ٹویٹر پر بھی شیئر کیا ہے۔  پرینکا گاندھی نے لکھا کہ ’’نریندر مودی جی اگر ملک کے کسانوں کے تئیں آپ کی نیت حقیقتاً صاف ہے تو آج اپنے مرکزی وزیر مملکت کے ساتھ اسٹیج پر براجمان مت ہوئیے، ان کو برخاست کیجئے۔‘‘وزیر اعظم کو ارسال کئے گئے خط میں پرینکا  نے کہا کہ کل آپ نے تین سیاہ قوانین کو کسانوں پر مسلط کرنے کے ظلم کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں واپس لینے کا اعلان کیا جبکہ لکھیم پور کے کسانوں کے قتل عام کو پورے ملک نے دیکھا۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کسانوں کو اپنی کار سے کچلنے کا کلیدی ملزم آپ کی حکومت میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا بیٹا ہے۔ سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس معاملے میں اتر پردیش حکومت نے شروع سے ہی انصاف کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ آپ ملک کے وزیر اعظم ہیں، آپ کو ملک کے کسانوں کے تئیں اپنی ذمہ داری کا بخوبی احساس ہوگا۔اگر یہ سچ ہے تو لکھیم پور کسان قتل عام کے متاثرین کو انصاف دلانےکیلئے ملک بھر میں کسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لیں ، اجے مشرا کو برطرف کریں اور  تمام شہید کسانوں کے لواحقین کو مالی امداد فراہم کریں۔

 

kisan msp Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK