اسکولی پروجیکٹ کی بڑھتی تعداد سے طلبہ کے ساتھ سرپرست بھی پریشان

Updated: September 23, 2022, 9:55 AM IST | saadat khan | Mumbai

طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوںکو نکھارنے اور بڑھانے کیلئے پروجیکٹ بنو انا ضروری ہے،محکمہ تعلیم کی جانب سےسال میں ۲؍بار پروجیکٹ بنوانے کی رہنمایانہ ہدایت ہے مگرشکایت ہے کہ ان دنوں متعدد اسکول ایک مہینے میں کئی کئی پروجیکٹ بنوا رہے ہیںجس سے طلبہ اور والدین پر مالی بوجھ پڑرہاہے ۔ اتنا ہی نہیں پروجیکٹ کی تیاری میں طلبہ کے ساتھ والدین کا بھی وقت صرف ہورہا، جس سے سرپرستوں میں ناراضگی ہے

Students are given tasks like this in a school project. (File Photo)
طلبہ کو اسکول پروجیکٹ میں اس طرح کے کام کرنے کے لئے دئیے جاتے ہیں۔(فائل فوٹو)

تعلیم کیساتھ بچوں میں پنہاں دیگر صلاحیتوں کواُجاگر کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کیلئے اسکولوںمیں پڑھائی  کےساتھ غیر تعلیمی سرگرمیاں مثلاً ان سے پروجیکٹ اورماڈل وغیرہ بنوائے جاتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ وہ دیئے گئے ہدف کےمطابق اپنے طورپر پروجیکٹ بنانے کی کتنی  صلاحیت رکھتےہیں۔بچوںکی تخلیقی خوبیوںکو اُجاگر کرنے کیلئے یہ ضروری ہےمگر ان دنوں متعدد اسکول  پروجیکٹ کے نام پر طلبہ اور والدین پر جو مالی بوجھ ڈال رہےہیں،  وہ مناسب نہیں ہے۔ساتھ ہی پروجیکٹ کی تیاری میں طلبہ کے ساتھ والدین کا بھی وقت صرف ہورہاہے، جس سے سرپرستوں میں ناراضگی ہے۔ 
 پروجیکٹ سے متعلق محکمہ ٔ  تعلیم کی ہدایت کیا ہے؟
 محکمہ تعلیم نے کنٹنیوس کامپرہینسیو اِ ویلیویشن ( مسلسل جامع قدر پیما ئی )پالیسی کے تحت طلبہ کی قدر پیمائی کا نیاخاکہ پیش کیاہے۔ اس پیٹر ن کے تحت اساتذہ کو طلبہ کی قدر پیمائی کیلئے ۸؍ ٹول دیئے گئے ہیں۔ان میں جماعت میں کئے جانےوالا عملی کام،تجربہ ،مظاہرہ،کلاس میں پیش کی جانےوالی کارکردگی،کلاس میں اچانک لیا جانے والا ٹیسٹ اور پروجیکٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام کے ذریعہ  طلبہ کی قدر پیمائی کی جاتی ہے۔ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے تحریری امتحان کی رو ایت کو برقرار رکھا ہےمگر اس کے نمبرات کم کردیئے ہیں۔ مثلاً اوّل جماعت میں ۷۰؍مارکس مسلسل جامع قدرپیمائی کے ہوںگے۔ جبکہ تحریری اور زبانی امتحان کیلئے صرف ۳۰؍ مارکس دیئے گئےہیں۔پروجیکٹ سال میں ۲؍مرتبہ کروانا لازمی ہے۔ پروجیکٹ کا بنیادی مقصد موٹر اسکیل( موثر طورسے خوبیوں کو اُجاگر کرنا) یعنی بچے اپنے ہاتھ ، آنکھیں اور ذہن کوایک جگہ مرکوز کرکے کام کرسکتے ہیں یا نہیں ،یہ جاننا ہوتاہے۔ اس کے ذریعے اس کی ذہنی استعداد، صلاحیت اور خوبیو ںکی جانچ کی جاتی ہے۔بچےکے اندر کی صلاحیتوں کو نکھارنا مقصد ہے۔
 طلبہ اور والدین کی شکایتیں! 
 کووڈ اورلاک ڈائون سےتقریباً ۲؍سال تک آف لائن تعلیم سےدور رہنےوالےطلبہ کی پڑھائی معمول کےمطابق شروع ہوئے ۳؍ماہ ہوئےہیں۔ ابھی باضابطہ آف لائن پڑھائی کاآغازہی ہوا ہے۔ ایسےمیں بالخصوص نجی اسکولوں کے طلبہ کو بار بار پروجیکٹ بناکر لانےکی ہدایت دیئے جانے سے طلبہ اور سرپرست پریشان ہیں۔ کوروناکی وباء سے ایک تو بیشتر افراد معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔دوسرے یہ کہ اسکول  ایک مہینے میں کم ازکم ۲؍پروجیکٹ بنا کرلانےکی ہدایت دے رہے ہیں ۔ جن پر تقریباً ۲۰۰تا۳۰۰؍سوروپے خرچ ہوجاتےہیںجواسکول کی ایک مہینے کی فیس برابر ہے ۔طلبہ کو جس طرح کے پروجیکٹ دیئے جاتےہیں وہ ان کی صلاحیت اور استعداد کےمقابلے مشکل ہوتے ہیں۔ اس لئے والدین کوپروجیکٹ بنانےمیں طلبہ کی مدد کرنا پڑتی ہے۔ جس سے والدین کا پیسہ اور وقت دونوں صرف ہورہاہے۔
 جنوبی ممبئی کے  ایک معروف اسکول کی ۸؍ویں جماعت کی طالبہ کی والدہ نے بتایاکہ ’’ میری بیٹی کے  اسکول میں ہرماہ  کم ازکم ۲؍پروجیکٹ بنانےکیلئے کہاجاتاہے۔ پروجیکٹ بنانےکیلئے عموماً کارڈ بورڈ ،چارٹ، پرنٹ آئوٹ اور زیروکس وغیرہ کرانےکی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر پروجیکٹ، ماڈل پر مبنی ہوتو بال، روئی، مارکر، چمکی ،’زیلیٹنگ‘ پیپر ،چھوٹے بلب اور دیگر اشیاء کاانتظام کرنا پڑتاہے۔ چارٹ کی قیمت ۵تا ۱۰؍روپے، فی پرنٹ آئوٹ کے۱۰؍روپے ، ایک پروجیکٹ کیلئے ۵۔۶؍ پرنٹ آئوٹ نکالنا پڑتاہے۔ایک پروجیکٹ پر تقریباً سوسے ڈیڑھ سو روپے خرچ ہوتےہیں۔ اگر مہینے میں ۲؍پروجیکٹ بنائے جاتے ہیں توان پر تقریباً ۳۰۰؍روپے خرچ ہوجاتےہیں۔ جو اسکول کے ایک مہینےکی فیس کےبرابر ہوتےہیں۔ فیس اورپروجیکٹ کےعلاوہ بھی کبھی کسی کتاب تو کبھی کسی گائیڈ کیلئے اسکول سے پیسے منگوائے جاتے ہیں۔ معاشی مندی سے ویسے بھی بڑی پریشانی ہے۔ کاروبار متاثر ہونےسے بنیادی اخراجات پورے نہیں ہورہےہیں۔ اس پر اس طرح کے خرچ سے مشکلیں بڑھ جاتی ہے۔ ‘‘
’’ہم پروجیکٹ کے خلاف نہیں لیکن....‘‘
 ایک سوال کے جواب میں انہوںنےکہاکہ ’’ ہم پروجیکٹ بنانےکے خلاف نہیں ہیں ۔ بچوںکی صلاحیت بڑھانےکیلئے پروجیکٹ بنوایاجاتاہے۔ یہ اچھی بات ہے لیکن مہینےمیں ۲۔۳؍ کےبجائے اگر ایک پروجیکٹ بنوایا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بچوںکو ان کی سطح اور صلاحیت کی مناسبت سے پروجیکٹ دینا چاہئے ۔ حالانکہ میری بیٹی ذہین ہے وہ خود پروجیکٹ بنا لیتی ہے مگر ابتدائی جماعت میں پروجیکٹ بنانےمیں مجھے اس کی مدد کرنی پڑتی تھی۔ لیکن میں دیکھتی ہوں کہ متعدد طلبہ پروجیکٹ نہیں بناپاتےہیں ،ان کی مائیں ان کا پروجیکٹ بناتی ہیں ۔ جس سے اس کام کا مقصد فوت ہوجاتاہےکیونکہ پروجیکٹ طلبہ کی صلاحیت اُجاگرکرنےکیلئے بنوایا جاتاہے مگر ان کےبجائے ان کے والدین پروجیکٹ بناتےہیں۔‘‘
’’پروجیکٹ کیلئے ایک ہزارروپے کے موتی منگوائے گئے‘‘
 تھانےکی ضلع پریشد اسکول کے دسویں جماعت میں زیر تعلیم ایک طالب علم کے بھائی نے بتایاکہ ’’میرے والد پھیری کرکے بمشکل ۳۰۰؍تا ۴۰۰؍ روپےیومیہ کماتے ہیں۔ ممبرا میںکرائے کےمکان میں ہم لوگ رہتےہیں۔ والد کے علاوہ گھر میں کوئی اور کمانے والا نہیں ہے ۔ بڑی مشکل سے گزربسر ہورہاہے۔ گزشتہ دنوں میرے بھائی سے اسکول والوںنے ۸۰۰؍ موتی لانےکیلئے کہا۔ پہلے تو ہم لوگ ٹالتے رہے ۔لیکن بعد میں اسکول والوںکا دبائو بڑھتا گیاتو معلوم ہوا کے ریاضی کا کوئی پروجیکٹ بنانا ہے۔ ان موتیوں پر حرفو ں سے کچھ لکھنا ہے۔ میرے بھائی کے علاوہ اس کی جماعت کے سبھی ۳۵؍ طلبہ سے موتی منگو ائے گئے۔ موتی نہ لے جانے کے صو رت میں کلاس ٹیچرنے مارکس کاٹنے کی دھمکی تک دے دی تھی۔ اسکول کےمتواتر دبائو سے پریشان ہوکر ایک ہزارروپے کے ۸۰۰؍ موتی خرید کرجب بھائی لے گیاتو اسکول والوں نے کہاکہ موتی چھوٹے ہیں ۔ بڑے سائز کے موتی لائو ۔ بڑی منت سماجت کےبعد اسکول والوں نے یہ موتی رکھ لئے ۔ اب ان موتیوں کا کیاکیاجائے گا ، ا س کا علم نہیں ہے۔ لیکن جس طرح پروجیکٹ کے نام پر غریبوں کو اسکول والے پریشان کررہےہیں ،یہ اچھا نہیں ہے۔ ‘‘
’’ایسالگتا ہے کہ پروجیکٹ بچوں کے لئے نہیں سرپرستوں کے لئے ہوتاہے‘‘
 ملاڈ کی ایک سرپرست نےکہاکہ’’ٹیچر جو پروجیکٹ دیتےہیں مجھے لگتاہے کہ وہ پروجیکٹ بچوں کیلئے نہیں سرپرستوں کیلئے ہوتاہے۔ کیونکہ بچے تو ان پروجیکٹ کو کم بناتےہیں بلکہ سرپرستوںکو ہی یہ پروجیکٹ بناناپڑتاہے۔ جس سے سرپرستوںکی پریشانی بڑھتی ہے۔کوئی سرپرست اچھاپروجیکٹ بناتاہےتو دیگر بچے اپنے سرپرستوں سے شکایت کرتےہیں کہ ہمارا پروجیکٹ اچھا نہیں بناتھا۔ اگر سرپرست ملازمت پیشہ ہوتو ان کیلئے پریشانی اور بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ روزانہ کے طے شدہ پروگرام میں دن کےاوقات میں سرپرست کیلئے پروجیکٹ بنا نا مشکل ہوتاہے۔ایسےمیں وہ رات کو وقت نکال کر پروجیکٹ اس لئے بناتےہیں تاکہ ان کے بچے احساس کمتری میںمبتلانہ ہوں۔اس لئے مجھے ایسا محسو س ہوتاہےکہ ٹیچر کو جوبھی پروجیکٹ بنوانا ہے وہ اسکول میں کلاس کےدوان بنوائیں اس سے بچے سیکھیں گے بھی اور پروجیکٹ میں شامل بھی رہیں گےعلاوہ ازیں سرپرستوںکو پریشانی نہیں ہوگی۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK