دہلی فساد کیس میں پولیس کی پھر سرزنش، کورٹ نے کہا کہ پہلے وہ خود طے کرلے کہ کرنا کیا ہے؟

Updated: October 14, 2021, 8:29 AM IST | new Delhi

آپسی تال میل میں کمی پر اسپیشل کمشنر آف پولیس کی توجہ مبذول کرائی، متنبہ کیا کہ مقدمہ کی کارروائی اس طرح نہیں چلائی جاسکتی

Delhi High Court.picture:Inn
دہلی ہائی کورٹ تصویر آئی این این

دہلی فساد کے معاملوں میں پولیس کے طرز عمل پر  شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے منگل کو ایس ایچ او  سمیت کئی اہلکاروں کی سخت سرزنش کی۔ پولیس اہلکاروںکی  آپسی تال میل کی کمی کاحوالہ دیتے ہوئے کورٹ نے متنبہ کیا کہ مقدمہ اس طرح نہیں  چل سکتا۔ اس کے ساتھ ہی کورٹ نے فساد کےمعاملات پر نظر رکھنے کیلئے بنائی گئی خصوصی ٹیم کے سربراہ اسپیشل کمشنر آف پولیس ڈویژن  ایک (نظم ونسق) کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائی۔ عدالت نے انہیں تفتیش کاروں اور استغاثہ کے درمیان ضروری کور آرڈنیشن کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
  کورٹ نے جس معاملے میں پولیس پر برہمی کااظہار کیا وہ اُس ایف آئی آر سے متعلق ہے جس میں ملزمین کو تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۴۷،۱۴۸، ۱۴۹،۴۲۷؍ اور ۴۳۶؍  کے تحت ملزم بنایاگیاہے۔استغاثہ نے اس معاملے  کو اس بنیاد پر میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ میں منتقل کرنے کی عرضی داخل کی تھی کہ اس  میں دفعہ ۴۳۶(گھر وغیرہ کو تباہ کرنے کے مقصد سے بدنیتی کے  ساتھ آگ یا آتشیں مادہ کا ستعمال) کے تحت کوئی کیس نہیں بنتا۔ایس ایچ او اور دیگر دو افسران کی جانب سے کورٹ کو یہ اطلاع دینے کےبعدکہ  وکیل استغاثہ موجو د نہیں ہے، کورٹ نے پولیس سے استفسار کیا کہ وہ مقدمے کے اتنے آگے بڑھ جانے کے بعد وہ اس کے تبادلے کا مطالبہ کیسے کرسکتے ہیں جبکہ پہلے وہ اس الزام کی مخالفت بھی کرچکے ہیں۔ 
 ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او سے سوال کیا کہ ’’کیا یہ درخواست آپ ہی نے  نہیں داخل کی ؟ کیا یہ سب مذاق  ہے؟ کیا ملزم کو پولیس تحویل میں لینا مذاق ہے؟ آپ کو خود ہی  پتہ نہیں ہے کہ آپ کو کیا کرنا ہے؟ دفعہ ۴۳۶؍ کا اطلاق کب کیا گیا؟  کیااس ایف آئی میں دفعہ ۴۳۶؍ کا جواز موجود ہے؟‘‘ڈانٹ ڈپٹ کے بعد پولیس نے  عرضی واپس لینے کی خواہش ظاہر کی  توکورٹ نے کہا کہ ’’آپ نے ضمانت کی مخالفت کی اور چارج شیٹ داخل کردی۔ آپ تینوں افسر پہلے خود یہ فیصلہ کریں کہ کرنا کیا ہے۔ آپ کا موقف ایک گھنٹے میں ہی بدل گیا؟‘‘اس کے بعد کورٹ نے   اس بات کوریکارڈ میں لے لیا کہ افسران خود ہی کنفیوزڈ ہیں۔پہلے انہوں نے عرضی داخل کی کہ دفعہ ۴۳۶؍ کا معاملہ نہیں بنتا،اور اس بنیاد پر کیس کی منتقلی کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر خصوصی وکیل استغاثہ سے گفتگو کرنے کے بعد عرضی کو واپس  لینے کی بات کرتے ہیں۔ کورٹ نے دوٹوک 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK