بجلی کا بحران برقرار، عوام کو کوئی راحت نہیں

Updated: May 06, 2022, 9:31 AM IST | new Delhi

کوئلہ سپلائی کیلئے ۲۴؍ مئی تک مزید ٹرینوں کی منسوخی کا امکان ،کئی شہروں میں ۲؍ سے ۶؍ گھنٹے بجلی کٹوتی ، گرمی بڑھنے پر حالات اور خراب ہوں گے

Lack of coal supply has created power crisis in the country which every effort is being made to overcome.
کوئلہ سپلائی میں کمی کی وجہ سے ملک میں بجلی کا بحران پیدا ہو گیا ہے جسے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے

ملک میں بجلی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے جس کی وجہ سے کئی شہروں میں ۲؍ سے ۶؍ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ ہر چند کہ ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی اس سے متاثر نہیں ہوئی ہے لیکن  یہ امکان ہے کہ اگر ممبئی میں بجلی کی ڈیمانڈ مزید بڑھی تو یہاں بھی بجلی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ممبئی میں اس وقت بجلی کی ڈیمانڈ ۳۷۰۰؍ میگا واٹ سے زیادہ ہے لیکن اگر یہ۴۲۰۰؍ میگاواٹ تک پہنچتی ہے تو پھر شہریوں کو بجلی کٹوتی کے لئے تیار رہنا ہو گاکیوں کہ مرکزی بجلی ایکسچینج نے۳۸۰۰؍ میگاواٹ سے زیادہ بجلی کسی بھی پاور ایکسچینج کو دینے پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ ملک کے تمام خطوں کو بجلی برابر مل سکے۔
 دوسری طرف ریلوے نے پاور پلانٹس میں کوئلے کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے  اپنی کئی اور ٹرینیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹرینیں ۲۴؍ مئی تک منسوخ رہ سکتی ہیں۔ ان کی جگہ پر ریلوے مال گاڑیاں چلائے گا تاکہ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ کوئلہ پاور پلانٹس تک پہنچایا جاسکے۔ اس تعلق سے ریلوے نے وضاحت کی ہے کہ ملک میں بحران کو دیکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر کوئلے کی مال گاڑیاں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسی کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت پٹریوں پر مال گاڑیاں چلائی جائیں گی۔ 
  دوسری طرف ملک گیر کوئلے کے بحران کے پیش نظراین ٹی پی سی لمیٹڈ کی مکمل ملکیت والی کمپنی این پی جی سی نے اضافی کوئلے کی دستیابی کیلئے احتیاط برتتے ہوئے پانچ لاکھ ٹن کوئلے کا آرڈر دیا ہےجو بہار اور اطراف کے علاقوں کے لئے سپلائی کیا جائے گا۔ این پی جی سی کی پہلی کوشش اس کے دو یونٹوں سے ۸۵؍ فیصد سے زیادہ بجلی پیدا کرنا ہے، کیونکہ اگر پیداوار کی مقدار اس سے کم ہے تو یہ پروجیکٹ اپنی تنصیب کی لاگت کو بھی پورا نہیں کر سکتا۔  دریں اثناء، جھارکھنڈ اور سکم نے پروجیکٹ کی پہلی اور دوسری اکائیوں سے ان کے  لئے الاٹ کردہ بجلی کا اپنا کوٹہ سرینڈر کر دیا ہے۔ اب جھارکھنڈ اور سکم کی بجلی گجرات کو فراہم کی جائے گی۔ تیسری یونٹ میں ان دونوں ریاستوں کی حصہ داری پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی بجلی کا ۸۵؍فیصد بہار کو ملے گا ، اتر پردیش کو ۱۰؍ فیصد اور باقی چار فیصد جھارکھنڈ اور ایک فیصد سکم کو دیا جائے گا  جو اس نے سرینڈرکر دیا ہے جس کے سبب گجرات کو اب یہ ۵؍ فیصد بجلی مل رہی ہے۔ 
 مرکزی حکومت نے بھی اس معاملے میں قدم اٹھاتے ہوئے کوئلے کی سپلائی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پاور پلانٹس میں گیس سپلائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بجلی کی ڈیمانڈ کو کسی بھی قیمت پر پورا کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکز نے اس کی اجازت دے دی ہے جس کے تحت ٹورینٹ پاور اور گیس اتھاریٹی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ایل این جی کا استعمال بجلی کی پیداوار میں کیا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ بجلی نہایت مہنگی پڑسکتی ہے کیوں کہ ایل این جی  کی شرح بھی کافی زیادہ ہے اور اس کا استعمال بجلی کی پیداوار میں کرنا اور بھی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK