پارلیمنٹ میں تینوں زرعی قوانین کی باقاعدہ منسوخی

Updated: November 30, 2021, 8:24 AM IST | new Delhi

کسانوں کی شاندار فتح ، بقیہ مطالبات کی منظوری کیلئے حوصلے بلند، حکومت کا جوابدہی سے گریز، بحث نہیں ہونے دی، لوک سبھا میں صرف ۴؍ منٹ میں بل منظور کروالیا

The bill was introduced in the Lok Sabha at 12:06 a.m. and passed by voice vote at 12:10 a.m. during opposition protests. (PTI)
لوک سبھا میں بل ۱۲؍ بجکر ۶؍ منٹ پر پیش کیاگیا اور اپوزیشن کے احتجاج کے دوران ۱۲؍ بجکر ۱۰؍ منٹ پر صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔(پی ٹی آئی)

کسانوں کے سال بھر کے احتجاج کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے مودی سرکار  نے پیر کو سرمائی اجلاس کے پہلے ہی دن  انتہائی جلد بازی میں تینوں زرعی بل منظور کرالئے۔  لوک سبھا میں بل ۱۲؍ بجکر ۶؍ منٹ پر پیش کیاگیا اور بحث کے مطالبوں کے بیچ ۱۲؍ بجکر ۱۰؍ منٹ پر صورتی ووٹوں سے منظورکرالیاگیا۔اسی طرح راجیہ سبھا میں  بھی آدھے گھنٹے میں  زرعی قوانین کی منسوخی کا بل منظور کرالیاگیا۔ اس خبر کے لکھے جانے تک صدر جمہوریہ نے مذکورہ بل پر دستخط نہیں کئے مگر قوی امکان ہے کہ پیر کو ہی صدر کی منظوری بھی حاصل کرلی جائے گی۔ لوک سبھا میں  بل پیش کئے جانے سے لے کر راجیہ سبھا میں اس کی منظوری تک مشکل سے ۲؍ گھنٹے کا وقت لگا۔ 
 اپوزیشن  بحث کیلئے چیختا ہی رہ گیا
 مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے `زرعی قوانین کی منسوخی بل۲۰۲۱ء پیش کرتے ہوئے  اس پر بحث کی ضرورت سے انکار کیا۔ انہوں  نے کہا کہ اپوزیشن سال بھر سے ان قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کررہی تھی، اب حکومت انہیں  منسوخ کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کی منسوخی کا اپنا وعدہ وزیراعظم نے وفا کردیا ہے اور  پارلیمانی اجلاس کے پہلے ہی دن منسوخی کا بل پیش کردیاگیا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مودی نے اس معاملے میں کشادگی ٔ قلب کا مظاہرہ کیا ہے تومر نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ کسی بحث کے بغیر منسوخی بل کو پاس کرنے میں مدد کرے۔ اپوزیشن  لوک سبھا میں ایم ایس پی کی قانونی ضمانت،  مہلوک کسانوں کے اہل کانہ کو معاوضہ اور دیگر امور پر بحث کا مطالبہ کرتا رہا ہےاور اسپیکر نے صوتی ووٹنگ کراکر بل کو منظور کرلیا۔ انہوں نے جواز پیش کیا کہ چونکہ اپوزیشن کےا راکین چاہ ِ ایوان میں آکر احتجاج کررہے ہیں  اور ایوان میں نظم نسق ٹھیک نہیں  ہے اس لئے بحث نہیں کرائی جاسکتی۔  جس وقت بل   پر ووٹنگ کرائی گئی، ٹی ایم سی  کے اراکین چاہ ایوان  پر پہنچ کر  اور کانگریس کے اراکین اپنی جگہ پر کھڑے ہوکر احتجاج کررہے تھے۔ 
 راجیہ سبھا میں منسوخی سے قبل ۲؍ منٹ کا وقت ملا
  راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر کے وقفہ کے بعد جیسے ہی شروع ہوئی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے زرعی قوانین منسوخی بل ۲۰۲۱ء پیش کردیا جس پر ڈپٹی چیئرمین ہرش وردھن نے کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے کواس پر بولنے کیلئے ۲؍ منٹ کا وقت دیا۔ کھرگے اپنی گفتگو کے دوران اس رائے کے حامل تھے کہ مودی حکومت یوپی سمیت ۵؍ ریاستوں میں  کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ان  قوانین کو منسوخ کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔  انہوں  نے سال بھر کے آندولن کے دوران ۷۰۰؍  کسانوں کی اموات کا بھی معاملہ اٹھایا۔ ۲؍ منٹ گزرنے کے بعد بھی ان کی تقریر جاری رہی تو نائب چیئر مین نے تومر کو بل کو منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت دیدی جس کے بعد بل کو یہاں  بھی صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔ 
 بقیہ مطالبات پر حکومت کو آج تک کا وقت
     پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کی منسوخی کو کسانوں کی شاندار فتح قرار دیتے ہوئے مشترکہ کسان مورچہ نے حکومت کو دیگر مطالبات پر جواب  دینے کیلئے منگل ۳۰؍ نومبر تک کا وقت دیا ہے۔   

 متنازع زرعی قوانین کی منسوخی کے بعد اپنے ۶؍دیگر کلیدی  مطالبات کی منظوری پر زور دیتے ہوئے ۳۲؍ کسان تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے مشترکہ کسان مورچہ  کے لیڈروں نے سنگھو بارڈر پر پریس کانفرنس کرکے کہا ہے کہ مرکز  کے پاس ان مطالبات کی منظوری کیلئے منگل تک کا وقت ہے۔ زرعی قوانین کی منسوخی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ’’یہ ہماری فتح  ہے، ہم آندولن کے دوران کسانوں پر  جو مقدمات درج ہوئے ہیںان کی واپسی اور ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کیلئے کمیٹی کی تشکیل چاہتے ہیں۔‘‘ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کسان لیڈر نے کہا ہے کہ ’’حکومت کے پاس  ہمارے مطالبات پر جواب دینے کاکل (۳۰؍ نومبر) تک کا وقت ہے۔ ہم نے آگے کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے بدھ کو اپنی ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK