جی آر جاری ہونے تک ٹیچروں کا احتجاج ختم نہ کرنے کا فیصلہ

Updated: November 23, 2022, 9:37 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

ٹیچروں کی تنظیم نے جزوی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھرنا ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔جی آرجاری کرنے میںتاخیرپراحتجاج میںشدت کاانتباہ

Despite the government`s assurance, the teachers are continuing their sit-in at Azad Maidan.
حکومت کی یقین دہانی کے باوجود اساتذہ آزاد میدان پر دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

غیر امدادی اسکولوںکے ہزاروں اساتذہ گرانٹ اور دیگر تعلیمی و مالی مسائل کےتئیں حکومت کو متوجہ کرنے کے لئے ۴۶؍ دنوںسےآزاد میدان میںدھرنا د یئے ہوئے ہیں۔ اس وقت آزاد میدان میں اساتذہ کی پہلے جیسی بھاری جمعیت موجود نہیںہے لیکن دھرنا بہرحال جاری ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ۱۱۶۰؍کروڑ روپے ان اساتذہ کی مدد کے لئے منظور کرنے کا حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا لیکن اساتذہ اس پرمطمئن نہیںہیں بلکہ وہ یہ چاہتے ہیںکہ حکومت اس کے تعلق سےجی آر جاری کردے تاکہ یہ یقین دہانی اوراعلان حتمی ہو جائے ۔ اس کے لئے حکومت کی جانب سے نومبر کے اخیرتک کا وقت دیا گیاہے۔
 یہ اساتذہ جن کا تعلق ریاست کے الگ الگ حصوںسے ہے ،آزادمیدان پر گزشتہ ۱۰؍ اکتوبر سے غیر معینہ دھرنے پربیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوںنے دھرنا شروع کرتے ہی یہ اعلان کردیا تھا کہ اس دفعہ وہ آر پار کی لڑائی کے لئے تیاری کرکےآئے ہیں ۔وہ اسی وقت آزادمیدان سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کریںگے جب حکومت ان کا مطالبہ منظور کرلے گی۔ ان اساتذہ نے احتجاج کرتے ہوئے کالی دیوالی بھی منائی تھی ۔ 
جزوی کامیابی ملی ہے 
 شکشک سنگھ (ممبئی )کے صدر سنجے داؤرے  نے نمائندۂ انقلاب کوبتایا کہ ’’ اب تک ۴۶؍دنو ںکی محنت کاجزوی نتیجہ برآمد ہوا ہے، ہم لوگ پورا نتیجہ سامنے آنے تک دھرنا جاری رکھیں گے۔ اس لئے کہ یہ ہزاروں اساتذہ اوران کے اہل خانہ کےمستقبل کاسوال ہے اورحکومت نے اب تک سوائے وعدےاور یقین دہانی کےکچھ نہیںکیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ چند دن قبل ریاستی حکومت نے یہ یقین دلایا ہے کہ وہ ان اساتذہ کے لئے ۱۱۶۰؍ کروڑروپے کافنڈمختص کرے گی لیکن اس پر جی آر کی شکل میںحتمی مہر  لگنا باقی ہے اس لئےہم سب اس انتظار میں ہیں کہ حکومت جی آر جاری کردے تاکہ بات پختہ ہو جائے اورکسی قسم کا مزیداندیشہ نہ رہے۔اسی لئے یہ طے پایا ہے کہ جب تک جی آر جاری نہیںکیا جاتا اس وقت تک دھرنا ختم کئےجانے کا اعلان نہیںکیا جائے گا ۔‘‘
 انہوںنےیہ بھی کہا کہ ’’ آپ خود اندازہ لگائیے کہ ۴۶؍دن دھرنے کوہوگئے، اساتذہ کے  اہل خانہ اورخود اساتذہ پرکیا بیت رہی ہوگی لیکن مستقبل کی فکر نے سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور کردیا ہے اوریہ امیدہوچلی ہے کہ جلد ہی ہمارے مطالبات پرحکومت حتمی مہر لگائے گی۔ کس قدر افسوسناک صورتحال ہے کہ یہ اساتذہ ۱۸؍ ۲۰؍سال سے بغیر تنخواہ کے اپنا فرض نبھا رہے ہیں اور حکومت محض وعدہ سے کام چلاتی رہی ہے۔‘‘
 انہوںنے مزیدکہاکہ ’’ جواساتذہ آزاد میدان میںنہیں ہیں ان کوروزانہ کی بنیاد پرآگاہی دی جاتی ہے اورحکومت کی جانب سے جو پیش رفت ہوتی ہے یا یقین دلایاجاتا ہے اس سے ان کوآگاہ کیا جاتا ہے اوریہ بھی واضح کیاجارہا ہے کہ وہ دھرنے کے لئےتیار بھی رہیںتاکہ ایک آوازپر پہلے کی طرح تمام اساتذہ جمع ہوجائیں ۔‘‘
 وعدہ خلافی پرپھرمیدان بھرجائے گا
 شکشک سنگھ (ممبئی )کے صدر سنجے داؤرے نے یہ بھی کہاکہ ’’اس وقت آزاد میدان میںاحتجاج کرنےوالے اساتذہ کی تعداد بالقصد کم رکھی گئی ہے کیونکہ حکومت جھکی ہے اوراس نے اعلان کیا ہے اور نومبر کے اخیر تک جی آرجاری کرنے کایقین دلایا ہے۔ اس تعلق سے میںنے گزشتہ روزوزیرتعلیم برائے اسکول دیپک کیسرکر سےملاقات کی اوران کو حالات سے دوبارہ آگاہ کروایا۔ ‘‘ انہوںنےیہ بھی کہا کہ ’’اگرجی آرجاری کرنے میںتاخیر کی گئی اورحکومت نےوعدہ پورا نہ کیا تو ۱۰؍اکتوبراوراس کےبعد سے آج تک جس طرح دھرنا دیا جارہا ہے ،ایک مرتبہ پھر آزادمیدان میںدھرنے کی جگہ اساتذہ سے بھر جائے گی ۔ کیونکہ ہم نے طے کرلیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے مطالبہ پورا ہونے تک کسی صورت میںآزاد میدان خالی نہیں کرنا ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK