عراق میں سیاسی بحران شدید تر،احتجاج کی بنا پر سپریم کورٹ نے کام کاج بند کردیا

Updated: August 24, 2022, 11:44 AM IST | Agency | Baghdad

سپریم جوڈیشیل کونسل اور وفاقی سپریم کورٹ نے دھمکیاں ملنے کا دعویٰ کیا، مقتدیٰ الصدر کے حامی پارلیمنٹ اور عدالت کے باہر خیمہ زن، ہٹنے کو تیار نہیں

Protesters can be seen outside the Supreme Judicial Council in Iraq..Picture:Agency
عراق میں سپریم جوڈیشیل کونسل کے باہر مظاہرین کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر:ایجنسی

عراق میں اپوزیشن لیڈر مقتدیٰ الصدر  کے حامیوں کے احتجاج اور ملک کی  مجلس القضاء کی عمارت کے باہر ان کے دھرنے  کی بنا پر وفاقی سپریم کورٹ نے منگل کو اپنا کام کاج معطل کردیا۔ مجلس القضاء  الاعلیٰ اور وفاقی سپریم کورٹ  نے عدالت کی عمارت کے باہر جاری مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جس کی بناد پر عدالتی کام کاج معطل کرنے کافیصلہ کیاگیاہے۔  واضح رہے کہ مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے  پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کیلئے  جو مظاہرہ پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر شروع کیاتھا وہ اب ملک کے وفاقی سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر تک پھیل گیاہے۔  یہ  دونوں ہی علاقے بغداد کے انتہائی سخت سیکوریٹی  والے علاقے ہیں۔  ملک کی سپریم جوڈیشیل کونسل (مجلس القضاء  الاعلیٰ)  کے باہر سے رپورٹنگ کرتے  ہوئے الجریزہ کے نمائندے محمد عبدالواحد نے بتایا کہ ’’یہ مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر احتجاج کررہے تھے جو اب یہاں پہنچ گئے ہیں۔‘‘ مجلس القضاء کے باہر احتجا ج کا جواز پیش کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرے  ۔ مظاہرین کے مطابق ملک میں اس وقت جوسیاسی تعطل ہے اس سے باہر نکلنے کا یہ واحد راستہ ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرکے دوبارہ  انتخابات کروائے جائیں۔ 

iraq Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK