آمدنی دُگنی کرنے کا وعدہ وزیراعظم کیلئے نئی پریشانی بن گیا

Updated: November 25, 2021, 9:20 AM IST | new Delhi

زرعی قوانین کی منسوخی کا بل کابینہ میںمنظور ہوتے ہی ٹکیت نے واضح کیا کہ ’’یہ آندولن ابھی ختم نہیں ہوگا۔‘‘آمدنی دگنی ہونے کے وعدہ پر حکومت سے جواب طلب کرنے کا اعلان

Indian Farmers Union leader Rakesh Takit addressing Kisan Maha Panchayat in Lucknow a few days ago.
بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت چند روز قبل لکھنؤ میں کسان مہا پنچایت سےخطاب کرتے ہوئے۔

بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے ۲۰۲۲ء  تک کسانوں کی آمدنی دگنی کردینے کا وزیراعظم مودی کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے بدھ کو اعلان کیا کہ کسانوں کا آندولن اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک کہ کسانوں کو ان کی فصلوں کےمناسب دام نہیں مل جاتے۔  اس   کے ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دے دیا ہے کہ کسان ۲۰۲۲ء تک کسانوں کی آمدنی دگنی کرنے کے وزیراعظم  کے وعدہ کو بھی  اپنے آندولن کا موضوع بنا سکتے ہیں۔ 
۲۷؍ نومبر کی میٹنگ میںمستقبل کا فیصلہ 
 بدھ کو ایک طرف جہاں مرکزی کابینہ  نے زرعی قوانین  کی منسوخی  کے بل کو منظوری دی تو وہیں دوسری جانب راکیش ٹکیت  نے اپنے ایک ٹویٹ سے کسانوں  کےتیوروں کو ظاہر کردیا کہ وہ  ایم ایس پی کی ضمانت اور اپنے دیگر مطالبات کی منظوری کےبغیر احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ ٹکیت نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’’یہ آندولن ابھی ختم نہیں ہوگا۔‘‘اس کے ساتھ ہی انہوں نے اطلاع دی کہ ’’۲۷؍ نومبر کو ہماری میٹنگ ہے جس میں ہم آگے کا فیصلہ کریں گے۔‘‘اس کے ساتھ ہی کسانوں کی آمدنی دگنی کرنے کے وزیراعظم کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’مودی جی نے کہا ہے کہ یکم جنوری (۲۰۲۲ء) سے کسانوں  کی آمدنی دگنی ہوجائےگی توہم پوچھیں گے کہ کیسے دگنی ہوگی۔‘‘ بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان  نے اس کے ساتھ ہی واضح کیا کہ ’’کسانوں کی جیت اس وقت ہوگی جب انہیں اپنی فصلوں کے دام مل جائیں گے۔‘‘
سرمائی اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ مارچ
  اس سے قبل منگل کو ٹکیت نے اعلان کیاتھا کہ ’’۶۰؍ ٹریکٹروں کے ساتھ دہلی میں مارچ نکال کر کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی گارنٹی کے لئے دباؤ ڈالیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا ہے کہ’’۲۹؍نومبر کو کسان ٹریکٹر مارچ نکال کر پارلیمنٹ تک جائیں گے۔ ‘‘ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس پیر ۲۹؍  نومبر سے شروع ہوگا جس کے۲۳؍ دسمبر تک جاری رہنے کی توقع ہے۔راکیش ٹکیت نے کہا ہے ’’ہم پر سڑکوں کو مسدود کرنے کا الزام عائد ہوا تھا۔ لیکن یہ ہم نے نہیں کیا تھا۔ سڑکوں کو مسدود کرنا ہماری تحریک نہیں ہے۔ اس بار ایک ہزار لوگ پارلیمنٹ تک جائیں گے۔‘‘ راکیش ٹکیت نے کہا کہ ہم ایم ایس پی پر حکومت کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں  نے مزید کہا کہ ’’گزشتہ ایک سال( کے آندولن ) میں۷۵۰؍ کسانوں کی موت ہوئی ہے، اس کی ذمہ داری بھی حکومت کو لینی چاہیے۔‘‘دریں اثنا، متحدہ کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹریکٹر ریلی  منعقد کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ دہلی کے آس پاس سے ہزاروں کسانوں کے آنے کی امید ہے۔ تحریک کی جزوی فتح کا جشن۲۶؍نومبر کو منایا جائے گا۔
زرعی قوانین کی منسوخی کے بل کو کابینہ کی منظوری
 اس بیچ بدھ کو مرکزی کابینہ نے وزیراعظم  کے اعلان کے مطابق تینوں متنازع زرعی قوانین کی منسوخی کا بل کابینہ میں  اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ اب اسے سرمائی اجلاس میں پیش کر کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کروایا جائےگا۔   تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان گزشتہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے نام خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔ بدھکو کابینہ کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے بتایا کہ ’’تینوں   زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی ضابطے کی کارروائی کو کابینہ نے  مکمل کرلیا ہے۔  پارلیمنٹ کے اجلاس میںہماری ترجیح  ان قوانین کی واپسی ہوگی۔‘‘ 
ایم ایس پی کی ضمانت پر حکومت خاموش
  زرعی قوانین کی منسوخی کے ساتھ ہی کسانوں کا دوسرا کلیدی مطالبہ  ایم ایس پی کی ضمانت تھی۔ اس سلسلے میں جب انوراگ ٹھاکر  سے سوال کیاگیاتو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔  اس کے ساتھ ہی کسانوں کا مطالبہ ہے کہ کاس گنج میں مظاہرہ کرنے والے کسانوں کواپنی گاڑیوں سے کچلنے کے ملزم آشیش مشرا کے والد اجے مشرا ٹینی کو مرکزی کابینہ سے برطرف کیا جائے۔ کسانوں  نے واضح اشارہ دیا ہے کہ ان مطالبات کی منظوری کے بغیر وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ 

kisan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK