بارش کم ہونے سے شہرومضافات میں مزید پانی کٹوتی کا اندیشہ

Updated: June 29, 2022, 9:39 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

رواںماہ میں اب تک معمول سے ۵۰؍ فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔مطلع ابرآلود ہے لیکن اس ہفتے بھی اچھی بارش کی امید نہیں

The city looks overcast in the suburbs. However, torrential rains have not started. (PTI)
شہرومضافات میں مطلع ابرآلود نظر آرہا ہے۔ تاہم موسلادھاربارش کا سلسلہ شروع نہیں ہوا ہے۔ (پی ٹی آئی)

 ممبئی میں کم بارش کی وجہ سے شہری انتظامیہ کے ذریعے ۱۰؍ فیصد پانی کٹوتی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن شہر کو پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں کی سطح آب میں لگاتار کمی اوررواں ماہ اب تک  انتہائی کم برسات کے پیش نظر  پانی سپلائی میں مزید کٹوتی کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ ممبئی شہرو مضافات کو عام استعمال کا پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں میں فی الحال محض۹؍ فیصد پانی بچا ہے اور محکمہ موسمیات کےحساب سے آئندہ چند روز میں بھی ایسی کوئی امید نہیں ہے کہ جھیلوں کے علاقوں میں اچھی بارش ہوگی اس لئے پانی بچانے کیلئے پانی کٹوتی ۱۰؍ فیصد سے زیادہ بڑھائی جاسکتی ہے۔ 
 یاد رہے کہ اسی طرح کی پانی کی قلت ۲۰۲۰ء میں بھی ہوئی تھی اور جون اور جولائی میں امید سے کم برسات اور جھیلوں میں پانی کی گھٹتی سطح کے پیش نظر بی ایم سی نے اگست مہینے سے ۲۰؍ فیصد پانی کٹوتی کردی تھی۔ 
  جون مہینہ ختم ہونے میں محض ۳؍ روز باقی ہیں اور عام طور پر جون میں جتنی بارش ہوتی ہے، اس سال اس کی ۵۰؍ فیصد بارش بھی نہیں ہوئی ہے۔
 واضح رہے کہ اَپر ویترنا جھیل میں سپلائی کرنے کے لئے پانی نہیں بچا ہے جس کی وجہ سے اس جھیل سے پانی کی سپلائی بند کردی گئی ہے اور گزشتہ برس بھی اس دن اس جھیل میں پانی ختم ہوچکا تھا۔البتہ دیگر ۶؍ جھیلوں میں گزشتہ برس کے مقابلے اس برس پانی کی سطح کم ہے۔ 
 ماحولیات سے متعلق کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممبئی میں فلک بوس عمارتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے اب صرف جھیلوں میں جمع ہونے والے پانی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ حالات میں حکومت اور بی ایم سی کو عوام میں پانی بچانے سے متعلق بیداری لانے کی ضرورت ہے اور جھیلوں میں جمع پانی کرنے کے علاوہ عوامی سطح پر بارش کا پانی جمع کرنے اور زمین سے پانی حاصل کرنے کے طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
 حکومت مہاراشٹر کے ’اِنوائرنمنٹ اینڈ کلائمیٹ چینج‘ محکمہ سے وابستہ اور ریاستی حکومت کے ’ماجھی وسُندھرا ابھیان‘ کے سفیر سبھاجیت مکھرجی نے اس سلسلے میں بیان دیا ہے کہ یہ ایک اچھا موقع ہے جب برسات کے پانی کو زمین کی نچلی سطحوں میں پہنچایا جائے، اس سے درختوں کو مضبوطی ملے گی اور ہوسکتا ہےکہ  ان کی جڑیں پھیلنے سے زیر زمین پانی کی مقدار بہتر ہو اور کنوئوں کی سطح آب میں بہتری آئے۔
 واضح رہے کہ سبھا جیت مکھرجی بی ایم سی کو ’پرکولیشن پِٹس‘ کھودنے میں بھی مدد کررہے ہیں۔ پرکولیشن پٹس زمین میں کھودی جانے والی ایسی نالیاں ہوتی ہیں جن سے بارش کے پانی کو زمین کے نیچےلے جایا جاتا ہے جن سے زمین کے اندر پانی ریچارج ہوتا ہے اور درختوں اور کنوؤں کو پانی دستیاب ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اس طریقہ کی افادیت کو دیکھتے ہوئے بی ایم سی نے ممبئی میں لال باغ سمیت ۵۰۰؍ جگہوں پرپرکولیشن پِٹس کھودنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

WATER CUT Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK