جا بجا مناظر عبرت، لاشیں ہی لاشیں،ملبہ ہی ملبہ،عوام دہشت زدہ

Updated: February 08, 2023, 7:43 AM IST | Ankara

:ترکی کے جنوبی صوبے کے ضلع قاہرامان مراش کے قصبے پازارجک میں ۷ء۷؍ شدت کے زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ۳۴۳۲؍ ہو گئی ہے۔

Destruction is destruction everywhere
ہر طرف تباہی ہی تباہی

:ترکی کے جنوبی صوبے کے ضلع قاہرامان مراش کے قصبے پازارجک  میں ۷ء۷؍ شدت کے  زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد  ۳۴۳۲؍ ہو گئی ہے۔  یہ تعداد صرف ترکی کی بتائی جارہی ہے جبکہ شام میں بھی ۲؍ ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد ۵؍ ہزار  سے تجاوز کر گئی ہے۔  
ہر طرف تباہی ہی تباہی 
 زلزلے کی وجہ سے ہر طرف تباہی کے مناظر دیکھے جارہے ہیں۔ کئی ترک شہروں میں بڑی بڑی عمارتیں زمین بوس ہوئی ہیں۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق صرف جنوبی صوبے میں ۳؍ ہزار عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جبکہ ترکی کے دیگر علاقوں میں ۲۳۰۱؍ عمارتیں یاتو زمین بوس ہوئی ہیں یا پھر انہیں خاصا نقصان پہنچا ہے۔ادارہ  برائے انسداد قدرتی آفات  کے صدر یونس سیزر نے بتایا کہ ان ہولناک زلزلوں  میں اب تک ۳۴۳۲؍افراد جاق بحق ہوئے ہیں جبکہ ۲۱؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔ ان میں سے بہت سے افراد کو اسپتالوں میں جگہ بھی نہیں مل سکی ہے ۔ ان کا علاج  اسپتالوں کے باہر یا ان کے ٹوٹے پھوٹے گھروں کے باہر ہی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عمارتوں کی تباہی اور ملبے کے تعلق سے بتایا کہ اس وقت پورا ترکی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوا محسوس ہوتا ہے کیوں کہ اتنی عمارتوں کو نقصان پہنچاہے ، اتنے مکانات ڈھہ گئے ہیں کہ ان کی گنتی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ ملبہ اٹھانے میں بھی مہینوں لگ سکتے ہیں۔  
۱۰؍ اضلاع بری طرح متاثر 
 اس زلزلے سے ۱۰؍  اضلاع میں  قیامت صغریٰ کا منظر ہے۔ وہاں جو تباہی مچی ہے اس کا اندازہ بھی اب تک پوری طرح سے لگایا نہیں جاسکا ہے۔ اسی لئے ترک حکومت کی جانب سےعالمی سطح پر امداد طلب کرنے کی شدت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔امدادی ٹیمیں زمین بوس عمارتوں کے ملبے  میں زندگیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ اب تک کئی عمارتوں کے ملبے سے چیخ پکار  اور جان بچائو کی دردناک آوازیں آرہی ہیں جس کی وجہ سے راحتی کاموں میں مصروف افراد بھی تڑپ اٹھتے  ہیں لیکن وہ بہت ہمت کے ساتھ راحتی کاموں میں مصروف ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کیا کہنا ہے؟
 عالمی ادارہ صحت کے مطابق تباہی کے درمیان اموات کی یہ تعداد آٹھ گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ زخمیوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ زلزلوں  کے بعد کے واقعات میں دیکھا جاتا ہے کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد وقت کے ساتھ تیزی سے بڑھتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے ان لوگوں کے لئے بھی انتباہ جاری کیا جو زلزلے کی وجہ سے بے گھر ہو گئے  ہیں۔  ادارے نے کہا کہ شدید سردی کی وجہ سے ایسے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ادارہ نے پوری دنیا سے انسانی بنیادوں پر ترکی کے ہزاروں متاثرین کی مدد کی اپیل کی ہے۔
 تباہی شدید لیکن ترک عوام کے حوصلے بلند
 متاثرہ شہروں کے باشندوںنے مدد کی امید میں پوری رات جاگ کر گزاری۔ اس تباہی میں  تقریباً ہر  فرد نے اپنے کسی قریبی کو کھو دیا ہے۔ بہت سے خاندان اب بھی ملبے میں زندہ ہونے کی امید میں اپنے رشتہ داروں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملبے سے اپنے پیاروں کو نہ نکال پانے کی بے بسی ان کے چہرے پر عیاں ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے امداد بھیجنے کے اعلانات کے باوجود مدد ان سے دور ہی ہے۔ تباہی کی جو تصویریں  سامنے آرہی ہیں وہ ناقابل بیان سوز لئے ہوئے ہیں۔ کئی ایسی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئے ہیں جن میں والدین دیوانہ وار اپنے بچوں کو ملبے میں تلاش کررہے ہیں جبکہ کئی ویڈیوز میں بچے زندہ نکالے گئے ہیں لیکن ان کے والدین ملبے میں ہی دب گئے ہیں۔ ایسا ہی ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے جس میں ایک باپ اپنی بیٹی کو ملبے سے نہ نکال پانے پر بے بسی اور نم آنکھوں سے اسی کی طرف دیکھ رہا ہے جبکہ اس کی بیٹی کی روح پرواز کرچکی ہے۔  زلزلے نے نہ صرف ترک عوام کے گھر بلکہ ان کے اہل خانہ اور ان کے خوابوں کو بھی چکنا چور کر دیا ہے۔ ان حالات کے باوجود ترک عوام کے حوصلے بلند ہیں کیوں کہ ترکی کے مختلف شہروں سے ہزاروں افراد اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کیلئے پہنچ رہے ہیں اور انہیں ڈھارس بندھارہے ہیں۔  
۱۰۹؍ جھٹکے اب تک محسوس کئے گئے ہیں
 ترکی اور شام میں پیر کو زوردار زلزلہ کے بعد سے  اب تک  کے ۳۶؍ گھنٹوں میں مزید ۴؍ زوردار جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں جبکہ ۱۰۹؍ ’آفٹر شاکس‘ (زلزلوں کے کچھ دیر بعد محسوس ہونے والے جھٹکے) محسو س ہوئے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں دہشت ہے۔ عالم یہ ہے کہ جیسے ہی آفٹر شاک محسوس کئے جاتے ہیں شہری اپنے مکان یا جہاں بھی وہ مقیم ہیں سے دوڑ کر باہر نکل آتے ہیں۔اس زلزلے نے خاص طور پر بچوں کی نفسیات پر کافی گہرا اثر ڈالا ہے۔ کئی بچے اب بھی اس صدمہ سے باہر نہیں نکلے ہیں جبکہ کچھ بچے جو خوش قسمتی سے زندہ بچ گئے ہیںاور اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،  خوفزدہ ہوکر نیند میں سے اٹھ رہے ہیں اور اپنے والدین کو پکار رہے ہیں۔ ادھر آفٹر شاکس ترکی اور شام کے علاوہ لبنان اور اسرائیل سمیت پانچ ممالک میں بھی  محسوس  کئےگئے ہیں۔
 ملک  شام کی حالت بھی  دگرگوں 
  ترکی کےہمسایہ ملک شام کی وزارت صحت نے زلزلے سے ہونے والی تباہی کے بارے میں بتایا کہ حلب، لاتکیہ، بما اور طرطوس صوبوں میں کم از کم۲؍ ہزار  افراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔ میڈیا رپورٹ میں امدادی کارکنوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شام میں صرف باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں ۷۳۳؍ اموات ہوئی ہیں جبکہ بقیہ اموات حکومت کے کنٹرول والے علاقوں میں  ہوئی ہیں۔  
 ۳؍ ماہ کی ایمر جنسی کا اعلان 
 ترک صدر رجب طیب اردگان نے زلزلے میں فوت ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ترکی میں ۷؍ دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا جبکہ حالات کو دیکھتے ہوئے راحتی کاموں کو اعلیٰ پیمانے پر جاری رکھنے کے لئے ۳؍ ماہ کی ایمر جنسی بھی نافذ کردی ہے۔انہوںنےمیڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بالکل واضح الفاظ میں کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں حکومت ترک عوام کو ہر ممکن مدد پہنچانے کی کوشش کررہی ہے اور اسی لئے یہ ایمرجنسی نافذ کی جارہی ہے۔  انہوں نے ترک عوام سے صبر سے کام لینے کی اپیل بھی کی ۔ 

earthquake Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK