بھنڈارہ اجتماعی عصمت دری معاملہ میںغفلت برتنے کے الزام میں ۳؍ پولیس اہلکار معطل

Updated: August 09, 2022, 10:08 AM IST | ali imran | Bhandara

مقامی رکن اسمبلی منیشا کایندے نے ایک روز قبل پولیس پر ’کسی کے‘ دبائو میں حقائق کو چھپانے کا الزام عائد کیا تھا، خواتین کمیشن کی چیئر پرسن کی بھی متعلقہ حکام سے ملاقات

Woman MLA and her team getting information from police in Nagpur (Agency)
خاتون رکن اسمبلی اور ان کی ٹیم ناگپور میں پولیس سے معلومات حاصل کرتے ہوئے ( ایجنسی)

: گزشتہ دنوں بھنڈارہ ضلع میں  اجتماعی عصمت دری کے دلدوز واقعے میں  پولیس کی کارروائی پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔ ایک رو ز قبل ہی  مقامی رکن اسمبلی  منیشا کایندے  نے الزام لگایا تھا کہ ’’کوئی ہے جو پولیس پر دبائو بنا رہا ہے کہ وہ حقائق کو سامنے نہ لائے۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس ہم جیسے عوامی نمائندوں کو  متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے نہیں دے رہی ہے۔‘‘ نتیجتاً پیر کو  واقعے کے روز ڈیوٹی پر موجود ۳؍ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔   واضح رہے کہ ۳۱؍ جولائی کو  بھنڈارہ کے لاکھنی  علاقے میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تھا  جس میں ۴؍ لوگوں پر الزام لگا تھا لیکن پولیس نے اب تک صرف  ۲؍ لوگوںکو گرفتار کیا ہے اور قانونی عمل میں کئی خامیاں رہ گئی ہیں جس کے تعلق سے اب سوال کئے جا رہے ہیں۔ 
  ایک روز قبل منیشا کایندے نے  اپنے کارکنان کے ساتھ ناگپور کے  سرکاری اسپتال پہنچ کر متاثرہ لڑکی کا حال معلوم کیا تھا۔ انہوں نے اسپتال کے ڈین  سدھیر گپتا سے ملاقات کی تھی  اور علاج کے تعلق سے تفصیل معلوم کی تھی ۔ ساتھ ہی انہوں نے  ناگپور ڈیویژن کے انسپکٹر جنرل سندیپ پاٹل سے بھی ملاقات کی اور کارروائی کی تفصیل معلوم کرنے کے علاوہ پولیس کی لاپروائی سے  انہیں آگاہ کیا۔ پیر کو ریاستی خاتون کمیشن کی چیئر پرسن روپالی چاکن کر بھی ناگپور پہنچیں اور انہوں نے بھی اسپتال کا دورہ کرنے کے علاوہ پولیس حکام سے ملاقات کی۔ 
  اس کے بعد پولیس انتظامیہ نے  لاکھنی پو لیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر گھراڈے  اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر لکھن آئیکے کو معطل کر دیا۔  جبکہ ایک خاتون اہلکار کو ہیڈ کوارٹر بھیج دیا گیا ہے۔  ان لوگوں پر الزام ہے کہ معاملہ سامنے آنےکے بعد انہوں نے مناسب قانونی کارروائی نہیں کی۔  یاد رہے کہ گزشتہ   ۳۰؍ جولائی کو بھنڈارہ ضلع کے لاکھنی علاقے میں ایک لڑکی اپنی بہن سے جھگڑ کر گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔  الزام ہے کہ استے میں شری رام اُرکوڈے (گورےگاؤں) نے اسے کار سے گھر واپس چھوڑنے کی پیش کش کی ۔ لڑکی اس کی باتوں میں آگئی تو گورگاؤں کے جنگل میںلے جاکر اس کی  عصمت دری کی اور اگلے دن اسے منڈی پار۔مرملی کے قریب ایک گاؤں کے پاس چھوڑ دیا۔ مرملی کی پولیس پاٹل خاتون نے اکیلی گھومنے والی اس خاتون کے بارے میں دریافت کیا اور اس کی حالت دیکھ کر ۱۱۲؍نمبر پر پولیس سے رابطہ کیا ۔ لاکھنی پولیس متاثرہ کو لاکھنی تھانے لے گئی۔ وہاں اس سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ دراصل، اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے، اسے اسپتاللے جانا ضروری تھا. لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی رات ۱۰؍بجے کے بعد تھانے سے چلی گئی اور پولیس نے اس بات پر دھیان نہیں دیا۔ اس کے بعد وہ دھرم نامی ڈھابے پر گئی۔ ڈھابے کے پاس پنکچر کی مرمت کرنے والے ایاز انصاری نے اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور ایک دوست امیت ساروے کو فون کیا۔ وہ اسے بائک پر بٹھا کر جنگل لے گئے اور دونوں نے اس کی عصمت دری کی۔ یہ واقعہ اگلی صبح سامنے آیا۔ اگر لاکھنی پولیس اس واقعے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے لڑکی کو اسپتال بھیجا ہوتا تو  اس کے ساتھ دوبارہ زیادتی نہ ہوتی۔ پولیس اس واقعے کو الگ طریقے سے بیان کر رہی ہے۔  پولیس اہلکاروں کے خلاف ہوئی کارروائی سے یہ عیاں ہو گیا ہے کہ  انہوں نے لاپروائی برتی تھی۔ خواتین کمیشن کی چیئر پرسن نے اس پر اطمینان کا  اظہار کیا ہے۔ 

Bhandara Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK