• Sat, 03 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عازمین کی بکنگ کم ہونے اور رقم کی جلد ادائیگی کیلئے ٹور آپریٹرس پریشان

Updated: January 02, 2026, 11:37 PM IST | Mumbai

بینکوں سے قرض لینے ، زیورات اور پراپرٹی فروخت کرنے پر مجبور۔ محض۱۳؍ دن میں تمام کام پورے کرنے کی حکومت کی ہدایت

Tour operators are facing difficulties due to a decrease in bookings by Hajj pilgrims and other issues.
عازمین حج کے ذریعے بکنگ کم ہونے اور دیگر مسائل کے سبب ٹورآپریٹرس کودشواریاں پیش آرہی ہیں۔

 ان دنوں ٹور آپریٹرس پریشانی اور خوف میں‌ مبتلا ہیں۔ اس کی  وجہ یہ ہے کہ عازمین حج اور ہوٹل وغیرہ کی بکنگ اور دیگر انتظامات کیلئے محض۱۳؍ دن بچے ہیں ،۱۵؍ جنوری تک ہی حکومت کی جانب سے مہلت دی گئی ہے۔ اس دوران  انہیں بہرصورت انتظامات کرنے ہوں گے۔ٹور آپریٹرس کی پریشانی کا سبب یہ ہے کہ  ان کی اس وقت بکنگ ۵۰؍ فیصد سے بھی کم ہوئی ہے، بعض کی تو۳۰؍ اور۴۰؍ فیصد ہی ہوئی ہے ۔حالانکہ رقم کا انتظام بکنگ کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پریشان ہیں اور خوف کے سبب حقیقی حالات بھی حکومت کو نہیں بتارہے ہیں۔ 
 ٹور والوں کو  اندیشہ ہے کہ بکنگ کی حقیقی صورتحال بتانے سے کہیں ان کی سیٹ حکومت واپس نہ لے لے۔ حالانکہ ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ پہلے ہی۸۴۰؍ ٹور والوں میں کوٹہ تقسیم کیا جاچکا ہے۔حالات یہ ہیں کی بہت سے ٹور آپریٹرس بینکوں سے قرض لینے ، گولڈ لون لینے ، زیورات گروی رکھنے اور پراپرٹیز بیچنے پر مجبور ہیں۔ اس کی انہوں نے توثیق بھی کی ہے۔
 متعدد ٹور آپریٹرس سے بات چیت کرنے پر انہوں نے کہا کہ دراصل معاملہ چند لاکھ کا نہیں ، دیئے گئے کوٹے کے حساب سے ۲؍ کروڑ روپے سے۴؍ کروڑ روپے تک ادا کرنا ہے۔ اتنی بڑی رقم جمع کرانا ممکن نہیں ہے۔ جب عازمین کے ذریعے بکنگ کرائی جاتی ہے تو وہ رقم ادا کرتے ہیں، وہی رقم مختلف مدوں میں خرچ کی جاتی ہے لیکن اس دفعہ سعودی حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق تمام کام وقت سے پہلے کرائے جارہے ہیں ،اس کی وجہ سے کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔
 کچھ ٹور آپریٹرس نے یہ بھی بتایا کہ تنگ آکر کچھ ٹور والوں  نے سفر حج خرچ میں کمی یعنی سستا حج کرانے کی تیاری کررہے ہیں، اس میں وہ کم خرچ کے سبب سروسیز سے سمجھوتہ کریں گے کیونکہ کوئی بھی ٹور والا خسارہ برداشت کرکے عازمین کو حج بیت اللہ کے لئے لے جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ 
 ایک ٹور آپریٹر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے گروپ کے دیگر ممبران سے کہا کہ میں حکومت کی جانب سے دی گئی بکنگ سے متعلق شیٹ کو بالکل صحیح صحیح بھروں گا، خواہ نفع ہو یا نقصان، کوٹہ کٹے یا برقرار رہے کیونکہ اگر حکومت کی جانب سے پوچھا گیا کہ ٹھیک ہے، اگر آپ کی خاطر خواہ بکنگ ہوچکی ہے تو ان عازمین کی تفصیلات پیش کیجئے تو پھر ہمارے پاس کیا جواب ہوگا۔
 دوسری جانب حکومت کی جانب سے ٹور آپریٹر کی ترجمانی کرنے والے الخالد ٹور اینڈ ٹراویلس کے ذمہ دار ڈاکٹر یوسف کھیراڈا کے بیٹے محمد خالد کھیراڈا کا کہنا ہے کہ مسئلہ سنگین ہے، خطیر رقم درکار ہے ، انتظام مشکل ہورہا ہے ، ٹور والے پریشان ہیں اور اس کا حل ضروری ہے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب تمام ٹور آپریٹرس اپنی صحیح صحیح پوزیشن واضح کریں کہ ابھی بکنگ کتنی ہوئی ہے ۔ اس لئے رقم کی ادائیگی۱۳؍دن میں ممکن نہیں۔ تبھی حکومت ہند اور سعودی حکومت کے سامنے ان مسائل کو رکھا جاسکتا ہے تاکہ اس کا حل تلاش کیا جائے لیکن اگر حقیقی صورتحال سے آگاہ نہیں کرایا جائے گا ، چھپایا جائے گا تو آخر حکومت سے بات چیت کرنے یا مسائل سے آگاہ کرانے کا کیا جواز ہوگا۔ اس لئے تمام ٹور آپریٹرس کو اس جانب بھی توجہ دینا چاہئے کیونکہ یہ تقریباً  تمام ٹور والوں کے مسائل ہیں ،کسی ایک کا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK