EPAPER
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی دباؤ کے درمیان موجودہ محاذِ جنگ برقرار رکھتے ہوئے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ روس نے کیف اور دیگر علاقوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جن میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب، روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
October 23, 2026, 10:29 AM IST
روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں یہ اضافہ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔ روس پر اپنے پاور انفراسٹرکچر پر حملے جاری رکھنے کا الزام عائد کرنے کے بعد یوکرین نے کہا کہ وہ اب اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا۔ اس کے بعد کیف نے روسی تیل کی تنصیبات پر دوبارہ حملے شروع کر دیے، جس پر امریکی صدر کی جانب سے تنقید کی گئی۔
October 19, 2026, 7:08 PM IST
بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے تسلیم کیا کہ روس کے پاس وسیع تر فوجی اور معاشی وسائل ہیں اور وہ طویل عرصے تک لڑائی جاری رکھ سکتا ہے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ جنگ اس کی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ روسی اس بات کو سمجھتے ہیں؛ وہ امن کیلئے تیار ہیں۔ کیف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ”اگر یوکرینیوں نے رواں سال پرامن تصفیے کی کوشش نہ کی تو اگلے سال یہ مزید مشکل ہو جائے گا اور بالآخر یہ ناممکن ہو سکتا ہے۔“
October 16, 2026, 9:01 PM IST
زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ روس ڈیزل معاہدے کے ساتھ تاریخ کے غلط رخ پر ہیں، جبکہ پوتن ہنس رہا ہے، زیلنسکی نے ٹرمپ کے بارے میں کہا یہ افسوس کی بات ہے کہ ہم ایک مضبوط پارٹنر کھو رہے ہیں۔
October 15, 2026, 10:22 PM IST
