Updated: October 13, 2026, 4:26 PM IST
| Mumbai
’’بگ باس ۲۰‘‘ میں واپسی کے بعد قاضی توقیر پھر خبروں میں ہیں؛ ان کے بھائی کے مطابق ۲۰۰۵ء میں اریجیت سنگھ کو پیچھے چھوڑ کر شہرت پانے والے قاضی اداکاری کا خواب بھی دیکھتے رہے، کئی منصوبے رکے مگر کام جاری رکھا، اب دونوں دوست مل کر ایک بڑے پروجیکٹ پر کام کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔
اریجیت سنگھ اور قاضی توقیر۔ تصویر: آئی این این
ریالٹی شو ’فیم گروکل‘ سے ۲۰۰۵ء میں شہرت حاصل کرنے والے گلوکار قاضی توقیر ایک بار پھر تفریحی دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ’’بگ باس ۲۰‘‘ میں شرکت کے دوران ان کی شخصیت اور اندازِ گفتگو پر بحث جاری ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ نے ان کے تقریباً ۲۰؍ سالہ فنی سفر، ناکام رہنے والے اداکاری کے منصوبوں اور گلوکار اریجیت سنگھ کے ساتھ آنے والے مشترکہ پروجیکٹ کے بارے میں اہم تفصیلات شیئر کی ہیں۔ قاضی کے بھائی توصیف کے مطابق، دونوں فنکاروں نے نئے پروجیکٹ پر ابتدائی کام کیا ہے، لیکن اصل کام ابھی شروع ہونا باقی ہے۔ قاضی توقیر کی شہرت کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے ۲۰۰۵ء میں سونی ٹی وی کے گلوکاری کے مقابلے ’فیم گروکل‘ میں کامیابی حاصل کی۔ وہ اس شو میں روپ ریکھا بنرجی کے ساتھ فاتح جوڑی کا حصہ بنے تھے، جبکہ اریجیت سنگھ بھی اسی مقابلے کے نمایاں شرکا میں شامل تھے۔ اس وقت قاضی کی عمر تقریباً ۱۹؍ سال تھی۔ شو نے انہیں راتوں رات شہرت دلائی اور وہ بیرونِ ملک اسٹیج شوز کرنے لگے۔ ان کے چچا کے مطابق، قاضی نے آسٹریلیا، امریکہ اور سنگاپور سمیت مختلف ممالک میں پرفارم کیا اور کامیابی کے بعد بھی کام جاری رکھا۔
یہ بھی پڑھئے: دریشیم ۳: ۱۰؍ دن میں ۳۰۰؍ کروڑ پار، عالمی کمائی ۴۸۰؍ کروڑ کے قریب
قاضی کے بھائی توصیف نے بتایا کہ ان کے بھائی کا اصل خواب صرف گلوکار بننا نہیں بلکہ اداکار بننا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی کے بعض اداکاری کے منصوبے بند ہوگئے، جس کے باعث ان کے ۲؍ سے ۳؍ سال ضائع ہوئے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ توصیف کے مطابق، قاضی نے کبھی کام کرنا نہیں چھوڑا؛ وہ براہِ راست اسٹیج شوز کرتے رہے اور کشمیر میں رہتے ہوئے اپنے فنی سفر کو جاری رکھا۔ ان کے بقول، لوگ قاضی کو بنیادی طور پر گلوکار کے طور پر جانتے ہیں، لیکن وہ اداکاری سے بھی گہرا شغف رکھتے ہیں۔ قاضی اور اریجیت سنگھ کی دوستی اس کہانی کا ایک اہم پہلو ہے۔ ’فیم گروکل‘ میں اریجیت کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود قاضی کا ان سے تعلق برقرار رہا۔ دو دہائیوں کے دوران اریجیت نے موسیقی کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا، جبکہ قاضی مختلف اسٹیج شوز اور محدود ٹی وی موجودگی کے ذریعے اپنے کام سے وابستہ رہے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق، اریجیت نے ’’بگ باس ۲۰‘‘ کے آغاز پر قاضی کی حمایت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر انہیں اپنا ’’راک اسٹار‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان کی خاطر پہلی مرتبہ یہ شو دیکھیں گے۔
توصیف نے اریجیت کے ساتھ آنے والے منصوبے کے بارے میں بتایا کہ دونوں کے درمیان اچھی دوستی ہے اور وہ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، مشترکہ پروجیکٹ پر کچھ کام ہوچکا ہے، لیکن اس کی اصل تیاری ابھی باقی ہے۔ انہوں نے اسے ’’بہت بڑا اور خوب صورت‘‘ پروجیکٹ قرار دیا، تاہم اس کی نوعیت، ریلیز کی تاریخ، موسیقی یا اداکاری سے تعلق اور دیگر تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے فی الحال اسے دونوں فنکاروں کے درمیان زیرِ تیاری منصوبہ کہنا درست ہوگا، نہ کہ کسی مکمل یا اعلان شدہ فلم یا البم کی تصدیق شدہ خبر۔ قاضی کے اہل خانہ نے ان کی ذاتی زندگی اور مزاج کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کے چچا کے مطابق، قاضی حقیقی زندگی میں بھی ویسے ہی ہیں جیسے انہیں ٹی وی پر دیکھا جارہا ہے؛ وہ درختوں اور جانوروں سے باتیں کرتے ہیں اور دوسروں کو ہنسانا پسند کرتے ہیں۔ چچا نے بتایا کہ بچپن سے ہی ان کی طبیعت ایسی رہی ہے اور وہ دوسروں کو خوش دیکھ کر خود بھی خوش ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، قاضی نے سری نگر کے علاقے راج باغ کے ایک کانونٹ اسکول میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں امر سنگھ کالج میں زیرِ تعلیم رہے۔
یہ بھی پڑھئے: رادھیکا آپٹے نے مشہور شخصیت کا مقام برقرار رکھنے کے دباؤ پر سوال اٹھا دیا
’’بگ باس ۲۰‘‘ میں قاضی کی موجودگی نے انہیں ان ناظرین تک بھی پہنچایا ہے جو ’فیم گروکل‘ کے زمانے میں ان سے واقف نہیں تھے۔ انڈین ایکسپریس کی ستمبر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۵ء میں شو کے فائنل تک پہنچنے والے قاضی کے مداحوں نے ان کی حمایت میں تقریباً ۵ء۲؍ کروڑ ووٹ دیے تھے۔ اس دور میں ریئلٹی شوز کے ناظرین کی جانب سے ٹیلی فون اور ایس ایم ایس ووٹنگ مقبول تھی۔ دو دہائیوں بعد ان کی واپسی اس بات کی مثال ہے کہ ٹیلی وژن پر شہرت حاصل کرنے والے فنکار مختلف وقفوں کے بعد نئے پلیٹ فارمز کے ذریعے دوبارہ عوامی توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔