• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘

Updated: October 18, 2026, 2:20 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی اور فلم اداکارکسلے دت کا کہنا کہ میں نے مختلف جگہوں پر کام کیا ہے اور اس دوران کئی طرح کے لوگوں سے ملا، اس طرح چھوٹی سی زندگی میں بہت سارے واقعات دیکھ لئے ۔

TV and film actor Kislay Dutt. Photo: INN
ٹی وی اور فلم اداکارکسلے دت۔ تصویر: آئی این این

کسلے دت نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے بایوٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور طبی شعبے سے بھی وابستہ رہے۔ ممبئی آنے کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ اداکاری کیلئے جدوجہد جاری رکھی۔ ابتدائی دور میں انہوں نے چھوٹے کرداروں سے شروعات کی، مختلف ٹیلی ویژن سیریلز اور فلموں میں کام کیا اور وقت کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی۔ حالیہ دنوں میں وہ ’آفس آفس چلی موسدّی کی بیٹی‘ میں شکلا کے کردار کے باعث توجہ حاصل کر رہے ہیں۔نمائندہ انقلاب کے ساتھ اس خصوصی گفتگو میں کسلے نے اپنے منفرد نام، اداکاری، ممبئی میں جدوجہد، پنجابی سیریل کے دلچسپ تجربے، معروف فنکاروں کے ساتھ کام ، اداکاری کی تربیت، شہرت، او ٹی ٹی اور اپنی طبی پریکٹس کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔
سب سے پہلے آپ کے نام کے بارے میں جاننا چاہیں گے۔ ’کسلے‘ بہت منفرد نام ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟
دراصل یہ ایک سنسکرت لفظ ہے۔ جب کوئی نیا پتہ یا نئی کونپل نکلتی ہے تو اسے کسلے کہا جاتا ہے۔ جے شنکر پرساد جی کی ایک نظم میں بھی یہ لفظ آیا تھا۔ میرے والدین کو یہ نام بہت پسند آیا، اسی لیے انہوں نے میرا نام کسلے رکھا۔
آپ کا  اداکاری کا سفر کیسا رہا، اس کا آغاز کس طرح ہوا؟
ج:میں اپنی کہانی شروع سے بتاتا ہوں۔ میں نے بایو ٹیکنالوجی میں ایم ایس سی کیا  ہے۔ اس کے بعد میں نے جونیئر سائنٹسٹ کے طور پر کام کیا اور پھر اندور میں لیکچرر اور پروفیسر بھی رہا۔ وہاں میرے طلبہ کی عمر تقریباً ۲۱؍ سال کے آس پاس تھی۔ وہ اکثر مجھ سے کہتے تھے کہ سر، آپ ہیرو جیسے لگتے ہیں۔ یہ بات میرے ذہن میں کہیں گھر کر گئی اور میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک مرتبہ اداکاری میں قسمت آزمائی جائے۔ میرے گھر والے اس کے حق میں نہیں تھے۔ میرے خاندان میں دور دور تک کسی کا اداکاری سے تعلق نہیں تھا۔ نہ میرا کوئی رشتہ دار اس شعبے میں تھا، نہ ہی ممبئی میں میرا کوئی جاننے والا تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ممبئی میں کہاں رہنا ہے اور کیا کرنا ہے۔ اسی دوران طبی تعلیم میں مجھے داخلے کا موقع ملا، تو میں ممبئی آیا تاکہ تعلیم کے ساتھہی اداکاری میں بھی کوشش کرتا رہوں۔ میں نے آڈیشن دینا شروع کیا۔ اس دور ان میں رات کو ایک برطانوی کاروباری ادارے کیلئے کام کرتا تھا، صبح کالج جاتا تھا اور باقی وقت اداکاری کے آڈیشنز کیلئے استعمال کرتا تھا۔ میں باندرہ میں ٹرائیکولوجی اور کاسمیٹولوجی، یعنی بالوں اور جلد سے متعلق شعبے کی تعلیم بھی حاصل کی۔ اس کے ساتھ جو وقت ملتا، میںمختلف پروڈکشن ہاؤسز کے چکر لگاتا رہتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: مدھو بالا کی کریئر میں سب سے بڑی رکاوٹ خود اُن کے والدعطاء اللہ خان تھے

آپ کو پہلا بریک کس طرح ملا؟
ج: آڈیشن دینے کے بعدرفتہ رفتہ کام ملنا شروع ہوگیا۔ ابتدا میں مجھے ایک رپورٹر اور صحافی کا کردار ملا تھا۔ اسی دوران ایک پروڈیوسر نے مجھے ایک کردار کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یہ بہت اچھا  ہے۔یہ ۲۰۰۷ء یا  ۲۰۰۸ ءکی بات ہے۔ میں ۲۰۰۶ ءمیں ممبئی آیا تھا۔ میں نے کام قبول کرلیا۔ جب شوٹنگ کیلئے گیا تو مجھے احساس ہوا کہ ٹیلی ویژن کی دنیا میرے لیے بالکل نئی ہے۔ 
پھر آپ کو آگے بڑھنے کے مواقع کیسے ملے؟
ج: لوکھنڈوالا کے قریب ایک دفتر میں میں نے آڈیشن دیا جہاں سے مجھے پہلا بڑا کردار ملا۔ اس کے بعد میرا سفر آگے بڑھتا گیا۔ جب میں اداکاری کے شعبے میں آیا تھا تو مجھے ایسا لگتا تھا جیسے کوئی خواب حقیقت میں تبدیل ہورہا ہو۔ بڑے بڑے اداکار سامنے آتے تھے اور میں انہیں دیکھ کر کھڑا ہوجاتا تھا۔ مجھے سمجھ  میںنہیں آتا تھا کہ ان سے کیا بات کروں۔ آہستہ آہستہ مجھے فلموں میں بھی کام ملنے لگا۔ مجھے ’ رن بھولا رن‘ میں گووندا اور تشار کپور کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کی پروڈکشن اشٹ وِنایک کی تھی اور نیرج  ووہرا اس کے ہدایتکار تھے۔ فلم بن کر تیار ہوگئی لیکن  ریلیز نہیں ہوئی۔اس دوران مجھے کئی ٹیلی ویژن سیریلز میں کام ملا۔ میں نے پنجابی سیریل میں بھی کام کیا۔ 
آپ نے کن دوسرے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا؟
ج: مجھے مختلف فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے کئی سیریلز کیے، جن میں بالاجی کے شوز بھی شامل ہیں۔ مجھے رتیک روشن جیسے بڑے فنکاروں کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ بعد میں شو ’مریم خان‘  اور بالاجی کے ’دیو ڈی ڈی‘ جیسے کامیاب پروجیکٹ میں بھی کام کیا۔ میرے سفر کے دوران گھر میں ایک خاندانی ہنگامی صورتحال بھی پیدا ہوئی تھی، جس کی وجہ سے مجھے چھتیس گڑھ واپس جانا پڑا۔ میں تقریباً تین سال وہاں رہا۔پھر ممبئی واپس آیا اور اپنے کام کا سلسلہ شروع کیا۔
آپ کو کس طرح کے شوز میں کام کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے؟
مجھے جو بھی کام ملا، میں نے اسے بہت انجوائے کیا۔ میرا پہلا سیریل جس میں میں مرکزی کردار میں تھا، وہ میرے لیے بہت خاص تھا۔ اس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ پھر ’رن بھولا رن‘ میں بھی بہت مزہ آیا۔ اس فلم میں مجھے ایکشن اور اسٹنٹ سیکھنے کا موقع ملا۔ میرا کردار بھی کافی دلچسپ تھا۔حال ہی میں میں نے ’آفس آفس چلی موسدّی کی بیٹی‘ میں کام کیا ہے، جس میں میں نے مرکزی کرداروں میں سے ایک، شکلا کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ وہی کردار ہے جسے پہلے سنجے مشرا جی نے ’آفس آفس‘ میں ادا کیا تھا۔ اس میں میں ان کے کردار کے بیٹے کے روپ میں ہوں۔ اس کردار کو اداکرنے میں بہت مزہ آیا کیونکہ ہر دن اور تقریباً ہر قسط میں کردار کا انداز مختلف ہوجاتا تھا۔ نام شکلا ہی رہتا تھا، لیکن کردار کی صورت بدلتی رہتی تھی۔ ایک قسط میں میں بنگالی ہدایتکار بنا، ایک میں بجلی محکمے کا ملازم، ایک میں انسپکٹر اور پھر ڈاکٹر کا کردار نبھایا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میں نے اداکاری کرتے کرتے اداکاری سیکھی ہے اور خود کو نکھارا ہے‘‘

کیا آپ نے اداکاری کی کوئی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے؟
ج: نہیں میں نے باقاعدہ طور پر اداکاری کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ زندگی خود انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں مختلف جگہوں پر کام کیا ہے اور کئی طرح کے لوگوں سے ملا ہوں۔ بچپن سے لے کر آج تک کئی واقعات دیکھے ہیں۔ لوگ کبھی خوش ہوتے ہیں، کبھی غمگین  اور زندگی میں مختلف حالات سے گزرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ تمام تجربات ایک اداکار کیلئے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ اداکاری میں انسان کو مختلف جذبات اور کرداروں کو سمجھنا پڑتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ میری والدہ ریلوے اسکول میں افسر اور بعد میں پرنسپل رہی ہیں۔ وہاں ایک سالانہ تقریب میں انہوں نے ایک ڈراما میںکام کیا تھا۔ میں بھی اس میں شامل ہوا تھا اور ان کے بیٹے کا کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح اسکول میں رقص کی مختلف تقریبات میں حصہ لیا کرتا تھا، لیکن باقاعدہ طور پر میں نے کوئی تھیٹر یا ڈراما نہیں کیا۔
کیا آپ نے کبھی شہرت حاصل کرنے کا خواب دیکھا تھا؟
ج:سچ کہوں تو میں نے کبھی شہرت کے پیچھے بھاگنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ میرے لیے سب سے اہم چیز اچھا کام ہے۔ اگر مجھے اچھا کردار اور اچھا کام ملے گا تو لوگ اسے دیکھیں گے اور شہرت خود بخود مل جائے گی۔ میرے سفر میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے ہیں۔ جب مجھے پہلا مرکزی کردار ملا تو لوگ مجھے پہچاننے لگے تھے۔ اس کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں تھوڑا پس منظر میں چلا گیا۔ اب بھی کافی لوگ مجھے دیکھ کر پہچان لیتے ہیں اور بعض اوقات میرے اصل نام کے بجائے میرے ادا کیے ہوئے کردار کے نام سے پکارتے ہیں۔
آپ نے طبی تعلیم حاصل کی ہے تو کیا  پریکٹس بھی کرتے ہیں؟
ج:جی ہاں، میری تعلیم میرے بہت کام آتی ہے۔ میں ممبئی آنے کے بعد ہی سے پریکٹس کررہا ہوں۔ جب میں کالج جاتا تھا، اسی وقت سے میں نے پریکٹس شروع کردی تھی۔ابتدا میں لوکھنڈوالا میں میرا کلینک تھا اور پھر گوریگاؤں میں کام کیا۔ میں پہلے اوشیوارہ میں رہتا تھا، اب میرا قیام میرا روڈ میں ہے۔ اداکاری میں جدوجہد کے دوران میری تعلیم اور طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اداکاری کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ علم کو بھی برقرار رکھوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK