Inquilab Logo Happiest Places to Work

لائبریری کی سیر

Updated: June 17, 2023, 10:45 AM IST | Ansari Tayyaba Israr Ahmed | Mumbai

سارے بچے مل کر ایک منفرد سیر کا منصوبہ بناتے ہیں۔ دادا جی انہیں لائبریری جانے کا مشورہ دیتے ہیں جسے وہ بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔

photo;INN
تصویر :آئی این این

دادا جان کمرے میں داخل ہوئے تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ سبھی بچے بالکل خاموش بیٹھے ہیں۔ ورنہ یہ جب بھی ساتھ ہوتے غل غپاڑے سے سارا گھر سر پر اٹھا لیتے۔ خیر دادا جان کمرے میں چھائی خاموشی کو توڑتے ہوئے بچوں سے مخاطب ہوئے، ’’ارے بھئی سب خیریت تو ہے؟ آپ لوگ اتنے چپ چاپ کیوں بیٹھے ہیں؟‘‘ ’’دادو! ہم لوگ ایک اہم مسئلہ پر غور کر رہے ہیں۔‘‘ ننھی زویا کا یہ جملہ سن کر دادا جان کو بے ساختہ ہنسی آ گئی۔ ’’اہم مسئلہ؟ آخر میں بھی تو سنوں میرے بچوں کو کیا مسئلہ درپیش ہے۔‘‘
 ’’دراصل ہم لوگ کسی مقام کی سیر کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ لیکن ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہے۔‘‘ علی نے اصل معاملہ سے دادا جان کو آگاہ کیا۔
  ’’لیکن بچو! ابھی گزشتہ ہفتے ہی اپ لوگ مہابلیشور کی سیر سے لوٹے ہیں اور اس سے قبل بھی پارک، چڑیا گھر....‘‘
 ’’جی دادا جی! لیکن ہم لوگ کسی منفرد سیر کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس سے ہمیں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل ہو اور مستقبل میں ہمارے کام ائے۔‘‘ مریم نے مدعا بیان کیا۔ 
 ’’اچھا تو یہ بات ہے۔‘‘ دادا جان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، ’’کیا آپ لوگ لائبریری کی سیر کرنا پسند کریں گے؟‘‘
 ’’لائبریری کی سیر....‘‘ تمام بچوں نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ کہا، ’’آج شام ٹھیک چار بجے آپ سبھی اپنی اپنی قلم اور بیاض لے کر تیار رہنا۔‘‘
 علی، اطہر، مریم، صوفی اور زویا دادا جان کے ساتھ وقت مقررہ پر لائبریری پہنچ گئے۔ ’’دیکھو بچو! یہ ہے لائبریری۔‘‘ ’’اسے اردو میں کتب خانہ کہتے ہیں ناں دادا؟‘‘ اطہر نے لائبریری میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔ 
 ’’ہاں بیٹا، لائبریری کے لئے اردو میں کتب خانہ ہی استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ اردو کا لفظ نہیں ہے۔ ’کتب خانہ‘ دو مختلف زبانوں کے لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ کتب، عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ کتاب کی جمع ہے۔ جبکہ خانہ فارسی زبان سے لیا گیا ہے جس سے مراد گھر اور جگہ ہے۔ کتب خانہ کا مطلب ہوا وہ جگہ جہاں مختلف موضوعات اور مختلف زبانوں کی ڈھیر ساری کتابیں ہوں۔‘‘ تمام بچوں نے یہ اہم بات اپنی اپنی ڈائری میں نوٹ کر لی۔ ’’طالب علمی کے زمانے میں، میں یہیں بیٹھ کر پڑھائی کیا کرتا تھا۔‘‘ دادا جان نے اپنے طالب علمی کے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا ہم بھی یہاں بیٹھ کر پڑھائی کر سکتے ہیں دادو؟‘‘
 ’’جی بالکل، لیکن یہاں کے نظم و ضبط کی پابندی شرط ہے۔ ورنہ یہاں کے منتظمین کی ڈانٹ سننا پڑ سکتی ہے۔دیکھو وہ ہیں اس لائبریری کے منتظم یعنی لائبریرین۔ لائبریری کے نگراں اور محافظ کو لائبریرین کہتے ہیں۔‘‘
 دادا جان بچوں کو لائبریرین کے متعلق بتاتے ہوئے گویا ہوئے۔ ’’اب تو یہاں کئی تبدیلیاں ہو گئی ہیں۔ کتابوں کے ذخیرہ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پہلے یہاں اردو، انگریزی اور ہندی زبان کی کتابوں کا محدود ذخیرہ تھا۔ اب مراٹھی اور عربی کی کتابوں کے مختلف خانوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔‘‘ دادا جان نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا، ’’وہاں جو کارڈس رکھے ہیں ان سے کتابیں ڈھونڈنے میں آسانی ہوتی ہے اسے کیٹلاگ کہتے ہیں۔‘‘ ’’دادا یہاں تو ڈھیر سارے اخبارات بھی ہیں۔‘‘ صوفی نے ایک میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’جی بیٹا! اس میز پر روزانہ شائع ہونے والے اخبارات رکھے جاتے ہیں۔ روزنامے، ہفت روزے اردو، ہندی، مراٹھی، انگریزی اور علاقائی زبان کے اخبار ہوتے ہیں۔ جن سے ہمیں شہر، ریاست ملک و بیرون ملک کی بہت سی خبریں اور معلومات ملتی ہیں۔‘‘
 ’’دادا جان! اخبار پڑھنے کے تو بے شمار فائدے ہیں۔ ہمارے اردو کے استاد کے کہنے پر اب میں بھی پابندی سے اخبار کا مطالعہ کرنے لگا ہوں۔‘‘ علی نے خوش ہوتے ہوئے بتایا، ’’اب سے ہم بھی اخبار پڑھیں گے۔‘‘ تمام بچوں نے یک زبان ہو کر کہا۔ دادا جان نے بچوں کے اس فیصلے پر انہیں شاباشی دی۔
 ’’یہ دیکھو....‘‘ دادا جان نے ایک الماری کھولتے ہوئے کہا، ’’اس الماری میں پندرہ روزہ، ماہانہ اور سہ ماہی شائع ہونے والے میگزین رکھے جاتے ہیں۔‘‘ ’’دادو، کیا یہاں بچوں کے لئے کہانیوں کی کتابیں بھی ہوتی ہیں؟‘‘ زویا نے اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔
 ’’بالکل ہوتی ہیں۔ سامنے والی دونوں الماریوں میں ’ادب اطفال‘ یعنی بچوں کیلئے شائع ہونے والے مختلف رسالے اور کہانیوں کی کئی کتابیں ہیں۔ ان رسالوں میں کہانیوں کے علاوہ نظمیں، ڈرائنگ اور لطیفے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ اس طرف دینی، سائنسی، تاریخی موضوعات پر مبنی مختلف کتابوں کے شیلف ہیں۔ پیچھے کی جانب دیگر علوم کی کتابوں کے خانے ہیں۔‘‘ ’’دادا جی! کیا لائبریری میں اردو ادب کی کتابوں کے بھی مخصوص شیلف ہوتے ہیں؟‘‘ مریم نے تجسس سے پوچھا۔
 ’’جی بالکل اردو ادب کی مختلف اصناف کے لئے علاحدہ الماریاں ہیں۔ دیکھو اس طرف ناول اور افسانوں کا سیکشن ہے۔ اور اس شیلف میں خطوط، انشائیوں اور خاکوں کا مجموعہ ہے۔ جبکہ اس جانب اردو کے شعراء کی تصانیف موجود ہیں۔‘‘ ’’یہاں تو انگریزی کی بے شمار کتابیں ہیں۔‘‘ اطہر نے انگریزی کے سیکشن کی طرف بڑھتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ ’’جس طرح اردو کی کتابوں کی درجہ بندی کی گئی ہے اسی طرح انگریزی ادب کی کتابوں کو بھی مختلف خانوں میں ترتیب سے رکھا گیا ہے تا کہ مطلوبہ کتاب تلاش کرنا آسان ہو۔‘‘
 ’’دادو! اطہر بھائی کو تو انگریزی کی کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔‘‘ زویا نے اپنے بھائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔ ’’اطہر بیٹا تم یہاں سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہو۔ جب بھی وقت ملے یہاں آ کر اپنی من پسند کتابیں پڑھ لیا کرو۔‘‘ دادا جان نے اطہر کو مشورہ دیا۔
 ’’یہ اتنی موٹی کتابوں میں کیا ہے دادا جان؟‘‘ صوفی نے ایک الماری کے قریب رکتے ہوئے پوچھا۔
 ’’یہ ڈکشنری کا شیلف ہے بچو! یہاں اردو، عربی، انگریزی، مراٹھی اور ہندی کی لغات ہیں۔‘‘
 ’’لغت میں الفاظ اور ان کے معنی ہوتے ہیں ناں دادا جان؟‘‘ علی نے اردو کی لغت کھولتے ہوئے دریافت کیا۔
 ’’جی بیٹا! لغت میں الفاظ کے معنی، الفاظ کے استعمال کی معلومات، تلفظ، صوتیات اور دیگر معلومات درج ہوتی ہیں۔ ذخیرہ الفاظ میں اضافے کے لیے اپ لوگوں کو لغت کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔‘‘ ’’یہ دیکھیں دادا جی! یہاں انسائیکلو پیڈیا کا شیلف بھی ہے۔‘‘ مریم نے گویا اعلان کیا۔
 ’’انسائیکلو پیڈیا کیا ہوتا ہے؟‘‘ صوفی نے جاننا چاہا۔ ’’انسائیکلو پیڈیا کائنات میں موجود مختلف موضوعات کے بارے میں معلومات کا ایک مجموعہ ہے۔‘‘ مریم نے بتایا۔
 ’’شاباش بیٹا! بالکل درست۔ یہ کتابوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں دنیا کے ہر علم کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کی ہر جلد کو مضمون کے نام کے لحاظ سے حروف تہجی کے مطابق مختلف مضامین میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر کافی معلومات حاصل ہوتی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بنانے میں کافی وقت لگتا ہے۔
 دادا جان کی باتیں سبھی بچے دلچسپی سے دادا جان کى باتیں سن رہے تھے۔ 
 ’’کہو بچو ! لائبریری کی سیر پسند ائی؟‘‘ واپسی کے وقت دادا جان نے پوچھا۔ ’’بے حد مزہ آیا دادا جی۔ یہ ہماری اب تک کی منفرد اور دلچسپ سیر تھی۔‘‘ تمام بچوں نے مریم کی تائید کی۔
 ’’بہت اچھے بچو! مجھے خوشی ہے کہ اپ سبھی کو یہ سیر پسند ائی۔ ایک بات یاد رکھنا آپکو صرف اپنے نصاب کی کتابوں پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ خوب سے خوب تر علم حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ غیر نصابی کتابیں بھی ہمارے مطالعے میں شامل رہیں۔
 تمام بچوں نے پابندی سے لائبریری آنے کا عہد کیا اور دادا جان کے ساتھ خوشی خوشی گھر کو روانہ ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK