Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممتا بنرجی کا استعفیٰ دینے سے انکار، بی جے پی والیکشن کمیشن پر ساز باز کا الزام

Updated: May 05, 2026, 8:01 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے استعفیٰ دینے سے انکارکردیا، انہوں نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ملی بھگت کا الزام عائد کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا۔

West Bengal Chief Minister Mamata Banerjee. Photo: INN
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حیرت انگیزفتح کے ایک دن بعد، سبکدوش ہونے والی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کو انڈین الیکشن کمیشن، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر زبردست حملہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اس الیکشن کو اپنے سیاسی کیریئر کا سب سےدھاندلی زدہ الیکشنقرار دیا۔کولکتہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بنرجی نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں استعفیٰ نہیں دوں گی، میں ہاری نہیں ہوں، میں راج بھون نہیں جاؤں گی... یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نہیں۔ اب میں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ ہم انتخاب نہیں ہارے۔ یہ ہمیں شکست دینے کی ان کی کوشش ہے۔ باضابطہ طور پر، وہ الیکشن کمیشن کے ذریعے ہمیں شکست دے سکتے ہیں، لیکن اخلاقی طور پر، ہم نے انتخاب جیتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جس الیکشن میں تقریباً۳۰؍لاکھ افراد ووٹ دینے سے محروم ہوں،اسے پُرامن کیسے کہا جاسکتاہے

بعد ازاں ممتا بنرجی نے براہ راست چیف الیکشن کمشنر کو نشانہ بناتے ہوئے تعصب کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، ’’سی ای سی اس انتخاب کا ولن بنا، تاکہ عوام کے جمہوری حقوق لوٹے جائیں اور ای وی ایم لوٹی جائے۔‘‘ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ان کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا، ’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ ووٹنگ کے بعد ای وی ایم  ۸۰؍ سے ۹۰؍ فیصد چارج کیسے رہتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ ممتا نے بی جےپی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی قیادت کی مداخلت کا دعویٰ کیا۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پولنگ سے پہلے تقریباً۹۰؍ لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے، اور دعویٰ کیا کہ عدالتی مداخلت سے۳۲؍ لاکھ نام بحال ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال میں مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں کے نتائج حیران کن

اس کے علاوہ انہوں نے ووٹنگ سے پہلے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کو منظم طریقے سے منتقل کیا گیا، جبکہ پولنگ سے پہلے ٹی ایم سی کارکنوں پر چھاپے اور گرفتاریاں تیز کر دی گئیں۔حالانکہ الیکشن کمیشن اور بی جےپی نے ابھی ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ بیانات مغربی بنگال میںانتخابی نتائجکے بعد آئے، جہاں بی جےپی نے ۲۰۷؍ نشستیں جیتیں، جبکہ ترنمول کانگریس۸۰؍ نشستوں پر سمٹ گئی، جس سے  کے بعد ریاست میں ٹی ایم سی کی۱۵؍ سالہ حکومت ختم ہوگئی۔ممتا بنرجی نے انتخابات کے بعد ہونے والے مبینہ تشدد کی تحقیقات کے لیے ٹی ایم سی کی ایک حقائق تلاش کرنے والی کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا۔جو  ان جگہوں کا دورہ کریں گے جہاں ٹی ایم سی کے دفاتر پر قبضہ کیا گیا ہے اور جہاں تشدد ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھیشیک بنرجی کا دفتر بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نتائج کے بعد متعدد انڈیا بلاک لیڈروں نے ان سے رابطہ کیا، جن میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، اروند کیجریوال، ادھو ٹھاکرے، اکھلیش یادو، تیجسوی یادو اور ہیمنت سورین شامل ہیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو نے فوری طور پر کولکاتا آنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن انہوں نے انہیں انتظار کرنے کو کہا،’’ وہ کل آئیں گے۔ ایک ایک کرکے سب آئیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK