یہ سائنسی انقلاب کا دَور تھا۔ قدیم شہر میں میرا آج کا جدید سراپا عجیب معلوم ہورہا تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ مَیں اچانک ’’اوڈ وَن آؤٹ‘‘ بن چکا ہوں۔ دکانوں مکانوں میں جھانکتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا کہ ایک کیلنڈر پر نظر پڑی۔ سال تھا ۱۶۰۹ء۔ تبھی ذہن میں جھماکا سا ہوا کہ اس وقت گلیلیو گلیلی اسی شہر میں ہوں گے۔
ایک دلچسپ کتاب کے مطالعہ میں غرق تھا کہ لگا چاروں طرف اندھیرا چھا گیا ہے۔ مَیں گھبرا گیا۔ تبھی سامنے کی تاریک دیوار پر ایک دروازہ کھلا۔ تاریکی سے بچنے کیلئے تیزی سے قدم بڑھائے اور دروازے میں داخل ہوگیا۔ مگر یہ کیا... یہ دنیا ہی مختلف ہے۔ نہ بجلی کے کھمبے ہیں، نہ موٹر گاڑیاں، اور نہ ہی آج کے زمانے جیسی کوئی سہولت۔ سڑکوں پر لوگ پیدل چل رہے تھے اور کچھ گھوڑوں پر سوار تھے۔ عمارتیں بھی کافی قدیم تھیں۔ تبھی میری نظر ایک عمارت ’’پلازو دیالا ریجیونے‘‘ پر پڑی۔ مَیں اٹلی کے مشہور شہر پادوا میں تھا۔ اس عمارت کے بارے میں کہا جاتا تھاکہ یہ پورے یورپ میں بغیر کسی چھت کے ایستادہ سب سے بڑی عمارت تھی۔
یہ سائنسی انقلاب کا دَور تھا۔ قدیم شہر میں میرا آج کا جدید سراپا عجیب معلوم ہورہا تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ مَیں اچانک ’’اوڈ وَن آؤٹ‘‘ بن چکا ہوں۔ دکانوں مکانوں میں جھانکتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا کہ ایک کیلنڈر پر نظر پڑی۔ سال تھا ۱۶۰۹ء۔ تبھی ذہن میں جھماکا سا ہوا کہ اس وقت گلیلیو گلیلی اسی شہر میں ہوں گے۔ بس پھر کیا تھا، آس پاس کے لوگوں سے ان کے مکان کا پتہ پوچھنے لگا۔ پہلے تو لوگوں نے مجھے عجیب نظروں سے گھورا پھر شاید ’’اجنبی‘‘ سمجھ کر پتہ بتادیا۔
ہانپتا کانپتا گلیلیو کے مکان تک پہنچا۔ دھڑکنیں تیز تھیں۔ دروازے پر دستک دی تو آواز آئی، ’’اَونتی!‘‘ (اندر آجاؤ)۔ آنکھیں میچیں اندر آیا تو گلیلیو صاحب لکڑی کی ٹوٹی پھوٹی میز پر بیٹھے میری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔ میز پر کاغذات، کتابیں، قلم، شیشے کے ٹکڑے اور کئی عجیب آلات بکھرے ہوئے تھے۔ میرا جائزہ لیتے ہوئے کہا ’’تمہارا ہی انتظار تھا۔ جانتا ہوں کہ تم ایک دن ساتھ گزارنا چاہتے ہو، ہے نا؟‘‘
مَیں نے حیرت سے گردن ہلائی اور فرض کرلیا کہ شاید انہوں نے اپنے مشہور ٹیلی اسکوپ سے معلوم کرلیا ہو کہ ۲۰۲۶ء کا ایک ادنیٰ سا نوجوان اُن کے زمانے میں اُن تک ضرور پہنچے گا۔ انہوں نے چٹکی بجائی اور مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی۔ صبح آنکھ کھلی تو دیکھا وہ میز پر بیٹھے کچھ حساب کتاب کر رہے ہیں۔ کبھی کاغذ پر کچھ لکھتے، کبھی کسی چیز کو غور سے دیکھتے اور پھر دوبارہ حساب کرنے لگتے۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: ’’ابنِ بطوطہ نے ہاتھ میں پکڑے فون کو حیرت اور دلچسپی سے دیکھا‘‘
مَیں نے پوچھا، ’’آپ اتنا حساب کیوں کرتے ہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’قدرت کو سمجھنے کیلئے صرف دیکھنا کافی نہیں۔ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ چیزیں کس رفتار سے حرکت کرتی ہیں، کتنی دور جاتی ہیں اور ان کے درمیان کیا تعلق ہے۔ ‘‘ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور ٹیلی اسکوپ تک لائے۔ تب مجھے خوشی ہوئی کہ میرا اس زمانے میں ’’پھنس‘‘ جانا فائدے کا سودا ہے۔ دنیا کا پہلا ٹیلی اسکوپ اس کے موجد کے ساتھ دیکھنے کا شرف حاصل ہورہا تھا، خود پر فخر کیوں نہ ہوتا۔ پھر زبان سے بیوقوفانہ سوال نکلا، جس کی مزید بیوقوفی کا احساس اس وقت ہوا جب گلیلیو نے تاسف سے کہا، ’’یہاں اور کون ہے، فریتیلینو! (چھوٹے بچے!)‘‘ مَیں نادم ہوگیا۔ پھر ٹیلی اسکوپ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا ’’دوربین کا بنیادی خیال پہلے سے ہے لیکن مَیں نے اسے مزید بہتر بنا کر آسمان کا مشاہدہ کرنے کیلئے استعمال کیا۔ ‘‘ پھر انہوں نے ٹیلی اسکوپ درست کیا اور چاند کو دیکھنے کا حکم دیا۔ مَیں نے کہا ’’جناب! ابھی تو صبح ہوئی ہے۔ ‘‘
’’صبح ہوئی ہے!‘‘ انہوں نے خود سے کہا، پھر چٹکی بجائی اور اندھیرا چھا گیا۔ مَیں حیران و پریشان کھڑا ان کی چٹکی کا راز سمجھنے میں الجھا ہوا تھا کہ انہوں نے ٹیلی اسکوپ میں دیکھنے کا اشارہ کیا اور مَیں نے خاموشی سے چھوٹے شیشے سے بائیں آنکھ لگادی۔ چاند ہموار نہیں تھا۔ اس کی سطح پر گڑھوں جیسے نشانات نظر آ رہے تھے۔ میرے عقب میں گلیلیو صاحب کی تقریر جاری تھی، ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ آسمانی اجسام ہموار ہیں لیکن مشاہدہ کچھ اور دکھاتا ہے۔ ‘‘ مَیں آنکھ لگائے یوں بیٹھا تھا جیسے دنیا میں ٹیلی اسکوپ سے قیمتی چیز اور کوئی نہیں۔ انہوں نے مجھے ’’کھینچتے‘‘ ہوئے ٹیلی اسکوپ سے الگ کیا اور کچھ ایڈجسٹمنٹ کرنے کے بعد دوبارہ آنکھ لگانے کا اشارہ کیا۔ مَیں نے جونہی آنکھ لگائی ان کی تقریر پھر شروع ہوگی، ’’اب تم مشتری (جوپیٹر) دیکھ رہے ہو۔ اس کے گرد گردش کرنے والے چار اجسام آیو، یوروپا، گینی میڈ اور کالیستو ہیں۔ ‘‘ مَیں نے سوال کیا، ’’کیا آپ اپنی تحقیق سے لوگوں کے خیالات بدل سکے ہیں ؟‘‘ کہنے لگے، ’’کچھ لوگوں کو میرے مشاہدات قبول ہیں، کچھ کو اختلاف ہے۔ جب کوئی نئی دریافت پرانے خیالات سے مختلف ہو تو اسے قبول کرنے میں وقت لگتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مجھے زہرہ بھی دکھایا۔
’’آپ نے سائنس سے کیا سیکھا؟‘‘ میرا اگلا سوال سن کر وہ مسکرائے،’’کسی بات کو صرف اس لئے سچ نہ مان لو کہ لوگ اسے عرصے سے مانتے آئے ہیں۔ مشاہدہ کرو، سوال کرو، تجربہ کرو اور پھر نتیجہ پر پہنچو۔ ‘‘ چند لمحوں کے بعد انہوں نے کہا، ’’خیر! اب تمہارے جانے کا وقت ہوگیا ہے۔ ‘‘ میری کوئی بات سننے سے پہلے ہی انہوں نے چٹکی بجائی اور میری آنکھ کھل گئی۔
کالم نگار سرکاری امتحان ایس ایس سی کی تیاری کررہے ہیں اور تعلیمی انقلاب کے سابق طالب علم ہیں۔