• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

سُنار کا کاکی شرافت

Updated: March 04, 2023, 10:47 AM IST | Wali Muhammad Qazi | Kausa, Mumbra

کئی سال پہلے کسی گاؤں میں ایک کسان اپنی بیوی اور اکلوتے بیٹے موہن کے ساتھ چین وسکون کی زندگی گزار رہا تھا۔

photo;INN
تصویر :آئی این این


کئی سال پہلے کسی گاؤں میں ایک کسان اپنی بیوی اور اکلوتے بیٹے موہن کے ساتھ چین وسکون کی زندگی گزار رہا تھا۔ اور جب موہن تقریباً دس سال کا ہوگیا تب کسان ایک مہلک مرض میں مبتلا ہوکرناگہانی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ کسان کی بیوی نے ہمت نہ ہارتے ہوئے موہن کی پڑھائی جاری رکھی۔ اور کھیتی اُجرت پر کسی دوسرے شخص کے حوالے کردی۔آمدنی کے اس چھوٹے سے ذریعہ کی بدولت سے ان کی معاشی حالت بدحال ہوگئی۔ اور کبھی کبھی فاقہ کشی کی نوبت بھی سر پر منڈلانے لگی۔ غرض ایک دن کسان کی بیوی نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ’’تیرے بابا نے صندوق میں رکھا ہوا ایک ہیرا مجھے مل گیا ہے۔ بہتر ہے کہ اُسے سُنار کاکا کی دُکان میں جاکر فروخت کردے۔‘‘
 یہ سُنار کاکا موہن کے پتاجی کے سگے بھائی تھے، جن کی اُسی گاؤں میں سونے چاندی اور ہیروں کی چھوٹی سی دُکان تھی۔ سُنار کاکا کی ایمانداری کی وجہ سے اطراف کے گاؤں سے بہت سارے لوگ سونے چاندی کے زیورات بنانے یا فروخت کرنے کے لئے ان کے یہاں ہی آتے تھے۔
 ایک دن موہن اپنے کاکا کی دُکان پر ہیرالے کر گیا اور اُسے فروخت کرنے کے لئے کاکا کے سامنے پیش کیا۔ کاکا نے ہیرے کو اچھی طرح دیکھ اور پرکھ کر اُسے ۲۰؍ ہزار روپے دیئے اور کہا کہ ’’بیٹا! آج کل بازار میں مندی ہے ورنہ اس ہیرے کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا تھا۔
 آج اس واقعہ کو دس سال گزر گئے۔ موہن نے گریجویشن کا امتحان پاس کرکے ملازمت کی تلاش میں بھاگ دوڑ شروع کردی۔ اُس دوران سُنارکاکا نے تیرتھ یاترا جانے کا منصوبہ بنالیا۔ اور موہن کو اپنے غیر حاضری میں تھوڑے دنوں کے لئے دُکان کی ذمہ داری سونپ دی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے دُکان کے تجوری کی چابی اُس کے حوالے کردی۔ 
 ایک دن تجوری کھولنے کے بعد موہن کی نظر ایک بکس پر گئی اور تجسّس سے اُسے اُٹھاکر دیکھا تو اُس میں فروخت کیا ہوا ہیرا احتیاط سے رکھا ہوا تھا۔ اور اُس ہیرے کے نیچے اُس کے پتاجی کے نام کی پرچی چپکی ہوئی تھی۔ اچانک موہن کے دل میں یہ خیال آگیاکہ کیوں نہ شہر میں جاکر بڑے بڑے جوہری کے یہاں اس ہیرے کی اصل قیمت دریافت کی جائے؟ دوسرے دن موہن کسی کو بتائے بغیر شہر چلا گیا اور وہاں اُس نے بڑے بڑے ماہر جوہری کو ہیرا دکھلایا۔ مگر سبھی نے یہی کہا کہ یہ محض کانچ کا ٹکڑا ہے، جس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ تمام جوہری کی یہ رائے سُن کر اُسے اصل حقیقت کا انکشاف ہوگیا۔ اور یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اُس کے کاکا نے کس طرح نقلی ہیرے کو اصلی ظاہر کرکے دونوں ماں بیٹے کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کیا۔ اور دس سال پہلے کا وہ واقعہ اُس کے آنکھوں کے سامنے آکر اپنے کاکا کے لئے عقیدت کے آنسو چھلک پڑیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK