Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوٹیوب ٹی وی پر۳۰؍ سیکنڈ کا ویڈیو دکھایا جائے گا، اِسکپ نہیں ہوگا

Updated: March 13, 2026, 10:33 PM IST | Mumbai

اس اپڈیٹ کے ساتھ یوٹیوب ممکن ہے کہ پرانے ٹی وی اسٹائل کے لمبے اشتہاری وقفے متعارف کروائے جنہیں اسکیپ نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ناظرین کو اپنی پسند کی ویڈیو شروع ہونے سے پہلے تھوڑا زیادہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

Youtube.Photo:INN
یوٹیوب ٹی وی ۔ تصویر:آئی این این

یوٹیوب نے صارفین کے لیے ایک اہم تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اشتہارات سے متعلق ہے۔ مفت استعمال کرنے والے صارفین کے لیے یوٹیوب لمبی ویڈیوز پر مختصر اور طویل دونوں قسم کے اشتہارات دکھاتا ہے تاکہ اپنی آمدنی برقرار رکھ سکے اور سروس کو جاری رکھ سکے، جبکہ پریمیئم ممبرز اشتہارات سے بچنے کے لیے فیس ادا کرتے ہیں۔
اب تک زیادہ تر طویل اور کچھ ۳۰؍سیکنڈ کے اشتہارات کو اسکیپ کیا جا سکتا تھا لیکن آنے والے مہینوں میں یہ تبدیل ہو سکتا ہے، خاص طور پر ٹی وی پر دیکھنے والے صارفین کے لیے۔ اطلاعات کے مطابق گوگل کی ملکیت والا یہ ویڈیو پلیٹ فارم ایک نئے اشتہاری فارمیٹ کی جانچ کر رہا ہے جس میں اسمارٹ ٹی وی یا کنیکٹڈ ٹی وی ڈیوائسز پر ویڈیوز دیکھتے وقت ۳۰؍ سیکنڈ کے ایسے اشتہارات دکھائے جائیں گے جنہیں اسکیپ نہیں کیا جا سکے گا۔
 اسمارٹ ٹی وی پر لمبے اشتہارات
نئے فارمیٹ کے تحت، ٹی وی پر یوٹیوب دیکھنے والے کچھ صارفین کو۳۰؍ سیکنڈ کے ایسے اشتہارات دیکھنے پڑ سکتے ہیں جنہیں مکمل دیکھنا ضروری ہوگا اس کے بعد ہی ویڈیو شروع ہوگی۔ اس سے پہلے عام طور پر ایسے اشتہارات دکھائے جاتے تھے جنہیں پانچ سیکنڈ بعد اسکیپ کیا جا سکتا تھا یا پھر تقریباً ۱۵؍ سیکنڈ کے دو مختصر اشتہارات ہوتے تھے۔ اس اپڈیٹ کے ساتھ یوٹیوب ممکن ہے کہ ان فارمیٹس کی جگہ پرانے ٹی وی جیسے لمبے اشتہاری وقفے متعارف کروائے جنہیں اسکیپ نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ناظرین کو اپنی منتخب ویڈیو شروع ہونے سے پہلے تھوڑا زیادہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
 یہ فیچر کن صارفین کے لیے ہے؟
یہ فیچر زیادہ تر ان صارفین کے لیے ہے جو یوٹیوب کو اسمارٹ ٹی وی، اسٹریمنگ اسٹکس یا دیگر کنیکٹڈ ٹی وی ڈیوائسز کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوٹیوب اپنی اشتہاری حکمت عملی کو تبدیل کر رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب زیادہ لوگ اسمارٹ فون کے بجائے بڑی اسکرینوں پر ویڈیوز دیکھ رہے ہیں۔ اسے اسٹریمنگ کمپنی کے لیے ایک معاشی موقع بھی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ صارفین کو اشتہارات سے پاک تجربہ حاصل کرنے کے لیے پریمیئم سبسکرپشن خریدنے کی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کوچز کو پی ایس ایل ۱۱؍ کے لیے این او سی جاری


یوٹیوب اسکیپ نہ ہونے والے اشتہارات کیوں لا رہا ہے؟
یہ اپڈیٹ اس لیے بھی آ رہا ہے کیونکہ اب زیادہ لوگ یوٹیوب کو ٹی وی اسکرینس  پر دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ٹی وی یوٹیوب دیکھنے کے لیے تیزی سے بڑھنے والے پلیٹ فارمز میں سے ایک بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کیا ’’دُھرندھر۲‘‘ میں ارجن رامپال بھی اکشے کھنہ کی طرح مشہور ہوں گے؟

اس کا ناظرین پر کیا اثر ہوگا؟
جو لوگ یوٹیوب مفت میں استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے اس تبدیلی کا مطلب ہو سکتا ہے کہ ٹی وی پر ویڈیوز دیکھتے وقت انہیں زیادہ دیر تک ایسے اشتہارات دیکھنے پڑیں جنہیں اسکیپ نہیں کیا جا سکے گا۔ تجربہ کچھ حد تک روایتی ٹی وی جیسا ہو سکتا ہے، جہاں پروگرام دوبارہ شروع ہونے سے پہلے اشتہارات مکمل طور پر چلتے ہیں۔ اور جو لوگ اشتہارات برداشت نہیں کرنا چاہتے، ان کے لیے یوٹیوب پریمیئم سبسکرپشن ایک حل ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ فیچر ابھی  تجرباتی  مرحلے میں ہے۔ اگر اسے وسیع پیمانے پر متعارف کرایا گیا تو ٹی وی پر یوٹیوب دیکھنے والے صارفین کو جلد ہی ویڈیو شروع ہونے سے پہلے لمبے اور اسکیپ نہ ہونے والے اشتہارات دیکھنے پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK