بامبے ہائی کورٹ نے اداکارہ شلپا شیٹی کے پرسنالٹی رائٹس کو محفوظ بنانے اور آن لائن ان کی شناخت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک اہم حکم جاری کیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 10, 2026, 3:56 PM IST | Mumbai
بامبے ہائی کورٹ نے اداکارہ شلپا شیٹی کے پرسنالٹی رائٹس کو محفوظ بنانے اور آن لائن ان کی شناخت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک اہم حکم جاری کیا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ نے منگل کے روز اداکارہ شلپا شیٹی کے پرسنالٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے ایک حکم جاری کیا۔ اداکارہ کی ٹیم کے ایک سرکاری بیان میں اس کی تصدیق کی گئی۔ اس حکم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کے نام، تصویر، آواز، مشابہت یا شخصیت کا کسی بھی طرح استعمال یا غلط انداز میں پیش کرنے پر پابندی ہوگی۔
عدالت کا حکم
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ مختلف پلیٹ فارمز پر موجود ہتک آمیز اور خلاف ورزی کرنے والے مواد کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔ حکم میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کسی عوامی شخصیت کی شناخت اور ساکھ کو ان کی اجازت کے بغیر تجارتی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ڈیجیٹل طور پر اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔بامبے ہائی کورٹ نے شلپا شیٹی کے پرسنالٹی رائٹس کیس میں واضح کر دیا کہ انٹرنیٹ ڈیپ فیک اور ڈیجیٹل نقل کا اڈہ نہیں بن سکتا۔ عدالت نے ان کے پرسنالٹی رائٹس کی حفاظت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نام، تصویر، آواز اور شخصیت قیمتی قانونی حقوق ہیں جنہیں ان کی اجازت کے بغیر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال یا ڈیجیٹل طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور انٹرمیڈیئریز کو ایسے مواد کو ہٹانے کے لیے تیزی سے کام کرنا چاہیے جو ان کی عزت اور ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:بی سی سی آئی کا بڑا انعام، ٹیم انڈیا کو۱۳۱؍ کروڑ روپے ملیں گے
شلپا شیٹی نے عدالت سے رجوع کیا تھا
نومبر۲۰۲۵ء میں شلپا شیٹی نے اپنی شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کی وکیل ثناء رئیس خان نے کہا تھاکہ ’’ شلپا شیٹی کے نام، تصویر اور شناخت کا غلط استعمال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ قانونی مداخلت ضروری ہو گئی ہے۔‘‘ ثناءخان نے مزید کہا کہ ’’ان کی شخصیت کئی دہائیوں کی ساکھ، نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کا نتیجہ ہے۔ کسی بھی پلیٹ فارم کو خفیہ طور پر تجارتی فائدے کے لیے ان کی شناخت کو استعمال کرنے کا حق نہیں ہے۔ ہائی کورٹ میں ہمارا مقدمہ مشہور شخصیات کے حقوق کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس کی مثال ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’ستارے زمین پر‘‘ کی او ٹی ٹی ریلیز، ۹؍ ماہ کا انتظار ختم
دیگر اداکار بھی پہنچے عدالت
اس سال کے آغاز میں ہدایتکار و پروڈیوسر کرن جوہر نے بھی اپنی شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔ یہ درخواست ان الزامات کے بعد دائر کیا گیا تھا کہ ایشوریا رائے اور ابھیشیک بچن سے متعلق معاملات کے بعد جوہر کے نام کو فنڈ ریزنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔اس سے پہلے اداکارانِل کپور، جیکی شروف اور رتیک روشن سمیت کئی فنکار بھی اپنے پرسنالٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع ہوچکے ہیں۔