ٹرمپ نے نیٹو سمٹ میں جنگ بندی ختم کرنے اورگفتگو بند کرنے کا اعلان کیا،ایران کے ۸۰؍ ٹھکانوں پر حملے ، ایران کا تیل فروخت کرنے کا لائسنس بھی منسوخ
EPAPER
Updated: July 08, 2026, 11:31 PM IST | Washington
ٹرمپ نے نیٹو سمٹ میں جنگ بندی ختم کرنے اورگفتگو بند کرنے کا اعلان کیا،ایران کے ۸۰؍ ٹھکانوں پر حملے ، ایران کا تیل فروخت کرنے کا لائسنس بھی منسوخ
:مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے کیوں کہ امریکہ کے بد دماغ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے عبوری معاہدے کو اپنی طرف سے ختم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ مزید مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں۔ ہم نے اپنا وقت ضائع کیا ۔ ایران سے بات چیت کرکے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ ان کے اس بیان کے ساتھ ہی امریکی افواج نے ایران میں نئی فوجی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ اس کے تحت ایران کے کم از کم ۸۰؍ ٹھکانوں پر پے در پے حملے کئے گئے۔ یہ زیادہ تر حملے ایران کے ساحلی شہروں پر کئے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے جوابی حملے کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر سخت تنقید کی۔ ٹرمپ نے ایران کو’’ کینسر‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے جنگ بندی ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیگا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر امریکی مذاکرات کار بات چیت جاری رکھنا چاہیں تو وہ کر سکتے ہیں، تاہم ان کے نزدیک ایران کے ساتھ سفارتی عمل مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔
ٹرمپ کے اس بیان کو امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے خاتمے کا باضابطہ اعلان تصور کیا جا رہا ہے۔اس دوران امریکی حکومت نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ایران کو تیل فروخت کرنے کی دی گئی خصوصی اجازت بھی واپس لے لی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانا ہے۔ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ امریکی فوج نے ایران میں۸۰؍ سے زائد فوجی اہداف پر کارروائیاں کیں، جن میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار تنصیبات، اینٹی شپ میزائل نظام اور آبنائے ہرمز کے اطراف موجود پاسداران انقلاب کی متعدد تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں امریکی بحری بیڑے کے اڈے اور کویت میں علی السالم ایئر بیس سمیت متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاسداران نے کہا یہ آپریشن ابتدائی ردعمل تھا اگر اب امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو اسے سخت جواب دیا جائیگا۔