Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیز فائر ختم کرنے میں اتنی عجلت کیوں؟

Updated: July 09, 2026, 12:57 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کی تدفین سے قبل، جبکہ پورا ملک ماتم کناں ہے، ٹرمپ کا ازسرنو جنگ کا بگل بجانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کو نہ تو اہل ایران کی شہادتوں اور جاری دُعائیہ تقاریب کا احساس ہے نہ ہی اسے یہ سوال پریشان کرتا ہے کہ دُنیا کیا کہے گی کیونکہ ایک طرف آپ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Missile.Photo:INN
میزائل۔ تصویر:آئی این این
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کی تدفین سے قبل، جبکہ پورا ملک ماتم کناں ہے، ٹرمپ کا ازسرنو جنگ کا بگل بجانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کو نہ تو اہل ایران کی شہادتوں اور جاری دُعائیہ تقاریب کا احساس ہے نہ ہی اسے یہ سوال پریشان کرتا ہے کہ دُنیا کیا کہے گی کیونکہ ایک طرف آپ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور بقول خود معاہدہ کے قریب پہنچ چکے ہیں اور دوسری طرف یہ اعلان کررہے ہیں کہ سیز فائر ختم ہوگیا۔ شہادتوں اور دُعائیہ تقاریب کا لحاظ نہ رکھنا بداخلاقی، بد تہذیبی اور انسانی اقدار سے شرمناک فرار ہے جبکہ مذاکرات کے باوجود جنگ بندی ختم کرنا عہد شکنی ہے جس کے عادی ہیں صدرِ امریکہ ٹرمپ۔ اسی لئے کوئی اُنہیں سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ منگل کو ناٹو کی دو روزہ کانفرنس کے پہلے دن انقرہ میں اُنہوں نے اس تنظیم کے ۳۲؍ ملکوں کے سربراہان کو بے نقط سنائی مگر کیا کسی نے اس پر توجہ دی؟ اُنہیں شکایت تھی کہ ایران کے خلاف ناٹو ملکوں نے اُن کا ساتھ نہیں دیا۔ کیوں دیتے ساتھ؟ وہ نیتن یاہو کے دَبے ہوئے تھوڑی ہیں۔ آپ کو نیتن یاہو سے ڈر لگتا ہوگا، کسی اور کو کیوں لگے؟ حالانکہ انصاف پسندی کے باب میں ناٹو ملکوں کا بھی اتنا ہی نام خراب ہے۔ وہ بھی اسرائیل نواز ہیں مگر تل ابیب کے اتنے زیر اثر نہیں ہیں کہ نیتن یاہو کا کہا پتھر کی لکیر ہو۔ اُن کے دلوں میں ایران کیلئے کوئی نرم گوشہ نہ ہونے کے باوجود انہوں نے ٹرمپ کی نہیں سنی کیونکہ فی الحال وہ روس کے خلاف لڑرہے ہیں، انہیں ایک اور محاذ کھول کر اپنے خزانے کا رُخ دوسری طرف موڑنا نہیں ہے۔ کیا جنگ بندی ختم کرکے ٹرمپ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین اور اس کیلئے اُمڈنے والے جم غفیر کی جانب سے عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے؟ یا ایسا کرنے کا کوئی معاشی مقصد ہے؟ اُن کے بارے میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ وہ جنگ سے متعلق ہر اعلان عالمی شیئر بازار کو دھیان میں رکھ کر کرتے ہیں۔ تو کیا اس بار بھی ایسا ہی کچھ اُن کے ذہن میں ہے؟
 
 
جو بھی ہو، اگر انہیں جنگ کرنی ہو تو وہ اس قابل نفریں عمل کیلئے آزاد ہیں، یقیناً اس کا جواب بھی اُنہیں ملے گا، جیسا کہ مارچ، اپریل اور مئی کے دوران ملا، مگر اِس وقت توقف کی ضرورت تھی جب پورا ایران سوگوار ہے۔ ایران سے ٹرمپ کے بیر کا اندازہ اس خبر سے لگایا جاسکتا ہے جو ۷؍ جولائی کے انڈین ایکسپریس نے ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے حوالے سے شائع کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے سفارتی کوشش کے ذریعہ مختلف ملکوں کو خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت سے منع کیا ۔ اس سفارتی کوشش کی اگوائی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی اور اس کیلئے ترقیاتی فنڈ میں کٹوتی نیز واشنگٹن سے سفارتی تعلقات خراب کرلینے کا انتباہ دیا گیا۔ اس انتباہ کی وجہ سے ۱۳؍ ملکوں نے یا تو ارادہ بدل دیا یا اپنے نمائندوں کی تعداد یا درجہ کم کردیا۔ اس کے باوجود، بقول ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی،  ۷۰؍ سے زائد ممالک آخری رسومات میں شریک ہوئے۔ کیا ٹرمپ اتنے ملکوں سے خفا ہوجائینگے؟ اگر خفا ہوئے تو کیا بگاڑیں گے اُن کا؟ ایران ہی کا کچھ بگاڑ نہیں سکے ہیں تو ۷۰؍ سے زائد ملکوں کی ایران نوازی کا کیا جواب دینگے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK