• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی کا آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی رہائی میں ’جان بوجھ کر تاخیر‘ کا الزام

Updated: October 19, 2026, 2:15 PM IST | New Delhi

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے الزام عائد کیا ہے کہ آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی ضمانت کی سماعتوں میں تاخیر کرکے ان کی رہائی روکی جا رہی ہے۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے ضمانت کی سماعت کرنے والے مجسٹریٹ کو مبینہ دھمکیاں دینے کے معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

Saurav Das and Ashutosh Ranka. Photo: INN
سورَو داس اور اشوتوشش رانکا۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی CJP کی انتخابی مہم نے اتوار کو الزام عائد کیا کہ حکام اس کے لیڈران آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی ضمانت کی سماعتوں کو طول دے کر ان کی رہائی میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہے ہیں۔ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے جب دہلی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کو دھمکیاں دیں، جنہیں رانکا اور داس کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کرنی تھی۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے پیر کو یہ خبر دی۔ رانکا اور داس کو مہم کے ایک اور لیڈر اجنکیا شندے کے ساتھ ۱۳؍ اکتوبر کو جنتر منتر میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، انہوں نے جنتر منتر میں ’’چپکے سے داخل ہوکر‘‘ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے تحت اس مقام کو مظاہروں کے لیے مخصوص جگہوں کی فہرست سے خارج کردیا گیا تھا۔ بدھ کو رانکا اور داس کو پانچ دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا، جبکہ شندے کو ذاتی مچلکے پر رہا کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا: فوجی اڈے میں بھیانک آتشزدگی، ۷؍افراد ہلاک اورمتعدد زخمی

اتوار کو مہم کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے کہا کہ دوپہر ۱۲؍ بجے مقررہ سماعت میں کئی گھنٹوں کی تاخیر ہوئی۔ ان کے مطابق، مجسٹریٹ شام ۶؍ بجے پہنچے اور بتایا کہ انہیں دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ سنگھ نے الزام لگایا، ’’آج مقدمے کے قانونی پہلوؤں پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ پوری گفتگو دھمکی آمیز پیغام پر مرکوز رہی، جبکہ سرکاری وکیل نے اشارہ دیا کہ یہ پیغام ہماری جانب سے کسی شخص نے بھیجا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکام ضمانت کے لیے پیش کیے گئے ضامنوں کو مسترد کرکے سماعت میں تاخیر کر رہے ہیں۔ سنگھ نے کہا، ’’انہوں نے چار دن تک سب کا وقت ضائع کیا۔ مجھے بہت مایوسی ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مبینہ دھمکی آمیز پیغامات کی بنیاد پر رانکا اور داس کی رہائی کیسے روکی جاسکتی ہے۔ ان کی گرفتاریوں کو ’’سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اگر پیر کو دونوں رہنماؤں کی عدالتی تحویل میں مزید توسیع کردی جائے تو انہیں حیرت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کا احتجاج

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ رانکا اور داس کی ’’غیر قانونی گرفتاری‘‘ کو طول دینے کے لیے ’’ہر طرح کے گھٹیا حربے‘‘ استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’انہیں جیل میں رکھنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی قانونی بنیاد نہیں، اسی لیے انہیں حراست میں رکھنے کے لیے تاخیری حربے اختیار کیے جارہے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ۱۱؍ اکتوبر کو مرکزی وزارتِ داخلہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر نئی دہلی میں جنتر منتر کو مظاہروں کے لیے مخصوص مقام کی حیثیت سے خارج کردیا گیا تھا۔ پولیس کا یہ حکم ۱۲؍ اکتوبر کو رپورٹ کیا گیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کاکروچ جنتا پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے قومی دارالحکومت میں احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کے اعتراضات الیکشن کمیشن کے کام کاج اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی SIR سے متعلق اس کے طریقۂ کار پر تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK