• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی’لہرا دو ترنگا‘ مارچ: پرکاش راج نے جمہوری حقوق اور پُرامن احتجاج کی حمایت کی

Updated: October 16, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi

دہلی میں جاری احتجاج کے دوران اداکار پرکاش راج نے جمہوری طریقے سے سیاسی تبدیلی لانے اور پُرامن مظاہروں کے حق کا دفاع کرتے ہوئے انتخابی جلسوں اور احتجاج کیلئے مختلف معیار اپنائے جانے پر سوال اٹھایا ہے۔ دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ابھیجیت دپکے کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور انہیں وکلا سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔

Prakash Raj. Photo: INN
پرکاش راج۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیش اور نیپال کے برعکس، ہم جمہوری طریقے سے حکومت کو اقتدار سے ہٹائیں گے: پرکاش راج

اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے آئین، مہاتما گاندھی، بی آر امبیڈکر اور بھگت سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں سیاسی تبدیلی جمہوری طریقوں سے ہی آنی چاہئے۔پرکاش راج نے کہا، ’’ہم نیپال نہیں ہیں، ہم بنگلہ دیش نہیں ہیں۔ ہم اس ملک میں جمہوری طریقے سے حکومت کو اقتدار سے ہٹائیں گے۔‘‘ انہوں نے سیاسی تبدیلی لانے کے لیے حقِ رائے دہی کی اہمیت پر زور دیا۔اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے اس دلیل پر سوال اٹھایا کہ عوام کو ہونے والی پریشانی کے باعث احتجاج پر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’جب انتخابی جلسوں کیلئےگھنٹوں ٹریفک روکی جاتی ہے تو کیا اس سے ٹریفک جام نہیں ہوتا؟‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاسی ریلیوں اور پُرامن مظاہروں کیلئے یکساں معیار اپنایا جاتا ہے؟
ابھیجیت دپکے کو نامعلوم مقام پر لے جایا گیا: سی جے پی کا دعویٰ
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ ابھیجیت دپکے کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ سی جے پی کی ایک پوسٹ میں کہا گیا، ’’ہمارا ان سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ انہیں وکلا سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔ یہ حکومت نوجوانوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیوں کرتی ہے؟ ہم ہندوستان کے برابر کے شہری ہیں اور آئین کے تحت حاصل تمام حقوق اور تحفظات کے مستحق ہیں!‘‘

ابھیجیت دپکے اور نیہا بورا کہاں ہیں؟ ایم کے اسٹالن کا دہلی پولیس سے سوال، فوراً رہا کرنے کا مطالبہ

دہلی پولیس نے جن پتھ روڈ، کناٹ پلیس اور منڈی ہاؤس کے علاقوں سے کم از کم ۱۵۰؍ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد احتجاج میں شریک کارکنوں کی گرفتاری اور ان کے بارے میں معلومات فراہم نہ کئے جانے پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
کارکنوں کو حراست میں لئےجانے پر اسٹالن کا سوال، دپکے اور نیہا بورا کہاں ہیں؟
تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ابھیجیت دپکے اور نیہا بورا کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مقام کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’ابھیجیت دپکے کہاں ہیں؟ نیہا بورا کہاں ہیں؟ ان کے مقام کا انکشاف کئےبغیر انہیں حراست میں رکھنا صریحاً غیر قانونی اور انتہائی غیر انسانی عمل ہے۔‘‘ تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے دہلی پولیس کی جانب سے ابھیجیت دپکے اور نیہا بورا کو حراست میں لئے جانے کے بعد ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔اسٹالن نے ایکس پر لکھا، ’’مرکزی حکومت انہیں فوری طور پر رہا کرے اور پُرامن احتجاج کو دبانے کی کوششیں بند کرے۔ تحریک کو کچلنے کی ہر کوشش اسے مزید مضبوط ہی بنائے گی۔‘‘

اختلافِ رائے سے خوف زدہ حکومت نوجوانوں کو خاموش کرانا چاہتی ہے: ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے کی حمایت کرتے ہوئے ان کی حراست پر سوال اٹھایا ہے۔ دپکے کو دہلی کے کناٹ پلیس کے قریب حراست میں لیا گیا تھا۔ممتا بنرجی نے ایکس پر لکھا، ’’ابھیجیت دپکے کو ہندوستانی قومی پرچم تھامنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرا اس بات پر غور کیجئے۔ آزاد ہندوستان میں ہمارے نوجوانوں کو اپنے جمہوری حقوق کا پُرامن طریقے سے اظہار کرنے پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے کم نہیں ہے۔ اختلافِ رائے سے خوف زدہ حکومت اب پوری نسل کو خاموش کرانے کیلئے ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ایک فاشسٹ حکومت کا طرزِ عمل ہے، جو ایسی آواز کو برداشت نہیں کر سکتی جسے وہ قابو میں نہ رکھ سکے۔‘‘
جنہیں ہندوستانی ترنگے سے پریشانی ہے، وہ پاکستان چلے جائیں: اروند کیجریوال
دہلی پولیس نے ترنگا مارچ میں شرکت کیلئے جاتے ہوئے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے اور اے آئی ایس اے کی کارکن نیہا بورا کو حراست میں لے لیا۔ اس پر دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایکس پر لکھا:’’اگر ہم اپنے ہی ملک میں ترنگا نہیں لہرائیں گے تو کیا پاکستان میں لہرائیں گے؟ جن لوگوں کو ہندوستانی ترنگے سے پریشانی ہے، انہیں پاکستان چلے جانا چاہئے۔‘

نیہا بورا کو نامعلوم مقام پر لے جانے کا دعویٰ، دہلی پولیس سے جواب طلب،طلبہ تنظیمیں اور ارکان پارلیمان بھی احتجاج میں شامل

اے آئی ایس اے کی کارکن نیہا بورا کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں حراست میں لے کر ایک ’’نامعلوم مقام‘‘ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔پوسٹ میں مزید کہا گیا، ’’ان کے پاس اپنا فون نہیں ہے! دہلی پولیس کو جواب دینا ہوگا کہ نیہا کہاں ہیں؟ یہ ایک بار پھر حراست نہیں بلکہ اغوا ہے!‘‘
ایس ایف آئی، ڈی وائی ایف آئی اور رکن پارلیمان جان بریٹاس نے مارچ شروع کیا
طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیموں ایس ایف آئی، ڈی وائی ایف آئی، اے آئی ایس ایف اور اے آئی وائی ایف کے علاوہ ارکان پارلیمان جان بریٹاس، وی سیواداسن، اے اے رحیم اور سنتوش کمار بھی کناٹ پلیس کی جانب احتجاجی مارچ میں شامل ہوگئے ہیں۔
’’میں اکیلا ہوں، یہ قانون کی خلاف ورزی کیسے ہے؟‘‘ حراست کے دوران دپکے کا دہلی پولیس سے سوال
ابھیجیت دپکے کو آج کناٹ پلیس جاتے ہوئے دہلی میں حراست میں لے لیا گیا۔ سی جے پی کے آشوتوش رنکا کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دپکے کو پولیس افسر سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ جب وہ اکیلے ہیں تو کس قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔دپکے نے کہا، ’’یہ قانون کی خلاف ورزی کیسے ہے؟ میں اکیلا ہوں۔‘‘ واضح رہے کہ آج اس سے قبل دہلی پولیس نے بی این ایس ایس کی دفعہ۱۶۳؍ نافذ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں مارچ نکالنے سے منع کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹی سی ایس نے بیسٹ بائے کے ہندوستانی کاروبار کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا

ترنگا مارچ میں شرکت کیلئے جاتے ہوئے ابھیجیت دپکے حراست میں، نیہا بورا بھی گرفتار کی گئیں

دہلی پولیس نے جمعہ کو سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی کارکن نیہا بورا کو حراست میں لے لیا۔ دپکے کو اپنی تنظیم کے ’’لہرا دو ترنگا‘‘ مارچ میں شرکت کیلئے کناٹ پلیس جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا، جبکہ نیہا بورا کو مارچ شروع کرنے کے کچھ ہی دیر بعد منڈی ہاؤس کے قریب حراست میں لیا گیا۔
دہلی کے کناٹ پلیس میں پالیکا مارکیٹ کے گیٹ نمبر ایک کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی ہے، جن میں بعض افراد کے ہاتھوں میں قومی ترنگا بھی نظر آرہا ہے۔ کناٹ پلیس کے اندرونی سرکل میں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جبکہ پولیس ڈرون کی مدد سے بھیڑ اور علاقے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

دہلی’لہرا دو ترنگا‘ مارچ: سی پی میں مظاہرین جمع، سینٹرل پارک بند، سکیوریٹی سخت

دہلی پولیس نے سی جے پی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے کو آج شام۵؍ بجے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ان کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی مظاہرے ’’لہرا دو ترنگا‘‘ سے قبل نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کناٹ پلیس احتجاج کیلئے مختص مقام نہیں ہے، اس لئے دپکے کو مارچ منعقد نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم، علاقے میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہونا شروع ہوگئی ہے اور کناٹ پلیس و پالیکا بازار کے اطراف بڑے پیمانے پر پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ 
سیکوریٹی اہلکاروں نے سینٹرل پارک کے اطراف انسانی زنجیر بنائی
دہلی کے کناٹ پلیس میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘ احتجاج کیلئے مظاہرین کی بھیڑ جمع ہونے کے درمیان سیکوریٹی اہلکاروں نے سینٹرل پارک کے اطراف انسانی زنجیر بنا کر حفاظتی حصار قائم کر دیا ہے۔ علاقے میں کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سینٹرل پارک کو دو دن کیلئے بند رکھنے کے بینر بھی آویزاں کئے گئے ہیں۔ 
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، دہلی پولیس نے کناٹ پلیس میں مجوزہ مارچ کے پیش نظر۶؍ ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کے ساتھ مرکزی مسلح پولیس فورس کی تقریباً ۲۲۰؍کمپنیاں بھی تعینات کی ہیں۔ راجیو چوک، سینٹرل پارک اور اطراف کے علاقوں میں سی سی ٹی وی نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ پولیس نے لوگوں سے سینٹرل پارک میں جمع ہونے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ڈل جھیل میں موٹر بوٹس اور ایندھن سے چلنے والی جیٹ اسکیز پر پابندی لگائی

یہ احتجاج کیوں کیا جارہا ہے؟
یہ احتجاج سی جے پی کے لیڈر سورَو داس اور آشوتوش رنکا کو عدالتی تحویل میں بھیجے جانے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ دونوں لیڈروں نے۱۳؍ اکتوبر کو جنتر منتر میں داخل ہوکر احتجاج کیا تھا، حالاں کہ اس مقام کو احتجاج کیلئے مختص مقامات کی فہرست سے خارج کیا جا چکا تھا۔ دہلی پولیس نے لٹینس زون اور اس کے اطراف۶؍ ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اضلاع سے مزید۵؍ ہزار اہلکاروں کو بھی تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ راجیو چوک، کناٹ پلیس کی مارکیٹوں، سینٹرل پارک، قریبی میٹرو اسٹیشنوں، جنتر منتر اور پالیکا بازار کے اطراف سیکوریٹی سخت کی جائے گی۔ دوسری جانب ممبئی میں پولیس نے سی جے پی کو آزاد میدان میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘ ریلی نکالنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس ریلی کا مقصد جیل میں بند لیڈروں آشوتوش رنکا اور سورَو داس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔ ریلی صبح۱۰؍ بجے شروع ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بلڈانہ: مہکر میں نامعلوم کیڑوں کے کاٹنے کی دہشت

دہلی میں سی جے پی کی ’’لہرا دو ترنگا‘‘ ریلی
سی جے پی کے کنوینر ابھیجیت دپکے نے اپنے ساتھی کنوینروں سورَو داس اور آشوتوش رنکا کی منگل کی صبح گرفتاری کے بعد ترنگا یاترا نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں لیڈروں کو جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کے معاملے میں پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیجا گیا ہے۔ جنتر منتر کو احتجاج کیلئے مختص مقام کی فہرست سے خارج کیا جا چکا ہے۔ دپکے اس مارچ میں طلبہ تنظیموں، سماجی کارکنوں اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ساتھ شرکت کریں گے۔ مارچ شام۵؍ بجے شروع ہونے والا ہے۔ دہلی پولیس کی ترجمان نہا یادو نے کہا کہ مارچ کیلئے اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ ۱۶۳؍ پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ کو کسی دوسرے ’’مناسب مقام‘‘ پر مارچ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ پولیس کے مطابق، مجوزہ مارچ سے قبل سینٹرل پارک اور راجیو چوک کے اطراف۱۰؍ سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سابق آئی اے ایس افسر دِویہ متل نے ’جن نیتی بھارت‘ پارٹی قائم کی

کناٹ پلیس احتجاج کیلئے مختص مقام نہیں : ابھیجیت دپکے کو پولیس کا نوٹس
 دہلی پولیس نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے سے کہا ہے کہ وہ آج کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ترنگا مارچ منعقد نہ کریں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے، ’’آپ کو یہ بھی مطلع کیا جاتا ہے کہ کناٹ پلیس احتجاج کیلئےنوٹیفائیڈ مقام نہیں ہے۔ دیگر مقامات، جنہیں احتجاج کیلئے مختص کیا گیا ہے، وہاں قانونی اجازت حاصل کرنے اور اجازت ملنے کی صورت میں مظاہرے کئے جا سکتے ہیں۔ ‘‘
کناٹ پلیس میں ’’سینٹرل پارک بند ہے‘‘ کے بینر آویزاں 
 کناٹ پلیس میں ایسے بینر آویزاں کئے گئے ہیں جن پر درج ہے کہ سینٹرل پارک آج اور کل بند رہے گا۔ نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے ایک روز قبل ہی پارک کو دو دن کیلئے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ سینٹرل پارک وہی مقام ہے جہاں ابھیجیت دپکے نے آج ترنگا مارچ منعقد کرنے کی اپیل کی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK