• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلم انڈسٹری کی پہلی موسیقار جوڑی میں ’بھگت رام‘ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے

Updated: November 30, 2025, 3:53 PM IST

فلمی موسیقی کی دنیا میں اپنی دھنوں کے جادو سے سامعین کو مسحور کرنے والے کئی موسیقار ہوئے ہیں اور ان کا جادو بھی سامعین کے دلوں پر چھایا، لیکن کچھ ایسے بھی موسیقار تھے جو بعد میں گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوگئے اور آج انہیں کوئی یاد بھی نہیں کرتا۔

Bhagat Ram. Picture: INN
بھگت رام۔ تصویر:آئی این این
فلمی موسیقی کی دنیا میں اپنی دھنوں کے جادو سے سامعین کو مسحور کرنے والے کئی موسیقار ہوئے ہیں اور ان کا جادو بھی سامعین کے دلوں پر چھایا، لیکن کچھ ایسے بھی موسیقار تھے جو بعد میں گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوگئے اور آج انہیں کوئی یاد بھی نہیں کرتا۔ فلم انڈسٹری کی پہلی موسیقار جوڑی(حسن لال،بھگت رام) کا اہم حصہ بھگت رام بھی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن آج گمنام ہیں۔
ہندی فلموں کے مشہور معروف گلوکار محمد رفیع کو ابتدائی کامیابی دلانے میں حسن لال،بھگت رام کا اہم کردار رہا ۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ۴۰ءکی دہائی کے آخر میں جب محمد رفیع بطور گلوکار اپنی پہچان بنانے میں مصروف تھے تو انہیں کام نہیں مل رہا تھا۔ تب حسن لال،بھگت رام کی جوڑی نے انہیں ایک غیر فلمی گانا گانے کا موقع دیا تھا۔۱۹۴۸ء میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس جوڑی نے محمد رفیع کو راجندر کرشن کی تخلیق کردہ دھن ’سنو سنو اے دنیا والو باپو کی امر کہانی‘ گانے کا موقع دیا۔ وطن پرستی کے جذبے سے بھرپور یہ گانا سامعین میں کافی مقبول ہوا۔ اس کے بعد دیگر موسیقاروں بھی محمد رفیع کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں اپنی فلموں میں گانے کا موقع دینے لگے۔
محمد رفیع نے کئی موقعوں پر اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ حسن لال،بھگت رام کے موسیقی سے بہت متاثر تھے۔اس جوڑی نے محمد رفیع کے علاوہ کئی دیگرگلوکاروں کو بھی پہچان دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مشہور موسیقار جوڑی شنکر جے کشن نے بھی حسن لال،بھگت رام ہی سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی تھی۔موسیقار لکشمی کانت بھی حسن لال، بھگت رام سے وائلن بجانا سیکھا کرتے تھے۔ اس جوڑی میںچھوٹے بھائی حسن لال کا جنم۱۹۲۰ء میں پنجاب کے ضلع جالندھر میں ہوا تھا جبکہ بڑے بھائی بھگت رام کا جنم بھی وہیں۱۹۱۴ء میں ہوا تھا۔ بچپن ہی سے دونوں کا رجحان موسیقی کی طرف تھا۔حسن لال وائلن اور بھگت رام ہارمونیم بجاتے تھے۔ دونوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی اور موسیقار پنڈت امر ناتھ سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پنڈت دلیپ چند بیدی سے بھی شاستریہ موسیقی کی تعلیم لی تھی۔ 
۱۹۳۰ء اور ۱۹۴۰ء کے دوران موسیقار روایتی شاستریہ موسیقی کی راگ،راگنیوں پر مبنی موسیقی تخلیق کیا کرتے تھے۔ حسن لال،بھگت رام اس رجحان کے حامی نہیں تھے۔ انہوں نے شاستریہ موسیقی میں پنجابی دھنوں کا امتزاج کر کے ایک منفرد انداز کی موسیقی پیش کرنے کی کوشش کی اور یہ کوشش کامیاب رہی۔ انہوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۴۴ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’چاند‘ سے کیا۔ اس فلم کا نغمہ ’ دو دلوں کی یہ دنیا‘بہت مقبول ہوا، لیکن فلم کی ناکامی کی وجہ سے وہ اپنی خاص پہچان نہیں بنا سکے۔ 
۱۹۴۸ء میں ریلیز فلم ’پیار کی جیت‘ کے گانے  ’ایک دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے‘ کی کامیابی کے بعد  یہ جوڑی اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ محمد رفیع کی آواز میں قمر جلال آبادی کی تخلیق کردہ یہ دھن آج بھی رفیع کے درد بھرے گانوں میں منفرد مقام رکھتی ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ موسیقار جوڑی نے یہ گانا فلم ’پیار کی جیت‘ کیلئے نہیں بلکہ فلم’سیندور‘ کیلئے موسیقی بند کیا تھا۔فلم ’سیندور‘ کی تیاری کے دوران جب  اس جوڑی نے فلمساز ششی دھر مکھرجی کو یہ گانا سنایا تو انہوں نے اسے غیر ضروری بتا کر فلم میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں فلمساز اوپی دتہ نے اسے اپنی فلم پیار کی جیت میں شامل کیا۔۱۹۵۰ء میں ریلیز فلم چاند میں اپنے گانے ’چپ چپ کھڑے ہو‘ کی کامیابی کے بعد اس  جوڑی کا شمار  اعلیٰ موسیقاروں میں ہونے لگا۔ بھگت رام۲۶؍ نومبر۱۹۷۳ء کو خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK