• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں نے اداکاری کرتے کرتے اداکاری سیکھی ہے اور خود کو نکھارا ہے‘‘

Updated: October 11, 2026, 1:22 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ویب سیریز اور فلم اداکارگوروسنگھ کا کہنا ہےکہ میری پہلی مرکزی کردار والی فیچر فلم اگلے سال ریلیز ہو گی جس کیلئے میں امید کرتا ہوں کہ اس کے بعد بہت سی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

Web series and film actor Gaurav Singh; Photo: INN
ویب سیریز اور فلم اداکارگوروسنگھ، تصویر: آئی این این

گورو سنگھ اداکارہیں جنہوں نے ٹیلی ویژن، ویب اور مختصر فلموں میں کام کیا ہے اور اب مرکزی کردار والی فیچر فلم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کی پیدائش اتر پردیش کے اودی نامی علاقے میں ہوئی اور ان کی پرورش مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ہوئی۔ ان کے والد اترپردیش کے کاروبار ی ہیں۔ گورو نے ابتدائی دن گاؤں میں گزارے ہیں۔ ان میں ساتویں جماعت  سے اداکاری کا شوق پیدا ہوا۔ انہوں نے فلم ’’بھول بھلیاں ‘‘ میں اکشے کمار کا پنڈت والا کردار اپنے اسکول کے ڈرامے میں اداکیا تھا۔ یہی ابتدائی تجربات بعد میں اداکاری کو پیشہ بنانے کے عزم میں تبدیل ہوئے۔ گورو سنگھ نے ۱۲؍ویں جماعت کے بعدممبئی میں کالج میں داخلہ لیا۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اداکاری کے لیے آڈیشن دینا شروع کردیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے پہلا کردار حاصل کرنے سے پہلے ۷۰؍ سے ۸۰ ؍سے زیادہ آڈیشن دیے تھے۔ کالج مکمل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے خاندان کو اپنے اداکاری کے منصوبے کے بارے میں بتایا اور پھر باقاعدہ طور پر اسی شعبے میں آگے بڑھتے گئے۔ گورو سنگھ نے کرشنا کنہیا، چڑیا گھر، دیوانشی، اپہرن اور شکشا منڈل میں کام کیا ہے۔ انقلاب نے گورو سنگھ سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟ آپ کی پیدائش اور ابتدائی زندگی کہاں گزری، اس تعلق سے کچھ بتائیں !
ج: میری پیدائش مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہوئی تھی۔ میں وہاں تقریباً تینسے چار سال تک رہا ہوں۔ اس کے بعد میری تعلیم اور پرورش زیادہ تر مدھیہ پردیش کے مشہور شہر گوالیار میں ہوئی کیونکہ میرے والد کا کاروبارمدھیہ پردیش میں تھا۔ اسی وجہ سے میرا تعلق گاؤں کے مقابلے میں گوالیار شہر سے زیادہ رہا۔ گاؤں میں میرا زیادہ وقت نہیں گزرا۔ 
پھر ممبئی آنے کا فیصلہ کیسے ہوا؟
ج:مجھے بچپن ہی سے اداکاری کا شوق تھا۔ میرے خیال میں چھٹی یا ساتویں جماعت سے ہی میرے اندر یہ خواہش بہت واضح ہوگئی تھی کہ مجھے اداکار بننا ہے۔ اسکول میں جب بھی کسی تقریب یا پروگرام میں اداکاری کا موقع ملتا، میں ضرور حصہ لیتا تھا اور اس عمل سے بہت لطف اندوز ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب فلم ’بھول بھلیاں ‘ ریلیز ہوئی تھی، اس وقت میں اسکول میں تھا۔ فلم میں اکشے کمار کے پنڈت جی والے حلئے سے متاثر ہوکر میں نے اسکول میں وہی کردار ادا کیا تھا۔ آج بھی اس کی تصویر میرے پاس موجود ہے۔ اس وقت ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اداکاری میرے لیے محض شوق نہیں بلکہ میں اسے مستقبل میں اپنا پیشہ بنانا چاہتا ہوں۔ اس لیے کم عمری میں ہی یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ مجھے کسی بھی طرح ممبئی پہنچنا ہے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے کالج کی تعلیم کا بہانہ بنایا اور ممبئی آگیا۔ میں نے ۲۰۱۲ء میں ممبئی سے کالج کی تعلیم حاصل کی اور اسی دوران اداکاری کے سفر کا باقاعدہ آغاز کردیا۔

یہ بھی پڑھئے: گوری خان کیلئے شاہ رخ جیل پہنچ گئے تھے، نانا پاٹیکر نے باہر نکلوایا!

کیا آپ نے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی یا اپنی صلاحیتوں ہی خود ہی نکھارا ہے؟
ج:میں نے اداکاری کی تربیت کیلئے کسی ادارے میں داخلہ نہیں لیا بلکہ زیادہ تر اپنی صلاحیتوں کو خود ہی نکھارنے کی کوشش کی۔ اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ اداکاری کرتے کرتے اداکاری سیکھی ہے اور خود کو نکھارا ہے۔ ابتدائی دنوں میں کلویندر بخشی نامی ایک تھیٹر استاد کے ساتھ بھی کام کیا۔ ان کا تعلق بھی گوالیار سے تھا، اس لیے میرے لیے ان سے جڑنا آسان رہا۔ میں کچھ عرصے تک ان کے تھیٹر گروپ کا حصہ رہا اور ابتدا میں چند ڈراموں میں بھی کام کیا۔ کالج کے ساتھ ہی میں نے تھیٹر اور اداکاری کی دوسری سرگرمیاں شروع کردی تھیں۔ اس دوران میں نے دو، تین مختلف گروپس کے ساتھ بھی کام کیا، جس سے مجھے عملی طور پر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ 
فلموں میں کام کرنے کی خواہش کب سے تھی اور اس سمت میں آپ کا سفر کیسا رہا؟
ج: میں تقریباً ۲۰۱۷ء سے یہ سوچنے لگا تھا کہ میں فلموں میں کام کرنے کے لیے ممبئی آیا ہوں، لیکن اس وقت مجھے فلموں کے پورے نظام کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ کبھی سال میں ایک، دو فلموں کے آڈیشن کے بارے میں پتہ چلتا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ شروع میں مختلف ڈراموں اور دوسرے منصوبوں میں کام کرنا میرے لیے بہت دلچسپ تھا۔ مختلف شوز میں کام کیا، مختلف ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور اس تجربے سے بہت کچھ سیکھا۔ لیکن ایک وقت کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ ایک طرح کی حد آ گئی ہے اور اب مجھے آگے بڑھنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ 
فلموں کے لیے آڈیشن اور کاسٹنگ کے پورے نظام کو سمجھنے میں آپ کو کتنا وقت لگا؟
ج: مجھے اس پورے عمل کو سمجھنے میں کافی وقت لگا۔ ۲۰۱۹ء اور ۲۰۲۰ء کے آس پاس میں نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا کہ فلموں میں کیسے داخل ہونا ہے اور اس کیلئے کیا کرنا ہوگا۔ اس وقت تک مجھے ممبئی کے کاسٹنگ نظام کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ میں ابتدا میں لوکھنڈوالا میں رہتا تھا، پھر گوریگاؤں میں رہا۔ بعد میں مجھے اندازہ ہوا کہ آرم نگر میں چھوٹے چھوٹے نظر آنے والے جو دفاتر ہیں، وہاں سے بہت بڑے فلمی منصوبوں کے لیے کاسٹنگ کا کام ہوتا ہے۔ مجھے یہ بھی بہت دیر سے سمجھ آیا کہ فلموں کی کاسٹنگ کے دفاتر اور ٹیلی ویژن کی کاسٹنگ کا نظام ایک دوسرے سے کافی مختلف ہے۔ وہاں مکیش چھابڑا کا دفتر بھی تھا۔ یہ تمام چیزیں مجھے کافی دیر سے معلوم ہوئیں۔ چونکہ میرے آبائی شہر سے ممبئی کی فلمی دنیا میں کوئی خاص رابطہ یا رہنمائی حاصل نہیں تھی، اس لیے مجھے یہ سب کچھ خود تلاش کرکے سمجھنا پڑا۔ اس عمل میں میرا کافی وقت لگا، لیکن اسی تجربے نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔

یہ بھی پڑھئے: ریکھا نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے دم پر خوب نام کمایا

کیا اب آپ کو لگتا ہے کہ فلموں میں مرکزی کردار کے طور پر کام کرنے کا خواب پورا ہونے کے قریب ہے؟
ج:جی ہاں، اب مجھے لگتا ہے کہ میں اس مقام کے تقریباً نصف راستے تک پہنچ چکا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ میری پہلی مرکزی کردار والی فیچر فلم اگلے سال، یعنی ۲۰۲۷ء میں ریلیز ہوجائے گی۔ میں اس حوالے سے بہت پُرامید ہوں اور امید کرتا ہوں کہ چیزیں اسی سمت میں آگے بڑھیں گی اور بہت کچھ تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ میں نے گزشتہ سال ’’وسلنگ ووڈس‘‘ کے ساتھ ایک مختصر فلم بھی کی تھی۔ اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ۲۰۲۷ء میرے لیے ایک بہت اچھا سال ثابت ہوسکتا ہے۔ مجھے اس سے بہت امیدیں ہیں۔ 
آپ کے انسٹاگرام پرمختلف ملکوں کی بہت سی خوبصورت ویڈیوز اور تصاویر نظر آئیں۔ کیا آپ کو سفر کا بھی بہت شوق ہے؟
ج: جی ہاں، اور میں آپ کو اس حوالے سے ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں۔ میری اہلیہ مجھ سے ایک سال پہلے ممبئی آ گئی تھیں۔ ہم دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ساتھ وقت گزارتے تھے۔ دراصل میری زندگی میں وہ پہلی اور واحد گرل فرینڈ تھیں اور بعد میں وہی میری اہلیہ بنیں۔ اب جب وہ کبھی مجھے میری پرانی باتیں یاد دلاتی ہیں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں واقعی ایک مسافر بن چکا ہوں۔ آج میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے سفر کرنا بہت پسند ہے۔ 
آپ کے نزدیک سیر وسیاحت کی اہمیت کیا ہے؟
ج: میرے خیال میں انسان کو زندگی میں زیادہ سے زیادہ دنیا دیکھنی چاہیے۔ آپ کو جو زندگی ملی ہے، اسے دریافت کرنا بہت ضروری ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک انسان اور ایک فنکار، دونوں حیثیت سے بہت اہم ہے۔ جب آپ دنیا کو دیکھتے ہیں، مختلف لوگوں سے ملتے ہیں اور مختلف معاشروں کو سمجھتے ہیں تو آپ کو اپنے بارے میں بھی بہت کچھ معلوم ہوتا ہے۔ آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کس طرح زندگی گزار رہے ہیں اور دنیا کے دوسرے لوگ کس طرح زندگی دیکھتے ہیں۔ جتنا زیادہ آپ دوسروں کو دیکھیں گے، اتنا ہی آپ کی سوچ وسیع ہوگی اور آپ کے خیالات میں وسعت آئے گی۔ ایک اداکار کے لیے تو یہ اور بھی ضروری ہے، کیونکہ مختلف لوگوں، ثقافتوں اور جگہوں کو دیکھنے سے آپ اپنے کرداروں کو زیادہ بہتر انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔ میرے خیال میں سفر انسان کو نہ صرف بہتر انسان بناتا ہے بلکہ ایک بہتر فنکار بننے میں بھی مدد دیتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK