عالمی ادارہ نے متنبہ کیاکہ دونوں ممالک ا گر کسی معاہدہ تک نہیں پہنچتے تو ایشیا اور افریقہ کے بعض حصوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 11:22 AM IST | Agency | New York
عالمی ادارہ نے متنبہ کیاکہ دونوں ممالک ا گر کسی معاہدہ تک نہیں پہنچتے تو ایشیا اور افریقہ کے بعض حصوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل کے لیے کسی معاہدے تک نہیں پہنچتے تو ایشیا اور افریقہ کے بعض حصوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔اگرچہ اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا طریقۂ کار تاحال نافذ نہیں ہو سکا، تاہم اقوام متحدہ کے نائب سکریٹری جنرل خورخے موریرا دا سلوا نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد یہ نظام ۷؍ سے ۱۰؍ روز میں فعال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریلائنس کے جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او ۲۱؍ اکتوبر کو کھلے گا
انھوں نے بینکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر رائٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں معاہدے تک پہنچنا انتہائی ضروری ہے، ورنہ ہم کاشت کے موسم سے محروم ہو جائیں گے۔رائٹر کے سوالات کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ہزاروں تجارتی جہازوں کی مدد کی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کرنے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی ایرانی کوششوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔وہائٹ ہاؤس اور بینکاک میں ایرانی سفارت خانے نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔واضح ہو کہ کل عالمی یومِ خوراک منایا جائے گا۔