بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ۲۸؍ اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت دیے جانے کے معاملے نے فلمی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف فلم ساز کرن راؤ اور اداکارہ صبا آزاد نے اس معاملے پر عمران خان کی حمایت کرتے ہوئے حکام کے اقدام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ۲۸؍ اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت دیے جانے کے معاملے نے فلمی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف فلم ساز کرن راؤ اور اداکارہ صبا آزاد نے اس معاملے پر عمران خان کی حمایت کرتے ہوئے حکام کے اقدام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ۲۸؍ اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت دیے جانے کے معاملے نے فلمی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف فلم ساز کرن راؤ اور اداکارہ صبا آزاد نے اس معاملے پر عمران خان کی حمایت کرتے ہوئے حکام کے اقدام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ممبئی کے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق عمران خان کو مبینہ طور پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے معاملے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں ان کی شرکت کے بعد سامنے آئی ہے۔
فلم ساز کرن راؤ نے سوشل میڈیا پر عمران خان کے معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’واہ، اب ممبئی پولیس؟‘‘ اس کے بعد انہوں نے عمران خان کی زندگی کے ہندوستان سے گہرے تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ۴۳؍ سال کے ہیں اور ان کی زندگی کے ۴۰؍ سال ہندوستان میں گزرے ہیں۔ کرن راؤ نے لکھا کہ عمران نے یہیں تعلیم حاصل کی، یہیں کام کیا، کامیابی حاصل کی، ناکامیوں کا سامنا کیا، محبت کی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد بھی کی۔ ان کے اس بیان کو عمران خان کی حمایت اور ملک سے ان کے طویل تعلق کی یاد دہانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کرن راؤ اداکار عامر خان کی سابق اہلیہ ہیں اور عمران خان، عامر خان کے بھتیجے ہیں۔
اداکارہ صبا آزاد نے بھی عمران خان کو ہندوستان چھوڑنے کا نوٹس دیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اس خبر کے جواب میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا۔ صبا آزاد، اداکار رتیک روشن کے ساتھ اپنے تعلق کے باعث بھی خبروں میں رہتی ہیں۔ کرن راؤ اور صبا آزاد کے ردعمل کے بعد یہ معاملہ فلمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر زیر بحث آگیا ہے، جہاں عمران خان کے بھارت سے تعلق، ان کے احتجاج میں شرکت اور غیر ملکی شہریوں پر لاگو ضوابط کے بارے میں مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’جیلر۲‘‘ کے خلاف مبینہ بدنیتی پرمبنی آن لائن جائزوں پر قانونی کارروائی کی تیاری
یہ تنازع ۱۰؍ اکتوبر کو شروع ہوا، جب عمران خان ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں منعقدہ احتجاج میں شریک ہوئے۔ یہ مظاہرہ کاکروچ جنتا پارٹی کے زیر اہتمام کیا گیا تھا، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے تھے۔ عمران خان، ان کی ساتھی اداکارہ لیکھا واشنگٹن اور ان کی رشتے دار زین میری خان کو احتجاج کے دوران پولیس نے مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا تھا۔ عمران خان نے احتجاج میں اپنی شرکت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ممبئی میں رہنے والے ایک شہری کی حیثیت سے وہاں موجود تھے۔ انہوں نے نقل و حرکت کی آزادی اور لوگوں کی آواز دبائے جانے سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔
عمران خان امریکی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور ان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایف آر آر او نے۱۵؍ اکتوبر کو انہیں نوٹس جاری کرتے ہوئے ۲۸؍ اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت دی۔ یہ کارروائی امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ ۲۰۲۵ء کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق بتائی گئی ہے۔ اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کیرت سومیا کی شکایت بھی سامنے آئی، جنہوں نے احتجاج میں عمران خان کی شرکت پر اعتراض کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:الکاراز نے ’ایرسٹے بینک اوپن‘ میں شرکت کے لیے وائلڈ کارڈ قبول کرلیا
عمران خان کے وکیل ذوالفقار میمن نے بتایا ہے کہ اداکار اس نوٹس کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ او سی آئی کارڈ رکھنے والے افراد کے احتجاج میں شرکت پر واضح قانونی پابندی کے سوال کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تاہم، اس معاملے میں عدالت کا حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔ عمران خان کو ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت، کرن راؤ اور صبا آزاد کی حمایت، ایف آر آر او نوٹس، ممبئی احتجاج اور بمبئی ہائی کورٹ میں ممکنہ قانونی کارروائی نے اس معاملے کو بالی ووڈ کی اہم خبروں میں شامل کر دیا ہے۔ اب سب کی نظریں عمران خان کی قانونی حکمت عملی اور آئندہ عدالتی کارروائی پر مرکوز ہیں۔