معروف ایرانی فلم ساز اور ہدایت کار ماجد مجیدی کی فلم ’’مڈ ڈے میل‘‘ نے جنوبی کوریا میں منعقدہ ۳۱؍ویں بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین فلم کا سب سے بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ اختتامی تقریب میں فلم کو بوسان ایوارڈ برائے بہترین فلم سے نوازا گیا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 9:02 PM IST | Busan
معروف ایرانی فلم ساز اور ہدایت کار ماجد مجیدی کی فلم ’’مڈ ڈے میل‘‘ نے جنوبی کوریا میں منعقدہ ۳۱؍ویں بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین فلم کا سب سے بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ اختتامی تقریب میں فلم کو بوسان ایوارڈ برائے بہترین فلم سے نوازا گیا۔
معروف ایرانی فلم ساز اور ہدایت کار ماجد مجیدی کی فلم ’’مڈ ڈے میل‘‘ (Midday Meal) نے جنوبی کوریا میں منعقدہ ۳۱؍ویں بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بہترین فلم کا سب سے بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ ۱۵؍اکتوبر کو منعقدہ اختتامی تقریب میں فلم کو بوسان ایوارڈ برائے بہترین فلم سے نوازا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ فلم کو آسکر کے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم زمرے میں پیش کیے جانے کی اہلیت بھی حاصل ہوگئی ہے۔ اس سال بوسان فلم فیسٹیول کے مرکزی مقابلے میں ایشیا کے مختلف ممالک کی۱۳؍ فلمیں شامل تھیں۔ چینی فلم ساز ژانگ ییمو کی سربراہی میں سات رکنی جیوری نے متفقہ طور پر مجیدی کی فلم کو فاتح قرار دیا۔ اس اعزاز کے ساتھ فلم کو پانچ کروڑ جنوبی کوریائی وون کی انعامی رقم بھی دی گئی، جو تقریباً ۳۷؍ ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’جیلر۲‘‘ کے خلاف مبینہ بدنیتی پرمبنی آن لائن جائزوں پر قانونی کارروائی کی تیاری
مجیدی کی فلم’’مڈ ڈے میل‘‘ ایران کے ایک خشک اور پسماندہ گاؤں میں رہنے والے استاد سولان کی کہانی بیان کرتی ہے، جو اپنے اسکول کو بند ہونے سے بچانے کے لیے غیر معمولی حالات کا سامنا کرتا ہے۔ سولان کا خواب ایک مستقل استاد بننا اور اپنی والدہ کے ساتھ بہتر زندگی گزارنا ہے، لیکن اسکول میں بچوں کے لیے دوپہر کے کھانے کا انتظام کرنے والے معاون شخص کی موت کے بعد حالات بدل جاتے ہیں۔ مالی مدد ختم ہونے سے اسکول بند ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے، کیونکہ بہت سے بچے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اسکول آنا چھوڑ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں سولان دن کے وقت بچوں کو پڑھاتا ہے اور رات کے وقت تیل کی اسمگلنگ میں ملوث ہوجاتا ہے تاکہ اسکول کو جاری رکھ سکے۔ فلم میں غربت، تعلیم کی اہمیت، معاشرتی ناانصافی، اخلاقی کشمکش اور ایک استاد کی قربانی کو حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ماجد مجیدی نے اپنی مرحوم والدہ کو یاد کیا، جن کا انتقال فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے چند ماہ قبل ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کی محبت اور حوصلہ افزائی نے انہیں توانائی فراہم کی۔ ہدایت کار نے یہ اعزاز ایران کے عوام کے نام بھی کیا اور مشکل حالات کے باوجود ان کے عزم اور حوصلے کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مجیدی نے دنیا میں امن قائم ہونے اور جنگ کے خاتمے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ بوسان فلم فیسٹیول میں یہ ان کی پہلی شرکت تھی، جسے انہوں نے اپنے فلمی سفر کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔
’’مڈ ڈے میل‘‘ کی کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ بوسان فلم فیسٹیول کے بہترین فلم ایوارڈ کے فاتح کو اس سال سے آسکر کے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم زمرے میں اپنی فلم پیش کرنے کی اہلیت حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ماجد مجیدی کی فلم کو عالمی سطح پر مزید پہچان حاصل کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ تاہم، فلم کی اہلیت کو آسکر کی حتمی نامزدگی یا ایوارڈ جیتنے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:الکاراز نے ’ایرسٹے بینک اوپن‘ میں شرکت کے لیے وائلڈ کارڈ قبول کرلیا
ماجد مجیدی عالمی سنیما میں پہلے ہی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی فلم’ ’چلڈرن آف ہیون‘ (Children of Heaven) کو۱۹۹۹ء میں آسکر کے بہترین غیر ملکی زبان کی فلم زمرے میں نامزد کیا گیا تھا، جبکہ ان کی فلم ’’سن چلڈرن‘‘ (Sun Children) بھی ۲۰۲۱ء میں آسکر کی متعلقہ دوڑ میں مختصر فہرست تک پہنچی تھی۔ ’’مڈ ڈے میل‘‘ کی کامیابی ان کے بین الاقوامی فلمی سفر میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔
بوسان فلم فیسٹیول کے بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ تائیوان کے لی یون چان کو ان کی فلم ’’ٹو بی آرڈنری‘‘ کے لیے دیا گیا، جبکہ انڈونیشیائی فلم ساز ایڈی کایونو کی فلم’ ’ایبوکو‘‘ نے خصوصی جیوری ایوارڈ حاصل کیا۔ بہترین اداکار کے اعزاز چین کی اداکارہ ژو شون اور جاپان کے اداکار کاشون ہیمینو کو ملے۔ اس سال فیسٹیول میں مجموعی طور پر ۳۱۵؍ فلمیں دکھائی گئیں اور فلموں کی نمائش کے لیے آنے والے افراد کی تعداد۲۰۰۰۴۳؍ رہی، جو ۲۰۱۵ءکے بعد سب سے زیادہ ہے۔
ماجد مجیدی کی ’مڈ ڈے میل‘ کو ملنے والا یہ اعزاز اس بات کی مثال ہے کہ مقامی معاشرتی مسائل، تعلیم اور انسانی جدوجہد پر مبنی کہانیاں بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل کرسکتی ہیں۔ فلم کی کامیابی نے ایرانی سنیما کو ایک بار پھر عالمی فلمی منظرنامے میں نمایاں کردیا ہے۔