• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک ایئرپورٹ: محمد یونس کے ساتھ بدسلوکی، بنگلہ دیش کا قانونی کارروائی کا عزم

Updated: October 14, 2026, 12:50 PM IST | Dhaka

نیویارک ایئرپورٹ پر محمد یونس کے ساتھ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا، جس کے خلاف بنگلہ دیشی حکومت نے سخت قانونی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے،تاہم ، بنگلہ دیش کی دیگر سیاسی شخصیات نے بھی اس معاملے کی سخت مذمت کی ہےاور اسے محمد یونس کے ساتھ بنگلہ دیش کی توہیں قرار دیا ہے۔

Muhammad Yunus. Photo: INN.
محمد یونس۔ تصویر: آئی این این

 بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، سابق نگراںحکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس جب دوحہ سے قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعے نیویارک پہنچےتو جان ایف کینیڈی (جے ایف کے) انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے ایک گروہ نے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور انہیں ہراساں کیا۔ اس واقعے کے بعد بنگلہ دیش کے سیاسی حلقوں میں اس کی شدید مذمت کی گئی ہے، جبکہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس میں ملوث عوامی دہشت گردوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔اخبار ڈیلی سن کی رپورٹ کے مطابق، نوبیل انعام یافتہ محمد یونس ٹرمینل پر پہنچنے کے بعد جب ویل چیئر پر بیٹھے تھے، تو کچھ لوگوں نے ان کے قریب آ کر غصے کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں لوگوں کو ان پر چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہےکہ، ’’تم دہشت گرد ہو، یہاں کیوں آئے ہو؟ تم نے میرے ملک کی جمہوریت کو تباہ کر دیا ہے!‘‘ دوسرے افراد نے محمد یونس کو ’’دہشت گرد‘‘کہا، ان پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا اور بنگلہ دیشیوں اور ہزاروں پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس دوران ’’واپس جاؤ‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نےایران کو چینی اور روسی مدد کی رپورٹس کو مسترد کیا؛ قطر نےآبی راستوں کو محفوظ بنانے پر زور دیا

بعد ازاں سیکورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر مداخلت کی اور محمد یونس کو وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر لے گئے۔ ایئرپورٹ پر موجود افراد کے مطابق، واقعے کے دوران محمد یونس اور ان کے ساتھ موجود لامیا مرشد تیزی سے واپس ایئرپورٹ کے اندر چلے گئے اور بعد میں وہ ایک معاون کی مدد سے آگے روانہ ہوئے۔واضح رہے کہ اگست ۲۰۲۴ء میں سرکاری نوکریوں میں کوٹہ کے خلاف طلبہ کی احتجاجی تحریک اس وقت سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئی تھی اور کئی ہفتوں کے شدید احتجاج اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد ۵؍ اگست کو شیخ حسینہ استعفیٰ دے کر ملک سے فرار ہو گئی تھیں۔ اس کے تین دن بعد، طلبہ لیڈروں کی تجویز پر نوبیل امن انعام یافتہ اور ماہرِ معاشیات محمد یونس نے نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر کے طور پر حلف اٹھایا تھا، جن کی انتظامیہ کا مقصد ملک میں اصلاحات کرنا اور انتخابات کیلئے تیاری کرنا تھا۔ اس کے بعد فروری میں ہونے والے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے طارق رحمان ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ 

منگل، ۱۳؍ اکتوبر کو وزیراعظم کے انفارمیشن ایڈوائزر ڈاکٹر زاہد الرحمان نے سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی حکومت محمد یونس کے ساتھ پیش آنے والے اس ہراسانی کے واقعے پر قانون کے مطابق سخت قدم اٹھائے گی۔ ڈاکٹر زاہد نے اس واقعے کو ’’عوامی دہشت گردی‘‘  قرار دیا اور کہا کہ اس میں ملوث عناصر کو بخشا نہیں جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ شیخ حسینہ انتقام کی غرض سے نہیں بلکہ انصاف کا سامنا کرنے کیلئے بنگلہ دیش واپس آئیں۔ انہوں نے کہا، ’’جنہوں نے سنگین مجرمانہ جرائم کئےہیں، مفاہمت ممکن ہونے کیلئے انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے پرائمری اور ماس ایجوکیشن کے وزیر مملکت کو ہراساں کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ زاہد الرحمان نے کہا کہ ایسی پارٹی کے ساتھ مفاہمت انتہائی مشکل ہے جو بقول ان کے مسلسل تشدد کو ہوا دے رہی ہےاور پچھلے دو سالوں کے دوران پارٹی کے رویے سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ وہ مفاہمت چاہتی ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معافی مانگنے کے بجائے وہ دھمکیاں دے رہی ہے اور اشتعال انگیزی پھیلا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ ہندوستان سے بیرونِ ملک تک پہنچ گیا

نیشنل سٹیزن پارٹی(این سی پی) کے کنوینر اور ڈھاکہ-۱۱؍  سے رکنِ پارلیمنٹ ناہید اسلام نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے پابندی شدہ عوامی لیگ کے کارکنان کا ہاتھ ہے۔انہوں نے مزید کہا، ’’بنگلہ دیش کے عوام کی طرف سے یکسر مسترد کئے جانے کے دو سال بعد بھی، عوامی لیگ کے دہشت گرد عناصر کے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے ماضی کے جرائم پر ذرا برابر بھی ندامت ظاہر کی ہے۔‘‘ 
علاوہ ازیں بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے بھی اس مبینہ بدسلوکی کی شدید مذمت کی ہے۔ پارٹی کے نائب امیر اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر ڈاکٹر سید عبداللہ محمد طاہر نے ۱۳؍ اکتوبر کو ایک بیان جاری کیا۔ ڈاکٹر طاہر نے الزام لگایا کہ عوامی لیگ کے عناصر کے حامیوں نے جے ایف کے ایئرپورٹ پر محمد یونس کو گھیر لیا اور ان کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ قطعی ناقابلِ قبول ہے اوربین الاقوامی برادری کے سامنے  نوبیل انعام یافتہ شخصیت کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ صرف محمد یونس بلکہ پورے بنگلہ دیش کی توہین ہے۔ ڈاکٹر طاہر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بنگلہ دیش کے عوام اور دنیا بھر میں مقیم تارکینِ وطن ایسی تمام سرگرمیوں کا منہ توڑ جواب دیں گے، اور ساتھ ہی انہوں نے بنگلہ دیشی سفارت خانوں اور ہائی کمیشنوں کے حکام سے بھی مناسب اقدامات کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK