Updated: October 12, 2026, 4:04 PM IST
| Stockholm
امریکی ماہرینِ معاشیات رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کو میکرو اکنامک استحکام کی خرد معاشی بنیادوں پر تحقیق کیلئے۲۰۲۶ء کے نوبیل انعام برائے معاشیات سے نوازا گیا ہے۔ یہ انعام معاشی استحکام اور پالیسیوں کے اثرات کو سمجھنے میں ان کی اہم تحقیقی خدمات کا اعتراف ہے۔
مائیکل ووڈفورڈ اور رابرٹ ای ہال۔ تصویر: آئی این این
امریکی ماہرین معاشیات رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ نے میکرو اکنامک استحکام کی خرد معاشی بنیادوں پر کام کرنے کیلئے۲۰۲۶ء کا نوبیل انعام برائے معاشیات جیت لیا ہے۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے پیر (۱۱؍اکتوبر) کو اسٹاک ہوم میں اس انعام کا اعلان کیا۔ اس باوقار اعزاز کا سرکاری نام ’’الفریڈ نوبیل کی یاد میں اقتصادی علوم کا سویریگس رکس بینک انعام‘‘ ہے۔ اس سال دیا جانے والا یہ آخری نوبیل انعام ہے، جس کی مالیت ۱۲؍ ملین سویڈش کراؤن (تقریباً۱۲؍ لاکھ امریکی ڈالر) ہے۔ طب، طبیعیات، کیمیا، ادب اور امن کے شعبوں کے نوبیل انعامات کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی: ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کا تازہ حملہ، ہلاکتوں کی تعداد ۱۸؍ ہوگئی
گزشتہ سال معاشیات کا نوبیل انعام جوئل موکیر، فلپ ایگیون اور پیٹر ہووٹ کو ’’تخلیقی انہدام‘‘ (Creative Destruction) کے نظریے اور اس تحقیق پر دیا گیا تھا کہ کس طرح نئی ٹیکنالوجی اور پیداواری طریقے معاشی ترقی اور معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ معاشیات کا نوبیل انعام پہلی مرتبہ۱۹۶۹ءمیں دیا گیا تھا۔ یہ ان پانچ اصل نوبیل انعامات میں شامل نہیں ہے جنہیں صنعت کار اور ڈائنامائٹ کے موجد الفریڈ نوبیل نے۱۸۹۵ء میں اپنی وصیت کے ذریعے قائم کیا تھا۔ معاشیات کا یہ انعام سویڈن کے مرکزی بینک نے قائم کیا تھا۔ اب تک اس انعام کے زیادہ تر فاتحین کا تعلق امریکہ سے رہا ہے۔ اس شعبے میں اب تک صرف تین خواتین کو یہ اعزاز ملا ہے۔ آخری مرتبہ۲۰۲۳ء میں کلاڈیا گولڈن کو یہ انعام دیا گیا تھا۔ انہیں امریکہ میں وقت کے ساتھ اجرتوں اور روزگار پر صنفی فرق کے اثرات سے متعلق تحقیق کیلئے نوازا گیا تھا۔