اگرچہ فلم ’اومکارا‘کو ریلیز ہوئے۲۰؍ برس گزر چکے ہیں، لیکن اس میں سیف علی خان کے ذریعہ ادا کیا گیالنگڑا تیاگی کاخوفناک اوریادگار کردار آج بھی ہندی سنیماکی بہترین ولن پرفارمنسز میں شمار کیا جاتاہے۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 9:48 AM IST | Mumbai
اگرچہ فلم ’اومکارا‘کو ریلیز ہوئے۲۰؍ برس گزر چکے ہیں، لیکن اس میں سیف علی خان کے ذریعہ ادا کیا گیالنگڑا تیاگی کاخوفناک اوریادگار کردار آج بھی ہندی سنیماکی بہترین ولن پرفارمنسز میں شمار کیا جاتاہے۔
اگرچہ فلم ’اومکارا‘کو ریلیز ہوئے۲۰؍ برس گزر چکے ہیں، لیکن اس میں سیف علی خان کے ذریعہ ادا کیا گیالنگڑا تیاگی کاخوفناک اوریادگار کردار آج بھی ہندی سنیماکی بہترین ولن پرفارمنسز میں شمار کیا جاتاہے۔وشال بھردواج کی شیکسپیئر کے شہرۂ آفاق ڈرامے’اوتھیلو‘پر مبنی اس فلم نے نہ صرف بالی ووڈ میں ادبی شاہکاروں کی فلمی پیشکش کا انداز بدل دیا بلکہ سیف علی خان کے فلمی کیریئر کو بھی ایک نئی سمت عطا کی۔ اس کردار نے ثابت کیا کہ وہ صرف شہری رومانوی کرداروں تک محدود اداکار نہیں بلکہ ہر طرح کے پیچیدہ کردار نبھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ فلم کی ریلیز کے ۲۰؍سال مکمل ہونے پر’اومکارا‘کےشریک مصنف اور اسوسی ایٹ ڈائریکٹر ابھیشیک چوبے نے فلم کی کاسٹنگ سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لنگڑا تیاگی کے کردار کے لیے صرف وشال بھردواج ہی سیف علی خان پر مکمل اعتماد رکھتے تھے، جبکہ باقی تقریباً سبھی لوگ اس انتخاب کے بارے میں شکوک کا شکار تھے۔بالی ووڈ ہنگامہ سے گفتگو کرتے ہوئےابھیشیک چوبے نے کہا،’’میرا خیال تھا کہ لنگڑا تیاگی کےکردار کے لیے ہم کسی ایسے اداکار کا انتخاب کریں گے جو زیادہ سنجیدہ یا آرٹ فلموں سے وابستہ ہو، کیونکہ ہم ’مقبول‘جیسی فلم کے بعد اس پروجیکٹ پر کام کر رہےتھے۔ لیکن وشال نے کہا کہ وہ اس کردار کے لیے سیف علی خان کو لینا چاہتےہیں۔میں نے حیرت سے پوچھا،’’کیا آپ واقعی یقین رکھتے ہیں؟‘‘ اس سے پہلے سیف نے اس نوعیت کا کوئی کردار نہیں کیا تھا۔ وہ زیادہ تر شہری ماحول پر مبنی فلموں میں رومانوی کردار ادا کرتے تھے۔ اگرچہ ’ایک حسینہ تھی‘ میں ان کے کردار میں کچھ منفی پہلو ضرور تھے، لیکن وہ بھی ایک نہایت مہذب اور شہری شخصیت کا کردار تھا۔ جبکہ لنگڑا تیاگی اس سے بالکل مختلف، دیہی اور کھردرا کردار تھا۔انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ تجربہ کامیاب ہوگا، لیکن وشال کو پورا اعتماد تھا کہ وہ سیف سے یہ کردار بہترین انداز میں ادا کروا لیں گے۔ اس کا سہرا انہیں ہی جاتا ہے، کیونکہ صرف میں ہی نہیں بلکہ ان کے آس پاس موجود تقریباً ہر شخص اس فیصلے پر پوری طرح مطمئن نہیں تھا۔ ایک ہدایت کار ہونے کے ناطے وشال کو وہ صلاحیت نظر آ گئی تھی جو ہم نہیں دیکھ پا رہے تھے۔‘‘ابھیشیک چوبے نے مزید بتایا، ’’جب سیف علی خان کو معلوم ہوا کہ انہیں شیکسپیئر کے کردار ’آئیگو‘پر مبنی کردار ادا کرنے کا موقع مل رہا ہے تو انہوں نے فوراً اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ میرا خیال ہے کہ اس میں ان کی والدہ شرمیلا ٹیگور کا بھی اہم کردار تھا۔ شیکسپیئر سے واقف ہونے کی وجہ سے انہوں نے سیف کو سمجھایا کہ ’آئیگو‘اس ڈرامے کا سب سے یادگار کردار ہے، اس لیے انہیں یہ کردار ضرور کرنا چاہیے۔ البتہ اس وقت سیف کی تاریخیں دستیاب نہیں تھیں کیونکہ وہ فلم ’ریس‘کی شوٹنگ میں مصروف تھے، لیکن بعد میں ’ریس‘کی شوٹنگ مؤخر ہو گئی اور یوں وہ ’اومکارا‘ کا حصہ بن گئے۔