کہا کہ ’’مرکزی حکومت کی نفرت، تعصب اور تنگ نظری کے باعث ملک کا مسلمان ترقی نہیں کرپارہا ہے‘‘
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 11:38 AM IST | New Delhi
کہا کہ ’’مرکزی حکومت کی نفرت، تعصب اور تنگ نظری کے باعث ملک کا مسلمان ترقی نہیں کرپارہا ہے‘‘
لوک سبھا میں بجٹ اجلاس کے دوران کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کئی مسائل اٹھائے۔ انھوں نے کہاکہ میں اس بجٹ کی مخالفت اس لیے کرتا ہوں کہ یہ اہم معاملات پر انصاف نہیں کرتا۔ مسلمانوں کی تعلیم، اسکالر شپ اور حکومت میں ان کی حصہ داری پر سوال اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہاکہ مودی حکومت تعصب اور تنگ نظری کے مظاہرے کرتی ہے اور اسی وجہ سے مسلمان اور اقلیتیں اعلیٰ تعلیم مکمل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے مثالیں پیش کرتے کہاکہ اقلیتوں سے وابستہ تین اسکالر شپ اسکیموں کو پانچ سال سے منظوری نہیں دی جارہی، یہ تعصب اور نفر ت نہیں ہے تو اور کیا ہے۔
اویسی کے مطابق ہرسال بجٹ تو پاس ہورہا ہے مگر پانچ سال سے پیسہ نہیں دیا جارہا ہے۔ اویسی نے کہاکہ وکست بھارت کی میں تائیدکرتا ہوں، مگر کیا ۱۴؍ فیصد آباد ی کوناخواندہ رکھ کر وکست بھارت کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ وکست بھارت تبھی بنے گا جب مسلمان معاشی، سماجی، اقتصاری اور تعلیمی طور پر طاقتور ہوں گے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑر ہا ہے، حکومت نہیں چاہتی ہے کہ یہ ہو اور وہ کسی بھی میدان میں آگے بڑھیں۔
یہ بھی پڑھئے: عزم کو سلام: ہاتھوں سے محروم ’سورج‘ پیر سے پرچہ لکھتا ہے
بیرسٹر اویسی نے اس دوران آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرماپر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آسام کی حکومت اگر گولی مارنے کا ویڈیو کم بنائے گی تو شاید مسلمان تعلیم میں آگے بڑھ جائے گا۔ لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ مولاناآزاد اسکالر شپ کو دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ اقلیتوں کے بچے اور مسلم بچے اس سے مستفید ہوں۔ انہوں نے اقلیتی امور میں تعصب اور حکومت کی لاپروائی کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ سال ۲۲۔ ۲۰۲۳ءمیں اقلیتی وزارت کا بجٹ ۵؍ہزار کروڑتھا، مگر صرف ۱۶؍ فیصد ہی خرچ کیا گیا۔ اسی طرح ۲۴۔ ۲۰۲۳ءمیں یہ بجٹ بھی کم کردیا گیا اور اسے ۳ ؍ہزار کروڑ کردیا گیا مگر اس مرتبہ تو ۵ ؍فیصد ہی خرچ کیا گیااور ۲۴۔ ۲۰۲۵ ء میں صرف ۲۲؍ فیصد خرچ ہوا۔ اس لیے میرا مطالبہ ہے کہ اقلیتی امور کی وزارت کا بجٹ دس ہزار کروڑ کیا جائے اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں سے تعصب کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کئی مثالیں بھی پیش کی اور کہا کہ تعصب اگر ختم کردیا جائے تو اقلیتوں کوترقی کرنے سےکوئی روک نہیں سکے گا۔ انہوں نے بجٹ اور مہنگائی کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ حکومت فرقہ وارانہ موضوعات پر دھیان دینے کے بجائے اگر مہنگائی کم کرنے پر دھیان دے تو اس ملک کے عام آدمی کو راحت ملے گی۔
اسدالدین اویسی جو بہت مدلل گفتگو کرتے ہیں، نے ہند امریکہ تجارتی معاہدہ کی بھی مخالفت کی اور کہاکہ حکومت گوری چمڑی والے کے سامنے اتنا کیوں گر رہی ہے۔ اس معاہدہ سے ہندوستان کوکوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے بلکہ صرف ٹرمپ کی جی حضوری محسوس ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ آپریشن انصاف کے تحت حکومت ہند بھی حافظ سعید، مسعود اظہر اور لکھوی کو ہندوستان لائے تبھی انصاف ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اسرائیل جارہے ہیں، ضرور جائیں مگر انھیں غزہ میں بھی پندرہ منٹ کے لئے جانا چاہئے۔