وزیر اعظم مارک کارنی کا اتحاد کا خیرمقدم،۷۶؍فیصد ووٹرز نے کنیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 1:28 PM IST | Agency | Edmonton
وزیر اعظم مارک کارنی کا اتحاد کا خیرمقدم،۷۶؍فیصد ووٹرز نے کنیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی۔
کنیڈا کے صوبے البرٹا کے ووٹروں نے ملک سے علاحد گی کی سمت قانونی عمل شروع کرنے کی تجویز کو بھاری اکثریت سے مسترد کردیا ہے۔ الیکشنز البرٹا کے جاری کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق، اس فیصلے کو وزیر اعظم مارک کارنی اور قومی اتحاد کے حامیوں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق، ڈیڑھ لاکھ نہیں بلکہ۱۵؍ لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کے بعد تقریباً۷۶؍فیصد ووٹروں نے کنیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی، جبکہ تقریباً۲۴؍ فیصد نے علیحدگی کے لیے مستقبل میں ریفرنڈم کرانے کی قانونی کارروائی شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ کارنی نے کہا،البرٹا کے عوام نے واضح فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اتحاد، مل جل کر تعمیر و ترقی کرنے اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنے کا انتخاب کیا۔ سب سے بڑھ کر، البرٹا کے عوام نے کینیڈا کو منتخب کیا ہے۔ایڈمنٹن میں پرورش پانے والے کارنی نے کہا کہ اس نتیجے سے ملک کو تجارتی شعبے میں تنوع پیدا کرنے، بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور البرٹا کو مرکز بنا کر کینیڈا کو عالمی توانائی کی بڑی طاقت بنانے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے:فرانس، اٹلی میں دکانداروں کا مظاہروں کے دوران لوٹ مار کرنے والوں کا مقابلہ
البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے بھی نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں نے متحدہ کنیڈا میں ایک زیادہ مضبوط البرٹا کا انتخاب کیا ہے۔ تاہم، علاحدگی کی مہم چلانے والوں نے دعویٰ کیا کہ نتائج وفاقی حکومت سے عوام کی مسلسل ناراضگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تحریک کے ایک رہنما کیتھ ولسن نے کہا کہ کم از کم ایک چوتھائی البرٹا کے باشندوں کا خیال ہے کہ صوبے کے ساتھ بہتر سلوک کیا جانا چاہیے۔ بیلٹ پر ووٹروں سے براہ راست یہ نہیں پوچھا گیا تھا کہ آیا البرٹا کو آزاد ملک بن جانا چاہیے، بلکہ سوال یہ تھا کہ کیا صوبائی حکومت کو علیحدگی پر پابند کرنے والا ریفرنڈم کرانے کے لئے ضروری قانونی کارروائی شروع کرنی چاہیے۔ پیر کو ووٹروں کے سامنے پیش کیے گئے۱۰؍ سوالات میں یہ بھی شامل تھا۔ دیگر سوالات کا تعلق امیگریشن، صحت، تعلیم اور صوبے کے آئینی اختیارات سے تھا۔ صوبے کے تقریباً۱۴۰۰؍ پولنگ مراکز میں سے لگ بھگ۱۰۰؍ پر تاخیر کے باعث نتائج کا اعلان دو گھنٹے سے زیادہ دیر سے ہوا۔الیکشنز البرٹا نے کہا کہ باقی نتائج کو حتمی شکل دینے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ اہل ووٹروں میں سے تقریباً۴۳؍ فیصد، یعنی لگ بھگ۱۳؍ لاکھ افراد، پہلے ہی پیشگی ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے اپنے ووٹ ڈال چکے تھے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ووٹنگ کا تناسب صوبے میں۲۰۲۱ء کے ریفرنڈم کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتا ہے۔