• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل گاندھی نےCJP لیڈرز سورَو داس، اشوتوش رانکا کی حراست کو بزدلانہ عمل قرار دیا

Updated: October 14, 2026, 2:30 PM IST | New Delhi

جنتر منتر پر احتجاج کے دوران قومی پرچم لہرانے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے شریک کنوینر اشوتوش رانکا اور سورَو داس کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج اور ترنگا لہرانا کوئی جرم نہیں، جبکہ سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے اسے ’’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘‘ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں اور دیگر شخصیات نے بھی پولیس کی کارروائی اور عدالتی حراست کے حکم پر سوال اٹھائے ہیں۔

CJP leaders Saurav Das and Ashutosh Ranka. Photo: INN
سی جے پی لیڈرز سورَو داس اور اشوتوش رانکا۔ تصویر: آئی این این

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے شریک کنوینر اشوتوش رانکا اور سورَو داس کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنا اور قومی پرچم لہرانا کوئی جرم نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کے دوران ترنگا لہرانا کوئی جرم نہیں ہے۔ اس کے لیے نوجوانوں کو جیل بھیجنا بزدلی کا عمل ہے۔ طلبہ، نوجوان، صحافی اور انڈیا بلاک، مختلف بینر مگر مقصد ایک۔ تمام احتجاج دراصل شہریوں کی جانب سے اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ ہیں۔ جنتر منتر ہندوستان کے عوام کا ہے۔ ہم اسے دوبارہ حاصل کریں گے۔‘‘

رپورٹس کے مطابق، بدھ کے روز ایک خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے داس اور رانکا کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا اور انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ دونوں نے امن قائم رکھنے کے لیے دیے گئے بانڈ کی خلاف ورزی کی اور جنتر منتر میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے۔ دونوں لیڈروں کو منگل کے روز اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انہوں نے مبینہ طور پر رکاوٹیں عبور کرکے بغیر اجازت جنتر منتر کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے بھی دونوں لیڈروں کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی پر ’’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘‘ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔ ان لیڈرؤں کی حراست کے بعد اپوزیشن لیڈرؤں اور پارٹی کارکنوں نے احتجاج کرنے اور ترنگا لہرانے والوں کے خلاف کارروائی پر سخت اعتراض کیا۔

ڈپکے کا مودی پر ’’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘‘ نافذ کرنے کا الزام

ناگپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپکے نے سوال کیا کہ جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کے لیے داس اور رانکا نے آخر کون سا جرم کیا ہے، جبکہ اس مقام کو احتجاج گاہ کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ ڈپکے نے کہا، ’’میں نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتے ہیں تو باضابطہ طور پر ایسا کیجیے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ کیا طریقہ ہے؟ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کی جارہی ہے، جہاں صرف قومی پرچم لہرانے کے لیے لوگوں کو پانچ دن تک حراست میں رکھا جاتا ہے۔ اندرا گاندھی کی جانب سے ۱۹۷۵ء میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کے دوران بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔‘‘ پی ٹی آئی کے مطابق، ڈپکے نے مزید کہا، ’’اس ملک میں ترنگا لہرانا گویا سب سے بڑا گناہ بن گیا ہے، یہاں تک کہ اس کے لیے لوگوں کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا جارہا ہے۔ میں نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں کہ اتنے بزدل مت بنئے، کچھ ہمت دکھائیے۔ اگر آپ میں حوصلہ ہے تو ایمرجنسی نافذ کرنی ہے تو باضابطہ طور پر کیجیے۔‘‘

داس اور رانکا کو منگل کی صبح مبینہ طور پر رکاوٹیں عبور کرکے بغیر اجازت جنتر منتر میں داخل ہونے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ دونوں نے امن برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے بانڈ کی خلاف ورزی کی اور عوامی امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ انڈیا بلاک کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈپکے نے کہا کہ سی جے پی ایک آزاد دباؤ گروپ ہے اور ہمیشہ آزاد ہی رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سی جے پی، انڈیا بلاک کے خلاف ہے۔ انڈیا بلاک اور سی جے پی کی تحریک کا مقصد ایک ہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: رتنا گیری: راجا پور میں بچوں کے ڈوبنے کا معاملہ، ۱۵؍ سالہ بچی کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا

اپوزیشن اور طلبہ لیڈروں نے حراست پر سوال اٹھائے

اپوزیشن لیڈروں نے ہندوتوا تنظیم سے وابستہ ان افراد کے ساتھ مبینہ طور پر مختلف سلوک کیے جانے کی جانب بھی توجہ دلائی، جنہیں مظاہرین کی پٹائی کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا اور جنہیں اسی دن ضمانت مل گئی تھی۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچندر پوار) کے ترجمان انیش گوانڈے نے اس فرق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’سورَو اور اشوتوش کو پانچ دن کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا، جبکہ ہندو کرانتی دل کے کارکن، جو کناٹ پلیس میں چاقو، لاٹھیاں اور تلواریں لے کر آتے ہیں، انہیں اسی شام ضمانت پر رہا کردیا جاتا ہے۔ ملک میں کیا ہورہا ہے؟‘‘ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بھی سی جے پی لیڈرؤں کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بالکل مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا۔ کیجریوال نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’کیا اپنے ہی ملک میں اپنا پرچم لہرانا جرم ہے؟ یہ بالکل مضحکہ خیز ہے۔‘‘

رکن پارلیمان مہوا موئترا نے بھی غیر قانونی داخلے کے الزام پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر شہریوں کا ہے اور وہاں انہیں قومی پرچم لہرانے کی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’کس جگہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی بات کی جارہی ہے؟ جنتر منتر شہریوں کا ہے اور ہمیں وہاں ترنگا لہرانے کی آزادی ہے۔ سورَو داس اور اشوتوش رانکا کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ دہلی مودی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔‘‘

سی جے پی لیڈر اجنکیا شندے نے حکومت پر بنیادی حقوق کو محدود کرنے کے لیے اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ شندے نے کہا، ’’آمرانہ مودی-شاہ حکومت نے سورَو اور اشوتوش کو پانچ دن کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔ آج اشوتوش کی سالگرہ تھی اور اسی دن انہیں ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے اور ترنگا لہرانے کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ میں ملک کے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت نے لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے اپنے نظام اور اختیارات کا غلط استعمال شروع کردیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی پر روک

نیہا بورا نے بھی ’ایکس‘ پر اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’آخر کس بات کے لیے پانچ دن کی عدالتی حراست؟ حکومت عوام کی اختلافی آوازوں کو دبانے اور اس مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ سورَو اور اشوتوش کو جیل بھیجنا بھی اسی کوشش کا حصہ ہے۔‘‘ دہلی پولیس نے اپنے موقف میں کہا کہ مظاہرین نجی احاطے میں داخل ہوئے اور اپنے فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔ پولیس نے یہ الزام بھی لگایا کہ عوامی امن میں خلل ڈالنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کو مشتعل کرنے کی بار بار کوششیں کی گئیں۔ اداکار پرکاش راج نے بھی سی جے پی لیڈرؤں کو عدالتی حراست میں بھیجنے کے فیصلے کی مذمت کی۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’دوست، قومی پرچم کے ساتھ احتجاج کرنے پر پانچ دن کی عدالتی حراست؟ آپ کتنے پریشان ہیں!‘‘

سی جے پی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے دہلی پولیس پر مجسٹریٹ کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق، پولیس نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ منگل کو دوسرے مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے کی اپیل کی گئی تھی۔ رتنا سنگھ نے لکھا، ’’دہلی پولیس نے آج عدالت میں جھوٹ بولا کہ کل دوسرے مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ بالکل غلط ہے! عوام سے ایسی کوئی اپیل نہیں کی گئی تھی۔ مجھے افسوس ہے کہ پولیس کو ’اوپر‘ سے آنے والے احکامات پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اتنی وفاداری!‘‘

یوٹیوبر دھرو راٹھی نے بھی اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’اتحاد ہماری طاقت ہے۔ ہندوستان اور اس کی جمہوریت کو بچانے کے لیے تمام ہندوستانیوں کو متحد ہونا چاہیے۔‘‘ ساکیت گوکھلے نے بھی دونوں لیڈرؤں کو تہاڑ جیل بھیجنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے لکھا، ’’یہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہیں آخر کس لیے تہاڑ جیل بھیجا جارہا ہے؟ صرف جنتر منتر پر ہندوستانی پرچم کے ساتھ احتجاج کرنے کے لیے! سی جے پی، سورَو داس اور اشوتوش رانکا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہمیں اس کے خلاف متحد ہوکر لڑنا چاہیے۔‘‘ وکیل اور مصنف پرشانت بھوشن نے بھی سوال کیا کہ کیا جنتر منتر میں داخل ہونا اور قومی پرچم لہرانا جرم ہوسکتا ہے، چاہے اس مقام کو احتجاج گاہ کی فہرست سے خارج ہی کیوں نہ کردیا گیا ہو۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’جنتر منتر میں داخل ہونے اور قومی پرچم لہرانے میں آخر کیا جرم ہے، چاہے اسے احتجاج گاہ کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہو؟ کیا ملک میں کہیں بھی قومی پرچم لہرانا جرم ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: ووٹ چوری کے ساتھ ہی کانگریس نے حکومت کو مہنگائی پر بھی گھیرا

وکیل نے عدالتی حراست کے حکم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا

داس، رانکا اور شندے کی نمائندگی کرنے والے وکیل ابھیشٹ ہیلا نے دونوں سی جے پی لیڈرؤں کو عدالتی حراست میں بھیجنے کے حکم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام نے شواہد کے بجائے مفروضوں کی بنیاد پر کارروائی کی ہے۔ آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے ہیلا نے کہا، ’’ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ آج جو حکم جاری کیا گیا، وہ عدالتی ذہن کے مناسب استعمال کے بغیر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے طے کیے گئے قانونی اصولوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حکام نے مفروضوں کی بنیاد پر کارروائی شروع کردی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسے لگتا ہے کہ یہ لوگ کچھ کرسکتے ہیں اور اسی بنیاد پر انہیں پانچ دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ میں اجنکیا کی بات دہراتا ہوں کہ انہیں ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے اور قومی پرچم لہرانے کے لیے پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے اور ملک کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK