• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۳۱ء تک خلا میں جنگ چھڑنے کا خدشہ، دنیا انیسویں صدی میں لوٹ سکتی ہے: ماہرین

Updated: October 21, 2026, 2:10 PM IST | London

خلا میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور جدید ہتھیاروں کی تیاری نے مستقبل میں خلائی جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے۲۰۳۱ء تک چھڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی جنگ مصنوعی سیاروں کو تباہ کرکے انٹرنیٹ، مواصلات، نیویگیشن اور عالمی مالیاتی نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک ماہر نے خبردار کیا ہے کہ۲۰۳۱ء تک خلا میں جنگ چھڑ سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو دنیا ایک بار پھر انیسویں صدی میں پہنچ جائے گی۔ کنگز کالج لندن کے فری مین ایئر اینڈ اسپیس انسٹی ٹیوٹ کی شریک ڈائریکٹر ڈاکٹر جولیا بالم نے خبردار کیا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے جدید اور پیچیدہ ٹیکنالوجی تیار کئے جانے کے باعث مصنوعی سیاروں (سیٹیلائٹس) اور خلا میں موجود دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ جولیا بالم نے کہا، ’’اگر ہم مدار میں مصنوعی سیاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی صلاحیتوں میں وسعت کے ساتھ ساتھ تکنیکی ترقی کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف خلا میں تنازع پیدا ہونے کا امکان ہے بلکہ آئندہ پانچ برسوں کے اندر ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ ‘‘
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی سیاروں کے نظام میں خلل ڈالنا اور ’’نہ صرف ہماری فوجی کارروائیوں بلکہ اہم قومی بنیادی ڈھانچے کو بھی مفلوج کرنا‘‘ مخالف ممالک کیلئے ایک پُرکشش حکمتِ عملی بن سکتا ہے جس سے خلا دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اصل سوال یہ ہے کہ عملی سطح پر ہم اپنی صلاحیتوں کو کس طرح محفوظ اور مضبوط بنائیں اور جنگی محاذ کے طور پر خلا میں اپنی سرگرمیوں کو کس طرح منظم کریں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسپین: طلبہ کی رہائش کیلئے ۵۰؍ ملین ڈالر مختص کرنے کا اعلان

روس، چین اور امریکہ پہلے ہی خلائی کشمکش میں الجھ سکتے ہیں 
اگر خلا میں جوہری ہتھیار پھٹ جائے تو اس سے پیدا ہونے والی تابکاری مصنوعی سیاروں کو مستقل طور پر نقصان پہنچا سکتی ہے اور مدار کو ناقابلِ استعمال بنا سکتی ہے۔ برطانیہ کے فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ روس خلا میں موجود مصنوعی سیاروں کو بڑے پیمانے پر تباہ کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ روس نے ۲۰۲۵ء میں کوسموس خلائی مشن کے ذریعے خلا میں پہلے ہی جوہری ہتھیار بھیج دیا تھا، جب اس سے ’’آبجیکٹ ایف‘‘ نامی ایک شے خارج کی گئی۔ روس کے انٹیلی جنس مصنوعی سیاروں، لوچ/اولمپ، کو یورپی خلائی جہازوں کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ۲۰۲۲ءمیں روس نے کوسموس۲۵۵۳؍نامی مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا تھا، جس کے بارے میں امریکی خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ اس میں جوہری آلے کے اجزا موجود تھے۔

یہ بھی پڑھئے: یوکرین نے روس پر ایک ہزار سے زائد ڈرونز داغے، ٹرمپ نے زیلنسکی پر جنگ کو طول دینے کا الزام عائد کیا

چین کے پاس شین لونگ نامی ایک خلائی طیارہ ہے، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس نے رواں سال کے اوائل میں مدار میں ایک نامعلوم شے چھوڑی تھی۔ خلائی نگرانی کرنے والی نجی کمپنی لیو لیبز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’۲۲؍جون۲۰۲۶ء کو عالمی وقت کے مطابق رات۲؍ بج کر۳۰؍ منٹ پر لیو لیبز نے چین کے دوبارہ استعمال کے قابل خلائی طیارے شین لونگ کے قریب مدار میں ایک نامعلوم شے کا پتا لگایا۔ ‘‘ گزشتہ ماہ امریکی خلائی فورس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے پہلی بار خلا میں ایک ہتھیار تعینات کیا ہے۔ برطانیہ میں قائم کمپنی آسٹراسکیل نے گزشتہ ہفتے بتایا کہ وہ اب خفیہ فوجی پروگراموں میں بھی شامل ہے اور ایسے نظام تیار کرنے پر کام کر رہی ہے جن کے ذریعے دشمن کے خطرناک خلائی جہازوں کی نگرانی کی جا سکے یا انہیں خطرہ بننے سے روکا جا سکے۔ بالم نے اجلاس کے دوران خبردار کیا کہ اتحادی ممالک کو خلا میں مخالف قوتوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کا احتجاج لوور میوزیم تک پہنچ گیا، مشہور عجائب گھر کے دروازے بند

خلا میں جنگ چھڑنے کی صورت میں کیا ہوگا؟
آج دنیا نیویگیشن، مواصلات اور دیگر اہم خدمات کیلئے مصنوعی سیاروں پر انحصار کرتی ہے۔ موسم کی پیش گوئی سے لے کر مالیاتی شعبے تک تقریباً ہر شعبہ ان سے وابستہ ہے۔ اگر خلا میں جنگ چھڑ گئی اور مصنوعی سیارے تباہ کر دیئے گئے تو اس کے تقریباً ہر شعبے پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انٹرنیٹ، عالمی ٹیلی مواصلات اور ٹیلی ویژن نشریات مکمل طور پر بند ہو سکتی ہیں۔ فضائی ٹریفک کنٹرول، سمندری جہازوں کی رہنمائی اور جی پی ایس سمیت عالمی نیویگیشن سیٹیلائٹ سسٹم (جی این ایس ایس) متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈجیٹل بینکاری، اسٹاک ایکسچینج اور خودکار تجارتی نظام ناکام ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مالیاتی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتِ حال میں دنیا کو مواصلات، مالیاتی لین دین، موسم کی پیش گوئی اور دیگر اہم امور کیلئے ایک بار پھر قدیم اور روایتی طریقوں کی طرف لوٹنا پڑ سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK