ہمالیہ کی شاندار چوٹیوں میں گھرا لاہول و اسپتی اپنی حیرت انگیز سرد ویران زمینوں، پاک صاف ندیوں اور قدرتی جھیلوںکیلئے مشہور ہے۔
لاہول اور اسپتی کی وادی سے پہاڑوں کا دلکش نظارہ- تصویر:آئی این این
لفظ ’لاہول‘تبتی لفظ ’لہو یول‘سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’جنوب کا ملک‘اوراسی کا ایک اور معنی ’لہاہی یول‘یعنی ’خداؤں کا ملک‘ بھی ہے۔ یہ سرزمین برف پوش پہاڑوں کے درمیان ایک عجیب بستی ہےجہاں جنوب سے آنے والی مانسونی بارشیں ان پہاڑوں کے آگے نہیں بڑھ پاتیں لیکن شمال سے آنے والی ہوائیں سردیوں میں بھاری برف لاتی ہیں۔رڈیارڈ کِپلِنگ نے اسے’ایک دنیا کے اندر دنیا‘قرار دیا تھا۔ ہمالیہ کی شاندار چوٹیوں میں گھرا لاہول و اسپتی ضلع اپنی حیرت انگیز سرد ویران زمینوں، پاک صاف ندیوں، قدرتی جھیلوں اور بدھ ثقافت و تاریخ کے لیے مشہور ہے۔
پس منظر
یہ دو پہاڑی دریاؤں ’چندرا اور بھاگا‘سے سیراب ہے جو باراچھا لا پاس کے دونوں اطراف سے نکلتے ہیں۔تانڈی میں ان کے ملاپ سے چناب ندی بنتی ہے جسے روایتی طور پر چندر بھاگا کہا جاتا ہے۔لاہول اور اسپتی وادیاں ۱۹۶۰ءمیںضم ہوئیں اور یہ ہندوستان کے چوتھے سب سے کم آبادی والے اضلاع میں سے ایک ہے۔
چندرتال جھیل
۴؍ہزار ۳۰۰؍میٹرکی بلندی پر کنزم پاس کے قریب واقع یہ ہلال نما جھیل صاف و شفاف پانی اور ہمالیائی مناظر پیش کرتی ہے اور یہ کیمپنگ کے لیے ایک اعلیٰ مقام ہے۔جھیل کا پانی اتنا شفاف ہے کہ تلہ کے پتھر بھی نظر آتے ہیں۔ گرمیوں میں اردگرد کی زمینوں پر الپائن نباتات اگتی ہیں اور سردیوں میں جھیل منجمد ہو جاتی ہے۔ ایک مشہور قصہ ہے کہ اسپتی کے ہانسا گاؤں کے ایک چرواہے کو یہاں ایک پری ملی تھی۔سارس اور بطخیں یہاں بکثرت پائی جاتی ہیں۔
اودے پور
اودے پور لاہول کا ذیلی ضلعی صدر مقام ہے جو سیب، خوبانی، اخروٹ اور گھنے صنوبر کے جنگلوں کے لیے مشہور ہے۔ اودے پور کیلانگ سے ۵۳؍کلومیٹردور مایار نالہ اور دریائے چندر بھاگاکے سنگم پر واقع ہے۔ اسے ۱۶۹۵ءکےلگ بھگ یہ نام دیا گیا جب چمبا کے راجہ اودے سنگھ نے اسے ضلعی مرکز کا درجہ دیا۔ یہاں کی ہری بھری اور گھنی وادی کو ایک مرتبہ ایک جرمن سیاح نے سوئزرلینڈ کے مناظر سے تشبیہ دی تھی۔
کنزم پاس
۴؍ہزار ۵۵۱؍میٹر کی بلندی پر واقع کنزم پاس لاہول اور اسپتی کوملانے والا درہ ہے جہاں سے بارہ شِگری گلیشیئر کے شاندار مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہاں ماں کنزم کا ایک چھوٹا مندر ہے جہاں سیاح پرکما لگاتے ہیں۔
گونڈھلا قلعہ
گونڈھلا کے ٹھاکر کا گھر جسے ’گونڈھلا قلعہ‘ یا’گونڈھلا کاسل‘ کہا جاتا ہے بڑی تعداد میں سیاحوں کواپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ مغربی ہمالیہ کی روایتی لکڑی اور پتھر کی تعمیر کی ایک عمدہ مثال ہے جس میں پتھر اور لکڑی کے تختوں کی متبادل تہیں گیلی مٹی سے جوڑی گئی ہیں۔ اس ۷؍منزلہ عمارت کے اوپرایک لکڑی کی بالکونی ہےجو اسے ایک سوئس شالے کا سا روپ دیتی ہے۔
کیلانگ
کیلانگ لاہول و اسپتی کا ضلعی صدر مقام ہے اور دریائے بھاگا کےکنارے لیہ جانے والی شاہراہ پر واقع ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ جیسے جیسے آپ کیلانگ کے قریب پہنچتے ہیں، منظر پتھریلے پہاڑوں سے مختلف رنگوں کی ریت میں بدلتا ہے جو پھر اچانک سرسبز ڈھلوانوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔کیلانگ سے لاہول کے مختلف گاؤں جیسے کوکسر، سِسو، گونڈھلا، تانڈی، جہلمن اور تھیروٹ اپنے دلکش مناظر اور الپائن پھولوں، موٹے ولو کے درختوں اور آلو، مٹر، جَو اور بکواہیٹ کے خوبصورت کھیتوں سے آراستہ ہیں۔ لاہول کے آلو دنیا بھر میں اپنے بہترین ذائقے کے لیے مشہور ہیں۔
سورج تال
باراچھا لا پاس کے قریب ۴؍ہزار ۸۹۰؍میٹر کی بلندی پر واقع سورج تال ہندوستان کی تیسری بلند ترین جھیل ہے اور شاندار ہمالیائی مناظر کے ساتھ ایک پرسکون مقام ہے۔
جِسپا اور دارچھا
لاہول ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کے شائقین کی جنت بھی ہے۔بہت سے ٹریکنگ روٹ اور کوہ پیمائی کی مہمیں دارچھا سے باراچھا لا تک جاتی ہیں۔ جسپا ایک خوبصورت گاؤں ہے جو لیہہ منالی شاہراہ پر واقع ہے اور مہم جوؤں کا پسندیدہ پڑاؤ ہے۔
لاہول کا مقامی کھانا
لاہول و اسپتی کا مقامی کھانا تبتی اور ہماچلی اثرات کا امتزاج ہے۔مشہور پکوانوں میں تھنتھک، موموز، جَو پر مبنی کھانے اور مقامی روٹیاں شامل ہیں۔ روایتی مشروبات میں چھانگ عام ہے۔ مقامی ہوم اسٹے اور کھانے کے ڈھابے مستند ذائقے فراہم کرتے ہیں۔