مداحوں کے ساتھ فلم بنانے والوں نے بھی اس سے امیدیں وابستہ کررکھی تھیں، اسی لئے ۴۰۰؍کروڑ روپے خرچ کرلئے لیکن فلم امید پر پوری نہیں اترتی۔
فلم ’دی راجا صاب‘ کےایک منظر میں پربھاس کو ایکشن میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
دی راجا صاب(The Raja Saab)
اسٹارکاسٹ:پربھاس، ندھی اگروال، زرینہ وہاب، بومن ایرانی، سنجے دت،ردھی کمار، مالویکا موہنن، یوگی بابو
ڈائریکٹر اوررائٹر :ماروتی دساری
پروڈیوسر:کیرتی پرساد، ٹی جی وشوپرساد،ویویک کوچی بھوتلا
موسیقار:ایس تمنlسنیماٹوگرافر:کارتک پلانی
ایڈیٹر:کوٹاگیری وینکٹیشور رائو
کاسٹنگ ڈائریکٹر:آلوک سنگھ
پرڈکشن ڈیزائن:راجیون
میک اپ:سمن سنگھ چوہان، شیلیش کیسکر، شمبھو کمار رائے
پروڈکشن منیجر:الیکس انتھونی فرنانڈس،اموگ کورگائونکر
ریٹنگ: **
تیلگو فلموں کے اداکار پربھاس کو فلم ’باہو بلی‘ سے شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اسی فلم سے ہندی جاننے والوں میں بھی ان کی شہرت پھیل گئی تھی۔ اس کے بعد سے ہی ان کی ہر فلم سے وہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی باہوبلی جیسی تاریخ رقم کرے لیکن ہر فلم اتنی عمدہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ان کی اکثر فلمیں فلاپ بھی ہوچکی ہیں لیکن اب بھی ان کی فلموں سے توقع رکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے کے تحت فلم’دی راجا ساب‘ سے بھی توقع رکھی گئی تھی کہ وہ بھی شاندار فلم ہوگی اور بھرپور کمائی کرے گی لیکن فلم دیکھنے کے بعد ایسی امید نہیں کی جاسکتی کہ یہ بھی باہوبلی کے نقش قدم پر چل سکے۔لیکن فلم سازوں نے اس فلم سے آمدنی کی بھرپور توقع کی بنیاد پر اسے بنانے کیلئے دل کھول پر رقم خرچ کی ہے۔اس کیلئے ایک بڑی سی حویلی کا سیٹ بنایا گیا کیوں کہ زیادہ تر شوٹنگ اسی حویلی میں ہوتی ہے اور یہی فلم کا مرکزی پلاٹ ہے۔ اس کے علاوہ وی ایف ایکس پر بھی پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا ہے جس سے اس کا بجٹ ۴۰۰؍تا۴۵۰؍کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ فلم اس سے زیادہ کماسکے گی؟
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی کے مطابق، راجو عرف راجا ساب (پربھاس) گاؤںمیں اپنی دادی گنگا ماں (زرینہ وہاب) کےساتھ رہتا ہے۔ اس کی دادی اکثر اس کے دادا کنک راجو (سنجے دت) کو یاد کرتی ہیں، جو چورکی تلاش میں گئے اورلاپتہ ہو گئے تھے۔ ایک دن راجو کو اچانک خبر ملتی ہے کہ اس کے دادا حیدرآباد میں ہیں۔ وہاں پہنچ کر اسے اپنے دادا کے بارےمیں ایک خوفناک اور چونکا دینے والی حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کی دادی دیو نگرکی شہزادی ہیں۔ اپنی دادی اور دادا کے ارد گرد کے اسرار کو حل کرنے کے لیے، وہ اپنے دادا کی آبائی حویلی پہنچتا ہے، جو ایک گھنے جنگل میں واقع ہے،جہاں اس کا سامنا اپنے دادا سے ہوتا ہے، جو اب ایک بھوت بن چکے ہیں۔ دادا اور پوتے کی اس جنگ میں کون جیتے گا؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو فلم دیکھنا ہوگی۔
ہدایت کاری
فلم کے ڈائریکٹر ماروتی نے کہانی اور اسکرین پلے بھی خود لکھا ہے۔فلم ہلکے پھلکے انداز میں شروع ہوتی ہے، جس سے آپ کو ایک اچھی فلم کی امید پیدا ہوتی ہے۔ لیکن کہانی آہستہ آہستہ بوجھل ہوتی جاتی ہے۔انٹرول کے بعد کہانی اتنی پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ آپ اس پر کلائمکس تک نہیں پہنچ پاتے۔ اگرچہ اس فلم کی مارکیٹنگ ہارر کامیڈی فلم کے طور پر کی گئی تھی، لیکن فلم میں ہارر آپ کو بمشکل ڈراتا ہے۔ کچھ مناظرمیں کامیڈی آپ کو ہنساتی ہے۔ تاہم ہدایت کار نے فلم میں اتنا مصالحہ ڈالا ہے کہ اس کی زیادہ مقدار آپ کے لطف کو برباد کر دیتی ہے۔کبھی کبھی، یہ آپ کو ہالی ووڈ کی ایک فینٹیسی فلم کی یاد دلاتی ہے، تو کبھی یہ تاریخی حوالوں پر مبنی نظر آتی ہےتو کبھی یہ سائنس ایڈونچر فلم محسوس ہوتی ہے۔بہت سے مناظر براہ راست ہالی ووڈ سے متاثرہیں۔ پربھاس جیسےبڑے اسٹار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی خواہش میں، ماروتی نے فلم میں اتناکچھ ڈال دیاکہ یہ۳؍ گھنٹے طویل ہو گئی۔ اگر فلم کو دو یا دو چوتھائی گھنٹے ایڈٹ کر کے ریلیز کر دیا جاتا تو شاید بہتر ہوتا۔
اداکاری
اداکاروں کی اداکاری کی بات کریں توپربھاس نے پوری کوشش کی ہے لیکن ایک کمزور اور پیچیدہ اسکرپٹ نے انہیں کچھ خاص حاصل کرنے نہیں دیا۔ ناکام فلموں کے ایک سلسلے کے بعد، انہیں اپنی فلموں کاانتخاب کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے۔ سنجے دت، اس دوران، بھاری وی ایف ایکس مناظر کی وجہ سے بہت کم کام کر سکے۔
فلم کی ۳؍خواتین لیڈز میں بھی چند سینز اور گانوں کے علاوہ نمایاں کام کی کمی تھی۔ زرینہ وہاب اور بومن ایرانی اپنےکرداروں میں ٹھیک ٹھاک ہیں۔ فلم کی سنیماٹوگرافی اور وی ایف ایکس کا کام اچھا ہے۔موسیقی ناقابلِ ذکر ہے اور کہانی کی رفتار کو کم کر دیتی ہے۔ ہدایت کار نے آخر میںسیکوئل کا اعلان کر دیا ہے۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ پربھاس کے بہت بڑے مداح نہیں ہیں، تو اس فلم کو دیکھ کر اپنا پیسہ ضائع نہ کریں۔