فلم کا ہیرو’ش‘ کو ’س‘ کہتا ہے، اسی مناسبت سے فلم کے نام میں شہر کے بجائے سہر استعمال کیا گیا ہے، ہیروئن بھی اپنے مسائل سے دوچار دکھائی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 9:31 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
فلم کا ہیرو’ش‘ کو ’س‘ کہتا ہے، اسی مناسبت سے فلم کے نام میں شہر کے بجائے سہر استعمال کیا گیا ہے، ہیروئن بھی اپنے مسائل سے دوچار دکھائی گئی ہے۔
دو دیوانے سہر میں
(Do Deewane Seher Mein)
اسٹارکاسٹ:سدھانت چترویدی، مرنال ٹھاکر، ایلا ارون، جوائے سین گپتا، عائشہ رضامشرا، انیش کوٹین، سندیپا دھر
ڈائریکٹر:روی ادیاور
رائٹر :ابھیروچی چند
پروڈیوسر:سنجے لیلا بھنسالی، امیش کمار بنسل، بھرت کمار رنگا،
موسیقار:جیکی ونجاری
سنیماٹوگرافر:کوشل شاہ
ایڈیٹر:منیشا بلداوا
کاسٹیوم ڈیزائن:دیویا گمبھیر، ندھی گمبھیر
اسٹنٹ:یاسین شیخ
پروڈکشن منیجر:ابھیشیک سنگھ، الیاس منصوری، ابھیشیک راول
ریٹنگ:**
ہدایت کار روی ادیاورنے آنجہانی سری دیوی کے ساتھ ۲۰۱۷ء میں ’مام‘ بنائی تھی۔ اس ایکشن تھرلر کو بہت سراہا گیا۔ پھر، ۲۰۲۴ءمیں، اس نے سدھانت چترویدی کے ساتھ ایک اور ایکشن تھرلر، ’یودھرا‘ریلیزکیا۔ یہ فلم اثر کرنے میں ناکام رہی۔ اب، تقریباً دو سال بعد، وہ سدھانت کے ساتھ ’دو دیوانے سہرمیں ‘میں واپس آئے ہیں۔ اس بار، ان کی مانوس ایکشن تھرلر اسٹائل کے برعکس، روی کی فلم ایک رومانوی ڈرامہ ہے۔ یہ جدید محبت کی کہانی، مرونال ٹھاکر اور سدھانت چترویدی کی اداکاری سے سجی فلم، اس جمعہ کوریلیز ہوئی۔
فلم کی کہانی
اس فلم کی کہانی ششانک کے نامی نوجوان کےگرد گھومتی ہے، جو دیکھنے میں اچھا ہے لیکن اس کی صرف ایک کمی ہے کہ وہ’ش‘ کو ’س‘ بولتا ہے۔ اس وجہ سے وہ لوگوں کے سامنے بات کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ دوسری طرف روشنی (مرونال ٹھاکر) ایک بہت پراعتماد لڑکی ہے۔ مگر اس کے اندر ایک ہلکی سی عدمِ تحفظ کی کیفیت بھی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی بڑی بہن نینا (سندیپا دھر) جتنی خوبصورت نہیں۔ اسی احساس کے باعث وہ اپنی خوبصورتی کو موٹے کالے فریم کے چشمے کے پیچھے چھپا لیتی ہے۔
روشنی کا دل دو برس پہلے ٹوٹ چکا ہے۔ پرانے زخموں کو سہلاتےہوئے اس نے محبت سے تقریباً ناامید ہوچکی ہے۔ وہ ان تمام لڑکوں کو انکار کر دیتی ہے جنہیں اس کی ماں (عائشہ رضا) بڑے جوش و خروش سے اس کے سامنے پیش کرتی رہتی ہیں۔ روشنی کو یقین ہےکہ ملک میں زیادہ تر شادیاں محبت سے نہیں بلکہ مجبوری میں ہوتی ہیں۔ وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں جو بڑھتی عمر کی حیاتیاتی گھڑی کی ٹک ٹک اور سماجی دباؤ کے آگے سر جھکا دے۔
یہ بھی پڑھئے: او‘ رومیو: شاہد کپور کی شاندار اداکاری سے سجی ایک اورعمدہ فلم
کہانی میں نیا موڑ تب آتا ہے جب روشنی اور ششانک کی ملاقات ہوتی ہے۔ دو الگ انسان، اپنی اپنی کمزوریوں اور عدمِ تحفظ کے احساسات سے نبرد آزما۔ پہلی ملاقات میں ہی روشنی کو ششانک پسند آ جاتا ہے۔ مگر ششانک کا دل جیتنے کے لیے صرف نم آنکھیں، چہرے کی چمک اور معصوم ادائیں کافی نہیں۔ یہ دو دیوانے اب ایک شہر (جسے ششانک ’سہر‘کہتا ہے) میں کیا گل کھلاتے ہیں اور ان کی محبت کس سمت مڑتی ہے، یہ جاننے کے لیے فلم دیکھنا ضروری ہے۔
ہدایت کاری
روی اُدیاورکی ہدایت کاری میں بنی اور ابھیروچی چند کے اسکرین پلے اور مکالموں سے سجی یہ فلم رومانوی صنف کو کوئی نئی پہچان تو نہیں دیتی، مگر محبت کی تلاش میں ’اصلی رہنے‘کی اہمیت کو سچائی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ ممبئی کی بے چین اور افرا تفری سے بھری دنیا کے پس منظرمیں بنی یہ فلم تازگی اور سادگی کا احساس دلاتی ہے۔ ہماری ہائپر ایکٹو، سوشل میڈیا سے لبریز دنیا کا اس پر کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دیتا۔ اسکرین پلے میں نہ جلد بازی ہے، نہ ہڑبڑاہٹ اور نہ غیر ضروری ڈرامہ مگر جذبات کا وزن اتنا ضرور ہے کہ بات دل تک پہنچتی ہے۔
فلم اپنے کرداروں کے ذریعے روزمرہ زندگی کے اُن عام لوگوں کو پیش کرتی ہےجو کسی نہ کسی عدمِ تحفظ کے ساتھ جیتے ہیں۔ باہر سے معمولی دکھائی دینے والے یہ لوگ اندر گہری سوچ رکھتےہیں۔ ان کے بچپن کےکچھ واقعات اور تلخ تجربات ان کی شخصیت پر ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو کبھی مٹتے نہیں۔
اداکاری
اداکاری کے میدان میں مرنال ٹھاکر اور سدھانت چترویدی اپنےکرداروں کی کمزوریوں میں آسانی سے ڈھل جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کاشہری، پالشڈ اور فیشن ایبل انداز بعض اوقات کرداروں سے مکمل ہمدردی قائم کرنے میں رکاوٹ بنتاہے، مگر بطور مرکزی جوڑی ان کی کیمسٹری بتدریج اثر چھوڑتی ہے۔
کیوں دیکھیں؟
یہ فلم برسات کی ہلکی سیپھوار کی مانند ہےمیٹھی، نرم اور خاموش۔ یہ ان سچائیوں کو آہستگی سے سامنے لاتی ہے جنہیں آپ پہلے سے جانتے ہیں یعنی اپنے بارے میں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے بارےمیں۔ اس لحاظ سے سدھانت چترویدی اور مرنال ٹھاکر کی یہ پیشکش ایک بار ضرور دیکھی جا سکتی ہے۔