دہلی کے بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک اپوزیشن کے لیڈروں، کارکنان اور وکلاء نے جو مارچ کیا اُس کے تاریخی ہونے میں اُن لوگوں کو بھی شک نہیں ہوسکتا جو اپوزیشن مخالف ہیں اور نہیں چاہتے کہ کوئی بھی مارچ ہو، ریلی نکلے یا مظاہرہ کیا جائے۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 9:35 PM IST | Mumbai
دہلی کے بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک اپوزیشن کے لیڈروں، کارکنان اور وکلاء نے جو مارچ کیا اُس کے تاریخی ہونے میں اُن لوگوں کو بھی شک نہیں ہوسکتا جو اپوزیشن مخالف ہیں اور نہیں چاہتے کہ کوئی بھی مارچ ہو، ریلی نکلے یا مظاہرہ کیا جائے۔
دہلی کے بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک اپوزیشن کے لیڈروں، کارکنان اور وکلاء نے جو مارچ کیا اُس کے تاریخی ہونے میں اُن لوگوں کو بھی شک نہیں ہوسکتا جو اپوزیشن مخالف ہیں اور نہیں چاہتے کہ کوئی بھی مارچ ہو، ریلی نکلے یا مظاہرہ کیا جائے۔ اس مارچ کے غیر معمولی طور پر کامیاب ہونے کی توقع پولیس کو بھی نہ رہی ہوگی جس کے پاس پیشگی اطلاعات ہوتی ہیں۔ مارچ سے قبل منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ آج مَیں خود ہی صحافی بن کر آپ سب سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ میں کوئی ایسا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ مودی حکومت ٹھیک ہے۔ اس پر کسی بھی صحافی نے ہاتھ نہیں اُٹھایا۔ اس طرح، راہل نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ جنگ اپوزیشن بمقابلہ حکومت نہیں رہ گئی ہے بلکہ اس میں عوام بھی شامل ہیں۔ اسی لئے لیڈر آف اپوزیشن اِن لوک سبھا نے کہا کہ اگر آپ اس مارچ میں شریک نہیں ہوسکتے تو کوئی بات نہیں، آپ جہاں ہیں وہیں تھوڑی دیر کھڑے ہو جائیے اور دل میں، آئین کے ساتھ ہونے کا احساس جگائیے۔اس طرح جو دُور ہے اُسے بھی ذہنی و قلبی طور پراپوزیشن کی پوری تحریک سے جوڑنے کی کوشش راہل گاندھی نے کی۔ وہ اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ جو لوگ بظاہر ہمارے ساتھ نہیں ہیں وہ بھی در ِ پردہ ساتھ ہیں، ایس آئی آر کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں، پولیس کے جبر سے بدظن ہیں، اُنہیں بھی جمہوری اداروں کے بے اثر کئے جانے کا افسوس ہے اور کوئی مجبوری نہ ہوتی تو وہ اپوزیشن کے ساتھ یا نوجوانوں کے ساتھ ضرور نظر آتے۔
یہ بھی پڑھئے: مظاہرین کے دلوں میں رہے گا جنتر منتر
جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور حکومت پر انتخابی گڑبڑیوں کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے، راہل گاندھی کے تیور بھی مختلف ہوتے جارہے ہیں۔ وہ حکمراں طبقے کو نفسیاتی دباؤ میں لینے کا حربہ بھی آزما رہے ہیں۔ جیسے مذکورہ پریس کانفرنس میں اُنہوں نے کہا کہ ۲۰۰؍ سرکاری افسران اپوزیشن کے رابطے میں ہیں اور اندر کی خبروں سے واقف کرا رہے ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو اس طرح کہنے کی نہیں ہے جس طرح راہل کہہ رہے ہیں۔ اگر سچ ہے اور راہل اس کا برملا اظہار بھی کررہے ہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو نفسیاتی حربے میں تبدیل کرکے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب تک جو دباؤ اُن کی اپنی کاوشوں سے، اپوزیشن کی کوششوں سے اور طلبہ کی جدوجہد سے حکومت پر پڑا وہ ایسا نہیں ہے کہ حکومت اس کو نظر انداز کردے۔ سنیچر کو راہل نے اس دباؤ کو یہ کہتے ہوئے بیان کیا تھا کہ ’’ہم مودی، شاہ اور دیگر کے اطراف گھیرا تنگ کر رہے ہیں‘‘ اور گھیرا تنگ ہوتا دکھائی بھی دے رہا ہے۔ حکمراں طبقے کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ دھرمیندر کا استعفےٰلیا گیا تو گیانیش کا استعفےٰ بھی لیا جاسکتا ہے مگر ایک کے جانے سے فرق نہیں پڑتا تھا، دوسرے کے جانے سے سنگین مسائل پیدا ہونگے اسی لئے بڑی سے بڑی چنوتی سے نمٹ لینے والی حکومت مخمصے میں ہے۔
اس کے آگے اپوزیشن کا کنواں ہے اور پیچھے جین زی کی کھائی۔