Updated: October 13, 2026, 4:53 PM IST
| Mumbai
کیا چار دانگ عالم میں مشہور احتجاج گاہ (پروٹیسٹ سائٹ) کی حیثیت سے جنتر منتر کی تاریخی اہمیت بیک قلم مسترد کی جاسکتی ہے؟ حکمنامہ تو یہی جاری کیا گیا ہے۔دہلی پولیس نے پیر، ۱۲؍ اکتوبر کو اعلان کیا کہ وزارت داخلہ کی قائم کردہ ایک کمیٹی کی سفارش پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
جنتر منتر۔ تصویر: آئی این این
کیا چار دانگ عالم میں مشہور احتجاج گاہ (پروٹیسٹ سائٹ) کی حیثیت سے جنتر منتر کی تاریخی اہمیت بیک قلم مسترد کی جاسکتی ہے؟ حکمنامہ تو یہی جاری کیا گیا ہے۔دہلی پولیس نے پیر، ۱۲؍ اکتوبر کو اعلان کیا کہ وزارت داخلہ کی قائم کردہ ایک کمیٹی کی سفارش پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ جنتر منتر کے بدلے تین دیگر مقامات (رام لیلا میدان، بُراڑی گراؤنڈ اور سی بی ڈی گراؤنڈ) کے نام دیئے گئے ہیں جنہیں باقاعدہ اور نامزد احتجاج و مظاہرہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب دہائیوں سے جنتر منتر کی شناخت باقاعدہ اور نامزد احتجاج گاہ کی ہے اور یہاں تواتر کے ساتھ احتجاج اور مظاہرے ہوتے رہے ہیں تو اب یہ تبدیلی کیوں کی گئی؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت احتجاج اور مظاہروں سے پریشان ہے اور اسی باعث نہیں چاہتی کہ عوام کے احتجاج کی جگہ ایوانِ اقتدار کے اتنا قریب ہو؟ حالیہ مظاہروں کے دوران جب پولیس اور نیم فوجی دستوں نے جنتر منتر جانے کے تمام راستوں کو مسدود کردیا تب مظاہرین میں عمر دراز لوگوں سے لے کر جین زی کے افراد تک، سب نے ایک ہی بات کہی تھی کہ جنتر منتر باقاعدہ نامزد کی گئی احتجاج کی جگہ ہے تو وہاں سے ہٹانے اور وہاں پہنچنے کے راستے روکنے کی کیا ضرورت ہے۔ ممکن ہے بار بار کہی گئی اس بات ہی کا نوٹس لے کر اہل اقتدار نے سوچا ہو کہ اس میدان کی پروٹیسٹ سائٹ کی حیثیت ہی ختم کردی جائے تاکہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ جب احتجاج جمہوری حق ہے تو اس کیلئے یہ کیسے طے کیا جاسکتا ہے کہ یہاں نہیں وہاں احتجاج کیجئے؟ ایک شہری جب جہاں جس بات پر محسوس کرتا ہے کہ اس کا حق چھینا جارہا ہے وہ اسی جگہ پر احتجاج کرنے لگتا ہے۔ اگر اس سے کہا جائے کہ یہاں مت احتجاج کیجئے تو کیا وہ مان لے گا؟ چونکہ جنتر منتر قلب ِ دہلی میں واقع ہے اس لئے وہ لوگ جو مظاہرہ میں شریک ہونا چاہتے ہیں اُن کیلئے جنتر منتر پہنچنا آسان ہوتا ہے۔ بیرونِ شہر کے عوام کیلئے بھی یہ بہت آسان اور معروف ایڈریس ہے۔ اسی لئے اِس میدان نے اتنی شہرت حاصل کرلی۔ اگر اس کیلئے ٹریفک کا جواز پیش کیا جاتا ہے تو یہ سوال بے جا نہ ہوگا کہ کیا سابقہ حکومتوں کے دور میں جنتر منتر پر احتجاج نہیں ہوئے؟ کیا اُس وقت ٹریفک کی دشواری نہیں ہوتی تھی؟ انا ہزارے کی قیادت میں شروع ہونے والا وہ آندولن جو مہینوں جاری رہا، جنتر منتر ہی پر پانچ روزہ انشن کے ذریعہ شروع ہوا تھا۔ اس سے قبل ۱۹۹۳ء میں اُس وقت کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ۳۳؍تنظیموں نے اسی جنتر منتر پر جیل بھرو آندولن شروع کیا تھا۔ نیٹ کے خلاف سی جے پی کا ۲۳۔۲۴؍ روزہ دھرنا اور بھوک ہڑتال کا مقام جنتر منتر ہی تھا۔ خاتون پہلوان بھی یہاں پر احتجاج کررہی تھیں۔ اب اس کے بجائے جو تین مقامات نشان زد کئے گئے وہ کئی کلومیٹر دور ہیں اس لئے مظاہرین کا وہاں پہنچنا مشکل ہوگا۔ وزارت داخلہ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ احتجاج جمہوری حق ہے تو کی راہ اتنی مشکل کیوں ہو۔ n