امیروں کی لو‘ٹ مار

Updated: January 20, 2022, 2:31 PM IST | Agency | Mumbai

آکسفیم، جو ۲۱؍ فلاحی اداروں کا اتحاد ہے، اپنی خدمات کے ذریعہ نام کمانے اور شناخت بنانے والا برطانوی ادارہ ہے جو ہر سال اپنی رپورٹ پیش کرکے دُنیا کو بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر وہ ممالک جن کا شمار دولت مند اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آکسفیم، جو ۲۱؍ فلاحی اداروں کا اتحاد ہے، اپنی خدمات کے ذریعہ نام کمانے اور شناخت بنانے والا برطانوی ادارہ ہے جو ہر سال اپنی رپورٹ پیش کرکے دُنیا کو بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر وہ ممالک جن کا شمار دولت مند اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے دُنیا سے غربت کے خاتمے کی ’جدوجہد‘ میں سنجیدہ اور مخلص نہیں ہوں گے تو غربت کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوجائیگا۔ آکسفیم کی تازہ رپورٹ کہتی ہے کہ پوری دُنیا میں غربت زدہ آبادیوں کے جو حالات پہلے تھے، اب ویسے بھی نہیں رہ گئے ہیں بلکہ کورونا کی وباء نے معاشی عدم مساوات کو تشویشناک حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ پوری دُنیا میں ۹۹؍ فیصد لوگوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے مگر ایک فیصد لوگوں کے وارے نیارے ہوئے ہیں۔ اس دوران کم و بیش ۱۶۰؍ ملین (۱۶؍ کروڑ) نئے غریب پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، آبادی کے بہت بڑے حصے کی آمدنی کا متاثر ہونا تو افسوسناک ہے ہی، اُن لوگوں کی دولت میں غیر معمولی اضافہ بھی چونکانے والا ہے جو پہلے ہی بہت امیر تھے۔  یہ نئے طرز کی سرمایہ داری ہے جو ترقی اور خوشحالی کا خواب دکھا کر لو‘ٹ مار مچائے ہوئے ہے۔ حکومتیں خواہ وہ کسی پارٹی اور اتحاد کی ہوں، اُمراء ہی کے اشاروں پر ناچتی ہیں اور ہمدردی کے باوجود غرباء کی جڑیں کاٹنے میں مصروف رہتی ہیں۔ امیروں کے مزید امیر اور غریبوں کے مزید غریب ہونے کے جس رُجحان پر آکسفیم نے توجہ مبذول کرائی ہے، کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ گزشتہ رُبع صدی کی صورتحال یہ ہے کہ دُنیا کے ایک فیصد لوگ، جو امیر ہیں، پہلے کے مقابلے میں دُنیا کی ۲۰؍ گنا زیادہ دولت پر قابض ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ غریب غیر محسوس طریقے پر غریب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے وسائل کے چھن جانے اور محرومیوں میں اضافے کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے مگر چونکہ بڑھتی غربت کے باعث اُس کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے اس لئے وہ مبتلا ہی رہتا ہے، اپنا احتجاج درج نہیں کرپاتا۔  اس کے باوجود ماضی قریب میں ایسی تحریکات جاری ہوئی ہیں جن کے ذریعہ غریب اپنے حالات کو اُجاگر کرسکے اور اپنی برہمی کا اظہار کرسکے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ اور دولت مند ملک میں ۲۰۱۱ء میں جاری ہونے والی ’’وی آر دی ۹۹‘‘ (ہم ۹۹؍ فیصد ہیں) مہم اسی سلسلے کی کڑی تھی جو ’’آکوپائی وال اسٹریٹ موومنٹ‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ اس کا نام ہی مقصد کی تفہیم کیلئے کافی تھا کہ قومی وسائل پر سرمایہ دار طبقے (ایک فیصد) کی اجارہ داری ختم ہو اور بقیہ آبادی (۹۹؍ فیصد) کو اُس کا حصہ ملے۔ یہ احتجاج نیویارک تک محدود نہ رہ کر امریکہ کے دیگر شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ اس کے اثرات دیگر ملکوں تک میں دکھائی دیئے تھے۔  مگر، ہر دور اور ملک کی ایک ہی داستان ہے کہ جب بھی کوئی گروہ اپنا حق مانگنے کیلئے نمودار ہوتا ہے اُس کی بات سننے کے بجائے اُس سے دشمن جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ امیروں کے ذریعہ آبادی کے دیگر طبقات کا استحصال اسی لئے جاری رہتا ہے جس میں حکومتیں بھرپور معاون کا کردار نبھاتی ہیں۔ وکٹر ہیوگو نے دل کو چھو‘لینے والی بات کہی تھی کہ امیروں کی جنت، غریبوں کے جہنم سے بنتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ امیروں کی امارت بڑھتی ہے تو غریبوں سے جھوٹی ہمدردی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ کم از کم یہ بے شرمی تو نہیں ہونی چاہئے۔ 

covid-19 Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK