اقبالؔ پر ایک مختصرمضمون میرے لکھنےکی وجہ بن گیا

Updated: January 23, 2023, 12:05 PM IST | Mubasher Akbar | Mumbai

نوجوان افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل ایسی کہانیاں لکھنا چاہتے ہیں جو دلچسپ ہوں ، تفریح سے بھرپور ہوں لیکن سماجی پیغام بھی رکھتی ہوں، پیش ہے انٹر ویو سیریز کی پانچویں قسط

Young fiction writer Muhammad Aleem Ismail
نوجوان افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل

ادب نما پرنئے سلسلے کے تحت ہم ۱۰؍ نوجوان ادباء و شعراء سے گفتگو اپنے قارئین تک پہنچارہے ہیں۔ اس سلسلے کی پانچویں قسط کے تحت ہم نوجوان  افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل سے گفتگو آپ تک پہنچائیں گے ۔ علیم اسماعیل کا تعلق خطہ ودربھ کے ضلع بلڈانہ کے  قصبے  ناندورہ سے ہے۔ وہ  بلڈانہ ضلع کے محکمہ تعلیم میں برسرروزگار ہیں۔ علیم اسماعیل نے حال ہی میں لکھنا شروع کیا ہے لیکن اِن چند برسوں میں انہوں نے اپنی شناخت ایک ابھرتے ہوئے اور باصلاحیت نوجوان افسانہ نگار کی بنالی ہے۔ ان کے افسانوں میں ترقی پسندی کے ساتھ ساتھ جدیدیت کا امتزاج بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ انہوں نے قصبہ ناندورہ کو ملک کے ادبی افق پر شناخت دلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ شہر میں گزشتہ چند برسوں میں تواتر کے ساتھ منعقد ہونے والی مختلف ادبی محفلیں اور ادباء و شعرا کے اعزاز میں منعقد کی جانی والی نشستیں جن  کے انعقاد میں علیم اسماعیل کا اہم رول ہوتا ہے، اس کا ثبوت ہیں۔ انہوںنے افسانوں کے علاوہ افسانچہ نگاری پر بھی توجہ مرکوز کی ہے اور ساتھ ہی فکشن کی تنقید پر بھی دھیان دے رہے ہیں۔ علیم اسماعیل کی  اب تک تین کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں الجھن(افسانے اورافسانچے)، رنجش(افسانے) اور تنقید پر مبنی کتاب’افسانچے کا فن‘ شامل ہیں جبکہ ان کی چند کتابیں زیر طبع ہیں۔ پیش ہے ان سے گفتگو
 آپ نے لکھنا کب سے شروع کیا؟ 
شروعات میں لکھتے وقت کیا دقتیں آئیں؟
    یہ تو یاد نہیں البتہ پہلی تحریر ۲۰۱۳ء کے آس پاس شائع ہوئی تھی اور غالباً وہیں سے لکھنے لکھانے کی شروعات ہوئی۔ اسی سال  شاعر مشرق علامہ اقبال کی حیات پر ایک کتاب پڑھی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ وہ کتاب میں نے اکولہ ریلوے اسٹیشن کے بک اسٹال سے خریدی تھی۔کتاب پڑھنے کے بعد میں نے علامہ اقبال پر ایک مختصر سا مضمون لکھا  جوایک روزنامہ میں شائع ہوا تھا۔ اس سے مجھے کافی حوصلہ ملا بلکہ اس مضمون کی اشاعت ہی میرے لکھنے کا سبب بن گئی ۔ اس کے بعد میں بچوں کیلئے کہانیاں لکھنے لگا جو اخبارات کی زینت بنتی رہیں اور غالباً ۲۰۱۶ء  سے افسانہ نگاری کی جانب راغب ہوا۔ 
لکھنے کے  لئے افسانہ ہی کیوں منتخب کیا؟
 بچپن سے ہی کہانیاں سننے سنانے کا شوق رہا۔ بچپن میں میں اپنی دادی سے روز ایک کہانی سنتا اور باہر جاکر وہی کہانی دوستوں کو سناتا تھا۔ کہانی سننا، سنانا ہر انسان کی فطری اور نفسیاتی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں میں وارث علوی کے خیالات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہندوستان صدیوں سے کہانی کا گہوارہ اور کتھاؤں کا ساگر رہا ہے۔ ہم کسی ایسی تہذیب کا تصور نہیں کر سکتے جو کہانیوں کے سرمایہ سے محروم ہو اور رہی منتخب کرنے والی بات تو میں محسوس کرتا ہوں کہ لکھنے کیلئے میں نے افسانے کو نہیں بلکہ افسانے میں مجھے منتخب کیا ہے۔
 افسانے میں پلاٹ کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟
 افسانے میں پلاٹ کی اہمیت سے انکار نہیں۔ پہلے یہ بہت اہم ہوا کرتا تھا لیکن شعور کی رو کی تکنیک کے بعد اس کی اہمیت ضمنی ہو گئی ہے۔ افسانے میں اب واقعات کو ترتیب سے بیان کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ بکھرے ہوئے واقعات آخر میں خود بخود یکجا ہو کر کہانی کو مکمل کر دیتے ہیں اور یہ عمل قاری کے ذہن میں بغیر کسی شعوری کوشش کے ہو جاتا ہے۔ ابھی تک جو تحریر صرف ایک جذباتی بیان لگ رہی تھی آخر میں کہانی کا روپ لے لیتی ہے۔ دراصل افسانے میں فضا کی بے ترتیبی اکثر فن کا لطیف پہلوبن جاتی ہے۔
 بطور قلمکار مطالعہ کی اہمیت پر روشنی ڈالیں
 مطالعہ روح کی غذا ہے۔ اس سے انسان کی تحریر و تقریر میں نکھار آتا ہے۔ ساتھ ہی اس کی شخصیت میں ٹھہرائو بھی پیدا ہو تا ہے۔ مطالعہ سے دنیا جہاں کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہے لیکن  آج کے دور میں مطالعہ کتابوں کے ساتھ ساتھ موبائل فونز کے اسکرین پر بھی ہو رہا ہے۔ غرض ہم یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ مطالعہ کے بغیر لکھنا یا اپنی بات احسن طریقے سے کہہ پانا مشکل ہے۔  
 آپ اپنے تخلیقی شعبے میں
 کسے اپنا آئیڈیل مانتے ہیں؟ 
 ایسے بہت سے افسانہ نگار ہیں جن کی کچھ کہانیاں مجھے پسند ہیں لیکن سلام بن رزاق موجودہ دور کے ایسے قلمکار ہیں  جن کے قلم نے ہم جیسے نو آموز قلمکاروں کو بہتر سے بہتر لکھنے کی ترغیب دی ہے ۔ ان کے افسانوں اپنے آپ میں ایک دستاویز ہیں۔ صرف انہیں بغور پڑھ لیا جائے تو بھی آپ موضوع کے انتخاب اور اسے برتنے کی تکنیک سے واقف ہو جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ میں انہیں اپنا آئیڈیل تصور کرتا ہوں۔ رہی بات افسانچہ نگاری کی تو ڈاکٹر ایم اے حق سے میں تحریک لیتا ہوں کیونکہ ان کے افسانچوں میں افسانچہ نگاری کے تمام فنی لوازمات بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔
  بنیادی طور پر آپ کے لکھنے کا مقصد کیا ہے؟
 پہلے پہل میں نے شوق کی خاطر لکھا۔ شروعات میں لکھنے کا مقصد محض تفریح تھا۔ پذیرائی ہوئی اور میں لکھتا چلا گیا۔ پھر دھیرے دھیرے سماجی مسائل کو پیش کرنے لگا لیکن تفریح کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ میں ایسی کہانیاں لکھنا چاہتا ہوں جو دلچسپ ہوں، حقیقت سے قریب ہوں اور مسائل کو اجاگر کرتی ہوں۔دوسری بات یہ ہے کہ میں جو محسوس کرتا ہوں، اس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں ۔ اس کے لئے افسانہ لکھتا ہوں جو مجھے حقیقت سے بالکل قریب پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔ 
کیا آپ اپنی افسانہ نگاری سے مطمئن ہیں؟
 میں جو بھی لکھتا ہوں پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد ہی اسے اشاعت کیلئے روانہ کرتا ہوں۔ لیکن جب میں اپنی کوئی پرانی تحریر پڑھتا ہوں تو اس میں ترمیم کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ فن ارتقاء کی کئی منزلوں سے گزرتا ہے۔ انسان سیدھے فن کی معراج پر پہنچ نہیں جاتا۔ آخری منزل تک پہنچنے کا سفر پہلی سیڑھی سے شروع ہوتا ہے۔ اس لئے  اگرآج کی بات کی جائے تو میں جو بھی لکھ رہا ہوں اس سےموجودہ لمحہ میں مطمئن ہوں۔ 
 کیا ادب میں جونیئر ہونے کی وجہ سے 
آپ کو پیر جمانے میں دشواری ہوتی ہے؟
 نہیں... بالکل بھی نہیں۔ ہمارے سینئرس نہایت مخلص اور ہمت افزائی کرنے والے ہیں۔ میں سوشل میڈیا اور موبائل کے توسط سے سلام بن رزاق، نورالحسنین، محمد بشیر مالیر کوٹلوی، پروفیسر طارق چھتاری، سید محمد اشرف، غضنفر، مشتاق احمد نوری، نذیر فتح پوری، ڈاکٹر عظیم راہی، پروفیسر اسلم جمشید پوری، ایم مبین، معین الدین عثمانی اور دیگر کئی سینئرس کے رابطے میں رہتا ہوں۔ سبھی  بہت  ہمت افزائی کرتے ہیں اور اچھا لکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے دعائوں سے نوازتے ہیں۔ 
آپ کے نزدیک ادب کیا ہے؟ اور کیا آج کی 
تیز رفتار زندگی میں انسان کو ادب کی ضرورت ہے؟
 ادب زندگی کا عکس ہے، زندگی کی تنقید ہے۔ ادب کو تنقید حیات بھی کہا جاتا ہے اور میں اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ انسان کو آج بھی ادب کی ضرورت ہے۔ جبکہ آج ہر کوئی وقت کی کمی کا رونا رو رہا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں آج بھی انسان ادب سے محظوظ ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی شعوری طور پر اس سے لطف اٹھاتا ہے تو کوئی غیر شعوری طور پر۔
 عصری ادبی منظر نامے میں
شاعر و ادیب کا کردار بیان کیجیے
 عصری ادبی منظرنامے میں شاعر و ادیب کا کردار بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ادب اخلاق کی تعلیم دیتا ہے تو انبساط کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ ادب سوئے ہوئے جذبات کو جگانے کا کام بھی کرتا ہے اور اس عمل میں شاعر و ادیب مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ شاعر و ادیب سماج کا ضمیر ہوتا ہے جو اسے وقتاً فوقتاً جگانے کے ساتھ ساتھ جھنجھوڑنے کا کام بھی کرتا ہے اس لئے کسی بھی مطلق العنان حکومت میں سب سے پہلا نشانہ شاعر و ادیب ہی ہوتے ہیں۔ ان باتوں سے ان کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔
کیا آپ متفق ہیں کہ عصری افسانہ کا معیار کم ہو رہا ہے؟ اگر ہاں تو چند ایک وجوہات مختصراً بتائیں
 ہر دور میں اچھی، کمزور اور  شاہکارکہانیاں لکھی گئیں اور آج بھی لکھی جا رہی ہیں۔ کوئی دور ایسا نہیں گزرا کہ جس میں تخلیق ہونے والی سبھی کہانیاں شاہکار رہی ہوں اورایک قلم کار کی سبھی تخلیقات بھی یکساں نہیں ہوتیں۔ ’’اچھی کہانیاں تخلیق نہیں ہو رہی ہیں‘‘  یہ جملہ ہر دور میں سننے کو ملتا ہے اور اوپر بیان کی گئی وجوہات اس کا  سیدھاسا جواب ہیں۔ 
 نئے قارئین پیدا ہوں اس کے  لئے
 آپ کیا کرنا چاہیں گے؟
 میں چاہوں گا کہ مختصر لیکن پُراثر کہانیاں لکھوں، بیانیہ اور عام فہم استعاراتی اسلوب میں لکھوں جس کی زبان سادہ سلیس ہو تاکہ عام قارئین بھی اسے باآسانی پڑھ سکیں اور سمجھ سکیں۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لوگ موبائل  کے اسکرین پر کہانیاں پڑھتے ہیں۔ کہانی مختصر ہو تو قارئین پڑھ لیتے ہیں اور طویل ہو تو ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے میں قارئین کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ ضروری ہے کہ ہم ان کے ذوق اور شوق کو دھیان میں رکھتے ہوئے اپنی تخلیقات پیش کریں۔ اس طریقے کو اپنائے بغیر ہم نئے قارئین نہیں لاسکیں گے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK