انور خان نے ہمارے اطراف میں بکھرے چھوٹے چھوٹے واقعات سے کہانیاں بُنیں اور زندگی کے انہی چھوٹے چھوٹے واقعات کو بڑی بڑی حقیقتوں کے انکشاف کا وسیلہ بنایا، گزشتہ ہفتے اس کالم میں قارئین نے نظام الدین نظام کے بارے میں پڑھا ، یہ دوسری قسط ہے
EPAPER
Updated: April 10, 2023, 2:08 PM IST | Dr. Qamar Siddiqui | Mumbai
انور خان نے ہمارے اطراف میں بکھرے چھوٹے چھوٹے واقعات سے کہانیاں بُنیں اور زندگی کے انہی چھوٹے چھوٹے واقعات کو بڑی بڑی حقیقتوں کے انکشاف کا وسیلہ بنایا، گزشتہ ہفتے اس کالم میں قارئین نے نظام الدین نظام کے بارے میں پڑھا ، یہ دوسری قسط ہے
ممبئی کے افسانہ نگاروں کا مجموعی رویہ جدیدیت سے ہم آہنگی کے ساتھ حقیقت پسندانہ اسلوب سے رغبت کا رہا ہے۔ انور خان ان میں سب سے نمایاں ہیں۔ان کا افسانہ ’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘ بہت مشہور ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ’جب بوڑھا فریم سے نکل گیا‘ ، ’فنکاری‘، ’ کتاب دار کا خواب‘ ، ’یاد بسیرے‘ اور ’فرار‘ جیسے افسانے ان کے شاندار تخلیقی سفر کا اشاریہ ہیں۔ انور خان کے افسانوں کا بنیادی رویہ علامتی ہے اور ابہام کا خلاقانہ استعمال افسانوں کی معنوی تہوں کو مجلا کرتا ہے۔ وارث علوی نے انور خان کی اس فنّی خاصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ’’انور خان کے تمثیلی افسانوں میں ’جب بوڑھا فریم سے نکل گیا‘ اور ’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘ نہایت کامیاب افسانے ہیں۔ بوڑھا خدا کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اخلاقی روایت کی بھی، ضمیر کی بھی۔ ‘‘
انور خان کے تین افسانوی مجموعے ’راستے اور کھڑکیاں‘ ، ’فنکاری‘ اور ’یاد بسیرے‘ شائع ہوئے ۔ا ن مجموعوں کی بیشتر سرگزشت کھوئے ہوئوں کی جستجو پر مشتمل ہے۔ یہ افسانے ہماری سماجی اور ثقافتی زندگی کے فریم سے باہر کرد ئیے گئے انسان اور انسانی قدروں کا بیانیہ ہیں۔ ان افسانوں میں ممبئی کا ماحول، یہاں کی زندگی، یہاں کے لوگوں کے طور طریقے اور مزاج و عادات کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ فلم ، ٹی وی اور دیگر تفریحی و تشہیری ذرائع کی مدد سے ممبئی کا جونقشہ مرتب ہوتا ہے وہ خاصا محدود ہے۔ چاندنی بکھیرتے چاند چہروں سے منور جگ مگ کرتا یہ شہر دراصل شہر نہیں شہر کے وہ امیجیز ہیںجنہیں فلم اور ٹی وی اسکرین کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ اصل شہر تو انور خان کے افسانوں میں نظر آتا ہے۔ افسانہ ’شام رنگ‘ میں انسانوں کی بھیڑ چیونٹیوں کی قطار کی طرح گلیوں اور سڑکوں پر وقت اور ضرورت کے مردہ جھینگر کو سوت سوت سرکاتی نظر آتی ہے۔ اسی طرح افسانہ ’صدائوں سے بنا آدمی‘ میں انور خان زندگی کی تمام تر سفاکیوں کو فنی چابکدستی کے ساتھ پیش کرکے بتاتے ہیں کہ جو آدمی ایک دن میں کروڑپتی بنتا ہے وہ ایک ہی دن میں فقیر بھی بن سکتا ہے۔
انور خان کا افسانہ ’فنکاری‘جسے باقر مہدی نے’ سرکیولر‘ کہانی قراردیا ہے لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ یہی’سرکیولاریٹی‘ اس کہانی کا حسن ہے۔ہر بار ہوٹل والاشیٹی ،چائے کے داموں میں اضافہ کردیتا ہے۔ہربار ہوٹل کے گاہکوں میں برہمی پیدا ہوتی ہے اور ہر بار تھوڑی جدوجہد اور احتجاج کے بعد سب خاموش ہوجاتےہیں۔یہ کسی ایک شہر ،ایک قصبہ یا ایک ملک کی بات نہیں ہے بلکہ پوری تیسری دنیا کا منظر نامہ ہے۔باقر صاحب نے اس کہانی پر گفتگو کرتے ہوئے آگے لکھا ہے کہ یہ ہندی فلموں کا خاص موضوع رہا ہے لہٰذا فلمی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ کیا زندگی کی بھی اپنی لوکیشن نہیںہوتی؟جس کی مناسبت سے ہمارے واسطے اور وسیلے ، رہائش کے طور طریقے ،رہن سہن کے آداب،وقت گزاری کے مشاغل ،دیگر دلچسپیاں اور مواقعے ،ساتھ بیٹھنے والے حلقۂ احباب اور نہ جانے کون کون سی چیزوں کے دائرہ کار کا انتخاب اور تعین ہوتا ہے۔افسانہ ’فنکاری‘ احتجاج کا افسانہ ہے اور اس کا کردار استحصال کے خلاف آواز بلند کرتا ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کی لذت بغاوت کی آگ کو ماند کردیتی ہے۔ افسانہ نگار یہ بتانے میں کامیاب ہے کہ احتجاج کس طرح نمائش کی چیز بن جاتا ہے۔ صارفیت اور اشتہاریت کس درجہ سماج پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔
انور خان نے اپنے افسانوں میں بیانیہ کے مختلف طریقوں کو کامیابی سے برتا ہے۔ شروعات کے افسانوں میں بیانیہ کا Diegetic انداز حاوی ہے اور یہی انداز انور خان کی شناخت بھی بنا مثلاً’ کوئوں سے ڈھکا آسمان‘میں واقعہ نگاری کا اسلوب ہی افسانے کی روح ہے۔ پورے افسانے میں آواز ہی آواز ہے،اپنے پورے وجود کے ساتھ ۔یخ بستہ رات،پہلاآدمی ، دوسرا آدمی، تیسرا اور چوتھاآدمی ،گلابی صبح ،ہنستا بچہ،شرماتی لڑکی، پھونس کا مکان،مٹھی بھر چاول،مچھلی کا شوربہ، روئی کی دلائی، کوّوں سے ڈھکا آسمان اور کہانی کے آخر میں کارپوریشن کی گاڑی، سڑک کا موڑ، شدید سردی کے باعث برہنہ اکڑے ہوئے چند جسم، ان کا گاڑی میں لادے جانا اور گاڑی کا چل دینا....یعنی کہانی اندر کہانی ۔انور خان ایسے ہی قصہ گو تھے۔انور خان کے یہاں بیانیہ کا Mimeticاسلوب جس میں کہانی پر ڈرامائیت غالب ہوتی ہے بھی ملتا ہے ۔اس نوع کے افسانوں میں ’شام رنگ‘، صدائوں سے بنا آدمی‘، ’ لمحوں کی موت‘ ، ’بول بچن‘ اور کسی حد تک ’فنکاری ‘ کوبھی شمار کیا جاسکتا ہے۔ افسانہ ’’ برف باری‘‘ بیانیہ کے داخلی خود کلامی اسلوب کا عکاس ہے۔ تقریباً آدھا افسانہ راست بیانیہ انداز میں تحریر کیا گیا ہے باقی آدھا افسانہ داخلی خود کلامی کے اسلوب میں۔ ایک ہی افسانے میں دو تکنیکوں کا ادغام افسانے کی ترتیب و ترسیل دونوں کے لئے چیلنج ہوتا ہے۔ یہاں فن پر اپنی دسترس کی وجہ سے انور خان اس رہِ حاجر و حاجز پر سبک روی سے گزر گئے ہیں۔
ادب کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق تحریروں کا مطالعہ انور خان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا تخلیقی کینواس بھی خاصا وسیع ہے۔ روز مرہ کی زندگی ، جبر و استحصال ، ہماری ظاہری وباطنی دنیا ، انور خان کے افسانوں کی یہی رنگا رنگی انہیں معاصر افسانہ میں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے۔ ان تمام رنگوں میں ایک رنگ صوفیانہ افکار و خیالات کا بھی ہے۔ تلاش و جستجو کے اس جذبے نے انورخان سے تصوف کے موضوع پر بھی افسانے لکھوائے۔ اس ضمن میں افسانہ ’’چھاپ تلک‘‘ بہت اہم ہے۔ اس میں افسانہ نگار نے تصوف کی ظاہری علامات مثلاً درگاہ، پیر و مرشد، محفلِ سماع وغیرہ کے مناظر پیش کرتے ہوئے تصوف کی تعلیمات کا مثبت پیرائے میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح افسانہ ’بلاوہ‘ میں انہوں نے فنا و بقا کے مسئلے کے علاوہ مابعد الطبیعاتی حقیقتوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ انور خان نے افسانہ ’بلاوہ‘ میں کمالِ فن سے مختلف تہذیبوں میں رائج فنا کے بیانیوں کی تشکیلِ نو کی ہے۔ اس زاویے سے دیکھیں تو یہ افسانہ بین المطونیت کی بھی ایک عمدہ مثال بن جاتا ہے۔ اس نہج کے دیگر افسانوں میں ’بھیڑیں‘ اور ’عرفان‘ وغیرہ کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ البتہ افسانہ ’کمپیوٹر‘ میں انور خان نے گوکہ وجود ، عدم ، خالقِ کائنات جیسے صوفیانہ/بھکتی افکار کو ہی موضوع بنایا ہےلیکن اس افسانے کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ہماری روایتی بصیرتوں کے ساتھ ساتھ علومِ جدیدیہ خصوصاً سائنسی بصیرتوں کی آمیزش اور انسان اور مشین کے ربط سے پیدا ہونے والی کارکردگی کو اجاگر کرکے ایک نئی طرح کی دنیا کو ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔ یہ افسانہ سائنس فکشن نہیں بلکہ یہ جدید دنیا کی نئی بوطیقا ہے جس میں مشین کے ذریعے قادرِ مطلق تک رسائی کو درشانے کی سعی کی گئی ہے۔
انور خان نے بیانیہ میں ’منظری‘ اور’ غیر منظری‘ دونوں طریقوں کا استعمال کیا کیاہے۔ کرداروں کے بجائے واقعات کو اہمیت دیتے ہوئے انہوں نے اپنے کئی کامیاب افسانے منظری اسلوب میں تحریر کئے۔مثلاً ’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘، ’ صدائوں سے بنا آدمی، ’ شکستگی‘ اور’ سیاہ و سفید‘ وغیرہ ۔ زبان کا معروضی استعمال اور ڈسکورس کے دوران سوال قائم کرنے کا انداز انورخان کے بیانیہ کو پرکشش بناتا ہے۔ سوالات قائم کرنے کا یہ حوصلہ انور خان کی اصل طاقت ہے اور ان کے فنی رویے کی مخصوص پہچان بھی۔ان کے افسانوں میں استفہامی انداز کے علاوہ متن میں موجود صورتِ حال کے نتیجے میں بھی سوالات قائم ہوتے ہیں۔ یہ سوال اساس بیانیہ افسانوں میں معنی کی تکثیریت کو انگیز کرتا ہے۔ انور خان کے یہاں حقیقت نگاری، سادہ اور تاثراتی بیانیہ کے افسانوں کے علاوہ بیانیہ کے حوالے سے قدرے مشکل تمثیلی اور ایک سے زیادہ راویوں کی مدد سے بیانیہ تشکیل دینے کی تکنیکوں کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ افسانہ ’’ہوا‘‘ اس کی اچھی مثال ہے۔
انور خان کے افسانوں میں تکنیک کے تجربات بھی ملتے ہیں۔ اس تعلق سے ان کے کئی افسانوں پر گفتگو کی جاسکتی ہے۔ ’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘ میں انہوں نے کٹ اپ کی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ کٹ اپ تکنیک میں پہلے جملے کے اختتام سے دوسرے جملے کو شروع کیا جاتا ہے۔ اس سے بیان میں شدت اور تاثر میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ افسانہ ’کتاب دار کا خواب‘‘ میں منظر کو ساکن کردینے والی تکنیک کا استعمال کیا گیاہے۔ افسانے میں کسی فلم کی طرح انور خان بہتیرے مناظر کو ہماری آنکھوں کے سامنے بالکل ساکن کردیتے ہیں۔ تکنیک کے تجربے کے اعتبار سے دیگر افسانوں میں ہوا، برف باری، نرسری، اپنائیت ، گونج، بول بچن اور میونسپل پارک کا ذکر بھی ضروری ہے۔ خاص طور سے ’’میونسپل پارک‘‘اس میں تو ایک جہان دگر آباد ہے۔افسانہ ’بول بچن‘ کو موضوعی سطح پر ایک عام سا افسانہ گردانا گیا ہے تاہم اس افسانے میں ممبئی کی علاقائی زبان کے الفاظ کااستعمال ہمیں منٹو کا افسانہ ’ممد بھائی‘ کی یاد دلاتا ہے۔انور خان انسانی نفسیات کے پارکھ تھے اور انہوں نے اپنے افسانوں میں اس کا بخوبی اظہار بھی کیا ہے ۔انہوں نے ہمارے اطراف و اکناف میں بکھرے چھوٹے چھوٹے واقعات سے کہانیاں بُنیں اور زندگی کے انھیںچھوٹے چھوٹے واقعات کو بڑی بڑی حقیقتوں کے انکشاف کا وسیلہ بنایا ۔