• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

حکومت کی ترجیحات میں کیاعوام بھی ہیں؟

Updated: November 26, 2023, 4:31 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

اُترکاشی میں ۴۱؍مزدور۱۵؍ دنوں سے ایک سرنگ میں محصور ہیں، لیکن ہمارے وزیراعظم وہاں جانے ، ان کی ڈھارس بندھانے اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کے بجائے میچ دیکھ رہے ہیں اور انتخابی ریلیاں کررہے ہیں۔ منی پور کے تعلق سے بھی ان کا یہی رویہ رہا۔

41 families of the country are in a state of death and the Prime Minister is busy in election rallies. Photo: INN
ملک کے ۴۱؍ خاندانوں میں موت جیسی کیفیت طاری ہے اور وزیراعظم انتخابی ریلیوں میں مصروف ہیں۔ تصویر : آئی این این

دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر گیا،اتراکھنڈ کے اُتر کاشی میں زیرتعمیر ایک سرنگ میں ملک کے۴۱؍ غریب مزدور زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔پورا ملک وہاں سے اُن کے بخیر نکل جانے کی تمنائیں کررہا ہے۔ اپنے اپنے طور پر اُن کیلئے اجتماعی اور انفرادی دعائیں کی جارہی ہیں ، لوگ مرکزی اور ریاستی حکومت کی طرف پُرامید نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ سرنگ میں محصور مزدوروں کے اہل خانہ نےروتے اور بلکتے ہوئے وزیراعظم سے فریاد کی ہے۔ جلد از جلد ان تمام کو باہر نکالنے کی وہ اپیل کررہے ہیں ۔لیکن ملک کی ۱۴۰؍ کروڑ کی آبادی کو ’ہمارا پریوار‘ کہنے والے وزیراعظم نریندر مودی انتخابی ریلیوں میں مصروف ہیں ۔ درمیان میں وقت ملا تو کرکٹ میچ دیکھنے پہنچ گئے اور انتخابی مہم ختم ہوئی تو متھرا میں ’میرا بائی جنموتسو‘ منانے چلے گئے۔ 
 ایسا نہیں ہے کہ اُترکاشی کی سرنگ میں محصور مزدوروں کو نکالنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے۔ انتظامی سطح پر جتنی بھی کوششیں ہوسکتی تھیں ، وہ ہو رہی ہیں ۔ حکومت نے اس کام کیلئے بیرون ملک کے ماہرین سے بھی مدد طلب کی ہے اور اس سلسلے میں خاصی پیش رفت بھی ہوچکی ہے۔بہت ممکن ہے کہ جس وقت آپ ان سطور کو پڑھ رہے ہوں ، وہ سب وہاں سے بخیر و عافیت باہرنکل چکے ہوں لیکن ۱۵؍ دنوں تک ۴۱؍ افراد کا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ وہاں محصور مزدور اس عرصے میں کس کیفیت سے دو چار رہے ہوں گے اوران کے اہل خانہ پر اس دوران کیاکچھ گزرتی رہی ہوگی، اس کو وہی محسوس کر سکتے ہیں ، جن میں حس ہے، انسانیت ہے اور جن کے سینوں میں پتھر نہیں بلکہ دل دھڑکتے ہیں ۔ اس دوران وہاں پھنسے مزدوروں کو خوراک اور ان کی دیگر بنیادی ضروریات کی چیزیں پہنچائی گئیں جن کا انہوں نے ضرورت بھر استعمال بھی کیا ہوگا لیکن سوچئے ! وہاں پھنسے کسی مزدور کے والدین نے اس دوران زندگی کی اپنی گاڑی کو کس کرب سے آگے کھینچا ہوگا؟ ان پر کیاکچھ گزری ہوگی؟ کسی مزدور کی بیوی کو راتوں میں کتنی نیند آئی ہوگی؟ اس کے دل میں کیا کیا خیال آئے ہوں گے؟ اور ان مزدوروں کے بچوں کی آنکھیں اپنے باپ کی راہ تکتے تکتے کس طرح پتھرائی ہوں گی؟کتنی ڈبڈبائی ہوں گی؟ اور ان ڈبڈبائی آنکھوں میں ان معصوموں کے خواب کتنی بار ڈوبے اور اُبھرے ہوں گے؟ 
ایسا بھی نہیں ہے کہ وزیراعظم کے ایک دورہ کرلینے سے ان کا کام جلدی ہوجاتا اوروہ جلدی باہر آجاتے البتہ اتنا ضرور ہے کہ وزیراعظم کے وہاں چلے جانے سے ان تمام کو تھوڑی تسلی مل جاتی اور وہ لوگ جو وہاں محصور ہیں ، انہیں بھی اور ان کے اہل خانہ کو بھی اس بات کاا حساس ہوجاتا کہ وہ ان کے اُس ۱۴۰؍ کروڑ والے ’پریوار‘ کا حصہ ہیں ، جس کا ذکر وہ اکثر اپنی انتخابی ریلیوں میں کرتے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ ان سطور کے لکھے جانے تک ان کی یہ حسرت پوری نہیں ہوسکی۔ البتہ اس درمیان ایک دن جب وہاں پھنسے مزدوروں کے باہر نکلنے کی امید کچھ پختہ ہوئی اور ان سے رابطے کی سبیل پیدا ہوگئی تو اُتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی ضرور وہاں پہنچے۔ فوٹو گرافروں کی موجودگی میں انہوں نے وہاں اندر پھنسے مزدوروں سے بات چیت کی اور انہیں تسلی بھی دی۔ 
ویسے یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب وزیراعظم اور ان کی حکومت نے ملک کو مایوس کیا ہو۔اس سےقبل بھی ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب ملک کے الگ الگ طبقوں نے الگ الگ موقعوں پر اپنے تعلق سے حکومت اور وزیراعظم کو لاتعلق پایا ہے۔منی پور کی مثال بالکل تازہ ہے۔ گزشتہ ۷؍ ماہ میں وہاں درجنوں خواتین کی اجتماعی آبروریزی کے واقعات سامنے آئے ہیں ۔ اس دوران سیکڑوں انسانی جانوں کا اتلاف ہوا ہے، ہزاروں زخمی اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں ... لیکن وزیراعظم مودی منی پور نہیں گئے۔ وہاں جانا تو بہت دور کی بات ہے، تشدد کی وارداتوں کے درمیان ۷۹؍ دنوں تک پوری طرح سے خاموش رہنے کے بعد وزیراعظم اُس وقت بولے جب ۲؍ خواتین کی برہنہ پریڈ سےمتعلق ایک ویڈیو سامنے آیا اور اس کی وجہ سے پورے ملک میں ایک ہنگامہ سا برپا ہوگیا۔۲۰؍ جولائی کو دیئے گئے ایک مختصر سے بیان کے علاوہ منی پور پر انہوں نے آج تک کوئی ٹھوس اور سنجیدہ بیان نہیں دیا۔ اس دوران انہوں نے آسٹریلیا اور امریکہ میں اپنے اعزاز میں منعقدہ تقاریب میں شرکت کی،ان کے علاوہ دوسرے کئی ممالک کے دورے کئے، کرناٹک کی انتخابی مہم میں پارٹی کی کامیابی کیلئے دن رات ایک کیا، جی ۔۲۰؍ کی تیاریوں کا از خود جائزہ لیا، پانچ ریاستوں میں جاری انتخابات کیلئے روڈ شوز کئے، ریلیاں کیں ۔ انتخابات کے تئیں ان کی ’سنجیدگی‘ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ حکومتی ذمہ داریوں کوچھوڑ کر لگاتار ۶؍ دنوں تک راجستھان میں ڈٹے رہےاور اب تلنگانہ چلے گئےہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس دوران انہوں نے بہت کچھ کیا، لیکن وہی نہیں کیا، جس کی توقع ان سے بجاطو ر پر کی جاتی رہی ہے۔ وہ منی پور اور اُترکاشی نہیں گئے۔
 مسلمانوں کو تو وہ شایدگنتے ہی نہیں ، لیکن جنہیں وہ اپنے ’پریوار‘ میں گنتے ہیں ، ان کے تئیں بھی حساس نظر نہیں آتے۔ وزیراعظم مودی سے یہ شکایت ملک کے کسانوں کو بھی ہے، جوانوں کو بھی ہے، طلبہ کو بھی ہے اور خاتون پہلوانوں کو بھی ہے۔ یہی وہ شکایتیں ہیں، جن کی وجہ سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت اور اس کے مکھیا یعنی وزیراعظم کی ترجیحات میں کیا ملک کے عوام بھی ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK