موسمی تغیرات، معاشی خستہ حالی اور بڑھتی فرقہ پرستی

Updated: January 09, 2022, 9:17 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

ان موضوعات پر ہماری حکومت اور ہمارا سماج ضروری اقدامات نہیں کررہا ہے۔ ڈر ہے کہ ہماری غفلت اسی طرح جاری رہی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

Climate change
موسمی تغیرات،

چند تبدیلیاں اتنی آہستہ خرامی کے ساتھ نئی نسل میں در آرہی ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ ان کے عواقب یا نتائج کی ذمہ داری لینے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔ ان تبدیلیوں میں موسمی اور ماحولیاتی تغیرات کو خاص طور پر شمار کیا جائیگا۔ اس عنوان پر غور کیجئے تو فوری طور پر گرین ہاؤس گیس، کلوروفلوروکاربن اور اوزون کی چادر میں سوراخ ہونے  کے بارے میں یاد آتا ہے جو ہم نے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں سنا تھا۔ ان سائنسی اصطلاحات اور حقائق کی تفصیل ہمارے اسکول کے دور میں یعنی آج سے کم و بیش ۳۵؍ برس قبل عام لوگوں کے علم میں آئی تھی۔ اس کے باوجود اتنے برسوں میں ان موضوعات پر کچھ کام نہیں ہوا۔ اس کی ایک وجہ وہ گروہ (لابی) ہے جو کاربن کے اخراج کو روکنا یا کم کرنا نہیں چاہتا بلکہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ تیل اور گیس کی صنعت دُنیا کی سب سے بڑی صنعت ہے جبکہ موٹر گاڑیوں کی صنعت یعنی آٹوموبائل انڈسٹری دُنیا کی دوسری سب سے بڑی صنعت ہے۔ یہی دو صنعتیں کاربن کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ اور ناخوشگوار موسمی تغیرات کی ذمہ دار ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے ماحولیات سے متعلق انتباہ پر سنجیدگی سے غور کیا نہ ہی متنبہ ہوئے۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اس سے آنے والی نسلوں پر کوئی خاص فرق یا اثر نہیں پڑے گا۔ سردی بڑھ جائے یا گرمی میں اضافہ ہوجائے یا برسات شدت پکڑ لے تو ہم ان سے بچاؤ کی تدبیر تو کرتے ہیں مگر اس مسئلہ کو اس کی پوری وسعت کے ساتھ دیکھنے کو تیار نہیں ہیں چنانچہ اپنا طرز زندگی بدلنا ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہوسکا ہے جبکہ ماہرین برابر توجہ دلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے ماحولیاتی تحفظ کی فکر ابھی نہیں کی تو پھر پانی سے سر سے اونچا ہوجائیگا۔ تب کرنے کیلئے بہت کچھ باقی نہیں رہے گا۔ 
 جن چند تبدیلیوں کے نئی نسل تک پہنچنے کی بات بالائی سطور میں کی گئی ہے اُن میں موسمی تغیرات کے بعد دوسری (تبدیلی) یہ ہے کہ معیشت ہماری توجہ کا مرکز نہیں بنی۔ ۲۰۱۴ء میں۵؍ کروڑ ہندوستانی زیادہ بر سرکار تھے آج کے مقابلے میں۔ وبائی حالات پیدا ہونے کے پہلے بھی برسرکار لوگوں کی تعداد زیادہ تھی جو اَب نہیں ہے۔ ۸۰۰؍ ملین لوگ ایسے ہیں (مجموعی آبادی کا ۶۰؍ فیصد) جو ماہانہ چھ کلو اناج پر منحصر ہیں۔ وبائی حالات شروع ہونے کے دو سال اور تین ماہ پہلے سے جی ڈی پی گر رہی ہے۔ اس سال ہماری معیشت کا حجم اُتنا ہی رہے گا جتنا کہ ۲۰۱۹ء میں تھا۔ ۲۰۱۴ء میں بنگلہ دیش فی کس جی ڈی پی کے معاملے میں ہم سے ۵۰؍ فیصد پیچھے تھا اَب ہم سے آگے نکل گیا ہے۔ ان تمام مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ ہم یہ اعتراف کریں کہ ہاں ہماری معیشت خستہ حالی کا شکار ہے اور اس کے لئے کچھ کیا جانا چاہئے۔ انسان سمت کا صحیح تعین اسی وقت کرپاتا ہے جب اسے احساس ہو اور وہ تسلیم کرے کہ جس راہ پر چل رہا ہے وہ منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ چونکہ ہم اس گمان میں ہیں کہ بالکل ٹھیک چل رہے ہیں اس لئے وہیں پہنچیں گے جہاں موجودہ راستہ لے جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ منزل کو جانے والا راستہ تو کوئی اور ہے۔
 تیسری حقیقت جس سے ہماری نئ نسل آگاہ نہیں ہوپارہی ہے اور اس نسل کے سرپرست خود بھی اسے گہرائی میں جاکر سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں، وہ فرقہ پرستی ہے۔ ہم آ ج بھی اس پر غیر جانب دارانہ اور بامعنی گفتگو کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کررہے ہیں۔ اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں اور مسلمانوں پر حملے اتنے عام ہوگئے ہیں کہ اب کسی واقعہ کی خبر اخبارات کے صفحہ ٔ اول تک میں جگہ نہیں پاتی۔ روزانہ کچھ نہ کچھ نیا ہورہا ہے جو کبھی کبھی حکومت کے ذریعہ یا برسراقتدار پارٹی کے لیڈروں کے اقدام یا بیان کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ موسمی تغیرات اور معیشت کی خستہ حالی ہی کی طرح یہ مسئلہ بھی ایسا ہے کہ جس سے نمٹا جاسکتا ہے مگر اس کیلئے درکار سیاسی عزم ہی پیدا نہیں ہورہا ہے۔ البتہ اس میں تھوڑا فرق ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومت نے جان بوجھ کر جی ڈی پی کی گروتھ کو روکا یا سبوتاژ کیا مگر یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستانی سماج میں پروان چڑھنے والی فرقہ پرستی شعوری کوشش یا دیدہ و دانستہ عمل ہے۔ 
 ان سب چیزوں کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ خدا نہ کرے مگر میرے ذہن میں مندرجہ ذیل باتیں آتی ہیں:
 معیشت کمزور ہی رہے گی۔ ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک فعال اور پُرجوش معیشت کو جس اعتماد کے ساتھ دیکھا جاتا ہے اور جس کے سبب سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے وہ اعتماد بجھا بجھا ساہے۔ سرمایہ بزدل ہے جو غیر یقینی صورتحال دیکھ کر بھاگ جاتا ہے۔ میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ خدانخواستہ ہجوم یا بھیڑ خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر تشدد اختیار کرنے کی راہ پر گامزن ہی رہے گی اور بیرونی ممالک کی جانب سے دباؤ بڑھے گا کیونکہ بیرونی دُنیا کسی ملک بالخصوص ہندوستان جیسے بڑے ملک کے حالات پر (بھلے ہی وہ داخلی اُمور ہوں) بہت دیر تک خاموش نہیں رہ سکتی۔ کسی نہ کسی انداز میں مداخلت کی ابتداء ہو بھی چکی ہے چنانچہ ہم نے دیکھا کہ ملک پر پابندیاں لگانے کی سفارش کی جاچکی ہے یہ الگ بات کہ اُن پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔
 مَیں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے سامنے جو نوجوان نسل ہے، اس کے کئی افراد کی زبردست طریقے سے ذہن سازی کی گئی ہے جس کے سبب یہ لوگ اپنے ہی ملک کے شہریوں میں سے کچھ کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔ جن اداروں کی تعمیر میں دہائیاں صرف ہوئیں، ان کا استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے۔مسلح افواج اور سول سروسیز سے وابستہ افراد میں بھی کئی ایسے ہیں جو حکومت کی طرز پر سوچنے لگے ہیں۔ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ یہ تبدیلی ہماری پسند اور مرضی سے آئی ہے چنانچہ اس سے ہونے والے نقصان کی جلد تلافی ممکن نہیں۔ لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی کے مصداق ہمیں نتائج کو بھگتنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ خدا کرے کہ یہ اندیشے غلط ثابت ہوں اور ہم جتنی جلد ہوسکے یہ سمجھ لیں کہ جو کچھ ہورہا ہے اس میں اپنا ہی نقصان ہے مگر کون سمجھ رہا ہے یہ باتیں؟n  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK