مہمان نوازی کی تہذیب کو فراموش نہیں کیا جاسکتا

Updated: October 02, 2020, 12:25 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

اس مشینی دور میں لوگ اپنے آپ میں سمٹ گئے ہیں، پھر مصروفیت بھی بڑھ گئی ہے اس لئے مہمان نوازی بار محسوس ہونے لگی ہے

Hospitality - PIC : INN
مہمان نوازی ۔ تصویر : آئی این این

اخلاقیات کاایک نمایاںباب مہمان نوازی ہے جس کو تما م مذاہب اور سماج میںاہم مقام حاصل ہے۔ مذہب اسلام میں بطورِ خاص مہمان نوازی کے آداب تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں؛ حتیٰ کہ مہمان نوازی کے عمل کو ایمان کا تقاضا قرار دیا گیا ہے، چنانچہ ایک حدیث پاک میں نبی اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جوشخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے مہمان کی تکریم کرنی چاہئے۔‘‘ (مسلم) چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کے اندر اُنسیت کا مادہ ودیعت فرمایا ہے، اس لئے عام حالاتِ زندگی میں فطری طور پر لوگوں کے اندر مہما ن نوازی کا جذبہ پایااور دیکھا جاتا ہے لیکن ا صل آزمائش اُس وقت ہوتی ہے جب حالاتِ زندگی معمول کے مطابق نہ ہوں؛ مثال کے طور پرکسی کو اضافی کام ہو کرنا ہو اور اس کی وجہ سے اُس کی مصروفیت بڑھ جائے تو بسا اوقات یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اُس مصروف شخص سے مہمان نوازی میں کوتاہی ہوجاتی ہے۔ ایسا دراصل دو عمل کے درمیان عدمِ توازن کی و جہ سے ہوتا ہے؛ ا س وجہ سے ہمیں ایسا طریقہ اپنانا چاہئے جس کی وجہ سے ہماری مصروفیت اور مہمان نوازی کے درمیان توازن برقرار رہے ۔
مہمان نوازی کے حوالے سے ایک خاص امر کی طرف ہماری توجہ ضروری ہے کہ مہمان بننے یا بنانے کے لئے رشتہ دار یا شناسا ہونا لازمی نہیں ہے بلکہ ایک اجنبی بھی ہمارا مہمان ہوسکتا ہے۔ شریعت کی تعلیم سے بھی یہ واضح ہے کہ اگر کوئی اجنبی بھی ہمارے  پاس آجائے تو وہ بھی ہمارا مہمان ہے اور اس کے ساتھ بھی مہمان نوازی کے تمام آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمیں پیش آنا چاہئے۔ اس طرز عمل کی بہترین نظیر قرآن پاک میں موجود ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کیا تیرے پاس ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی بات پہنچی ہے، جب وہ ان کے پاس گئے تو انہیں سلام کیا، ابراہیمؑ نے بھی جواب میں کہا، سلام (اور کہا) انجانے لوگ ہیں۔ پھر اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک پلا ہوا بچھڑا (بھون کر) لائے اور ان کے قریب کیا، فرمایا تم کھاتے کیوں نہیں؟‘‘ ( الذاریات، ۲۴۔۲۷)
ان آیات سے جہاں یہ بات واضح ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اجنبی لوگوں کو اپنا مہمان سمجھا، جنہیں قرآن نے بھی حضرت ابراہیمؑ کا مہمان قرار دیا ہے، وہیں ان آیات سے مہمان نوازی کے کچھ زرین اصولوں کا بھی ہمیں علم ہوتا ہے کہ مہمانوں سے بات چیت کی ابتدا ء سلام و جواب سے ہو، انہیں کھانے پینے کے لئے عمدہ چیز پیش کی جائے اور پھر اس کے بعد اگر وہ اجنبی ہے تو بہتر یہ ہے کہ وہ خود اپنا تعارف اور آنے کا مقصد بتلائے۔
جب ہم اپنے ماضی کا مطالعہ کرتے  ہیں تو ہمیں بکثرت ایسے واقعات مل جاتے ہیں جن سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پہلے کے لوگ اپنے علاقے میں آنے والے اجنبی لوگوں کو بخوشی مہمان بنا لیا کرتے تھے اور ان کی خدمت اور تواضع کو اپنے لئے لازم سمجھتے تھے۔ اس حوالے سے دل کو چھو لینے والے ایک واقعہ کا ذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ رات کو لکھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک مہمان آ گیا۔ چراغ بجھ رہا تھا، مہمان چراغ درست کرنے کے لئے اٹھنے لگا تو عمر بن عبد العزیزؒ نے کہا: ’’مہمان سے خدمت لینا کرم و شرف کے خلاف ہے۔‘‘ مہمان نے کہا: ’’خادم کو جگا دیتا ہوں‘‘، عمرؒ نے فرمایا: ’’وہ ابھی ابھی سویا ہے، اسے اٹھانا مناسب نہیں‘‘، چنانچہ خود اٹھے اور تیل کی بوتل سے چراغ بھر کر روشن کر دیا، جب مہمان نے کہا کہ’’آپ نے خود ہی یہ کام کر لیا ہے؟‘‘ تو فرمایا: ’’میں پہلے بھی عمر تھا اور اب بھی وہی ہوں، میرے اندر کوئی بھی کمی نہیں ہوئی، اور انسانوں میں اچھا وہ ہے جو اللہ کے ہاں متواضع ہے۔‘‘ (منہاج المسلم)
کسی اجنبی مہمان کا حق اس قدر ہے کہ اگر میزبان توجہ نہ دے تو مہمان کو یہ حق ہے کہ وہ میزبان کو اپنی جانب از خودمتوجہ کرے اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانیت کے ناطے ایک غریب الوطن شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی خبر گیری کی جائے اور اس کی ضروریات کا خیال رکھاجائے۔ چنانچہ ایک حدیث میں اسی نکتے کو بیان کیا گیا ہے۔حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں: ’’میں نے آقائے مدنی رسول  اللہ ﷺ سے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ ﷺ! (اگر) آپ ﷺ ہمیں کسی قوم کے پاس بھیجیں اور وہ لوگ ہماری ضیافت نہ کریں تو آپ کی رائے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’میں بتاتا ہوں کہ مہمان کو کیا کرنا چاہئے؟ جب تم کسی قوم کے پاس جاؤ، تو تم انہیں (اپنی مہمان نوازی کی طرف) متوجہ کرو۔‘‘ (الادب المفرد)
ہمارے معاشرے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بسا اوقات حقیقی ضرورتمند مسافر ہمارے ارد گرد گھومتے نظر آتے ہیں اور ہم اپنے کاموں میں اس قدر مشغول ہوتے ہیں کہ ان کی طرف توجہ نہیں دے پاتے  اور کبھی کبھی وسعت کے باوجود ان سے دامن چھڑاتے ہیں۔ اس حوالے سے یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں وہ حضرات جو اجنبی مسافر کو مہمان بنانے میں تردد نہیں کرتے اور  ان کی ضروریات کا خیال رکھ کر انسانیت کے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ کورونا وائرس کے بعد نقل مکانی کرنے والے حضرات کی مدد اور ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دینے کے مناظر نے ہمارے درمیان موجود دونوں طبقوں کو بہت نمایاں کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیماتِ اسلامی سے روشنی حاصل کرکے مہمان نوازی کے باب میں اپنا کردار وسعت بھر ادا کرنے کی ضرور کوشش کریں۔
مذکورہ تفصیل کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ چیزیں جاننے اور سیکھنے کی ہیں۔ اس لئے جہاں عمومی طور پر اخلاقیات کے باب میں اسلامی تعلیم کو ہم خود پڑھیں، سیکھیں اور اس پر عمل کریں وہیں اپنے بچوں کیلئے اس بات کا خاص اہتمام کریں کہ وہ اخلاقیات پڑھیں،سیکھیں اور عملی زندگی میں اس کو اپنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم مثالی  مہمان نواز معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK